ہفتہ، 24 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کراچی میں بچوں کی اینیمیٹڈ پورنوگرافی میں ملوث گرفتار ملزمان سے تفتیش میں اہم انکشافات


کراچی کے علاقےگلستان جوہر میں بچوں کی اینیمیٹڈ پورنوگرافی میں ملوث گرفتار ملزمان سے تفتیش میں اہم انکشافات سامنے آگئے۔


  این سی سی آئی اے نے دو روز قبل گلستان جوہر میں کارروائی کرتے ہوئے 42 افرادکو حراست میں لیا  جن میں سے 13 افراد کو باقاعدہ گرفتارکیا گیا۔


این سی سی آئی اے کے مطابق تینوں کمپنیوں کے پیچھے ایک ہی شخص ملوث ہے، تین مرحلوں میں یہ کمپنیاں کام کرتی تھیں، سوشل میڈيا پر بچیوں اور لڑکیوں کے اکاؤنٹس بناکر امریکا اور جرمنی سے کلا ئنٹس ڈھونڈے جاتے تھے۔


گرفتار ملزمان خواتین کے نام سے جعلی سوشل میڈیا آئی ڈیز بنا کر بچوں کی اینیمیٹڈ پورن کلپس اپ لوڈ کر تے تھے جس کے بعد بعض افراد ان سے یہ کلپس خریدتے تھے، جب کہ کچھ افراد اپنی فرمائش پر اینیمیڈ کلپس تیار کرواتے تھے۔ملزمان کلپس فراہم کرنےکے بعد متعلقہ خریداروں کو شواہد کی بنیاد پر بلیک میل بھی کرتے تھے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر این سی سی آئی اے شہزاد اکبر کے مطابق انڈر ایج بچوں کو پورنوگرافک کارٹونز اور پرو ڈکشن کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، نیچرل پرسن کے اواتار پورنوگرافک میٹریل تیار کیے جاتے تھے، کلا ئنٹس کو اپنی لائبریری کے تیار مٹیریل بھی سیل آؤٹ کیے جاتے تھے اور کسٹمائزڈکنٹینٹ پر بھی کام ہوتا تھا جہاں بچے آرڈر کے مطابق کام کیا کرتے تھے۔


ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے طارق نواز کے تفتیش کے دوران ملزمان سے سپر امپوزڈکلپس کے شو اہد بھی ملے ہیں، جن کے حوالے سے مزید تفتیش کی جارہی ہے،اندیشہ ہے کہ ملزمان انسانی چہروں کی بھی جعلی تصاویر بنا کر خریداروں کو فراہم کیا کرتے تھے۔


ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کا دائرہ  وسیع کرتے ہوئے یہ بھی دیکھا جارہا ہےکہ خریدار ملزمان میں ملکی اور غیر ملکی کتنے ہیں تاکہ اس نیٹ ورک کے دیگر کرداروں اور اس کے پھیلاؤ کا تعین کیا جاسکے اور کار روائی کی جاسکے،گرفتار ملزمان کو آج عدالت میں پیش کرکے چار روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا گیا ہے۔