علی محمد فرشی استاد شاعر ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر
نقطہ نظر
علی محمد فرشی اردو کے ان چند گنے چنے باکمال فنکاروں اور صاحبانِ بصیرت میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے شاعری کو صرف ایک وقتی جذبے یا الہام تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے باقاعدہ علمی، عروضی اور فکری کسوٹی پر پرکھ کر ادب کے خزانوں میں اضافہ کیا۔ ان کا ادبی سفر روایتی غزل سے شروع ہو کر جدید نظم، جاپانی ہائیکو اور پنجابی کی لوک صنف ماہیا تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کی شخصیت اور کام کا مطالعہ اردو ادب کے اس اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے جہاں کلاسیکی روایت اور جدید تجربات ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں۔
علی محمد فرشی کا بنیادی تعلق ضلع جہلم کے ایک علمی و روایتی ماحول سے تھا۔ جہلم کی زمین نے ہمیشہ سے بڑے ادیبوں، فکر پرور ذہنوں اور فطرت کے دلدادہ شاعروں کو جنم دیا ہے۔ اسی زرخیز مٹی اور پرسکون فضا نے ان کے اندر کی شعری حسیت کو جلا بخشی اور انہیں بچپن ہی سے زبان و بیان، بالخصوص اردو اور فارسی کی کلاسیکی شاعری کا دلدادہ بنا دیا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی زندگی میں ہی فارسی اور اردو شعرا کے کلام کا عمیق مطالعہ شروع کر دیا تھا، جس نے آگے چل کر ان کے پختہ عروضی علم کی بنیاد رکھی۔ جہلم سے راولپنڈی کی طرف ان کی نقل مکانی صرف ایک جغرافیائی سفر نہیں تھا بلکہ یہ ان کی ادبی اور پیشہ ورانہ زندگی کا ایک نیا باب ثابت ہوا۔ راولپنڈی پہنچ کر وہ یہاں کے ادبی منظر نامے کا باقاعدہ اور متحرک حصہ بن گئے۔ راولپنڈی کی تحریکی اور متحرک ادبی فضا نے فرشی صاحب کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے ایک وسیع اور موزوں میدان فراہم کیا۔ وہ راولپنڈی آ کر نہ صرف مقیم ہوئے بلکہ جلد ہی یہاں کے ادبی حلقوں، مشاعروں اور تنقیدی نشستوں کی روحِ رواں بن گئے۔ راولپنڈی کے اداروں، پرنٹنگ پریسوں اور ادبی مجلوں کے ساتھ ان کی وابستگی نے ان کی شناخت کو ایک مقامی شاعر سے اٹھا کر بین الاقوامی سطح کے اردو ادیب میں تبدیل کر دیا۔
علی محمد فرشی کی علمی اور ادبی خدمات کا دائرہ انتہائی وسیع اور کثیر الجہت ہے۔ وہ محض شعر کہنے والے فنکار نہیں تھے بلکہ اردو شاعری کی فنی، لسانی اور صحافتی بنیادوں کو مضبوط کرنے والے ایک ماہرِ فن بھی تھے۔ ان کا سب سے نمایاں علمی کارنامہ علمِ عروض پر ان کی کامل اور سائنسی دسترس تھا۔ اردو ادب میں ایسے شعرا خال خال ہی ملتے ہیں جو عروض کے پیچیدہ اوزان، بحروں اور فنی باریکیوں پر اس قدر مضبوط گرفت رکھتے ہوں۔ انہوں نے اپنی اس مہارت کو صرف اپنے کلام تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عام قارئین اور نئے شعرا تک پہنچانے کے لیے روزنامہ جنگ میں "علم العروض" کے عنوان سے ایک باقاعدہ اور طویل کالم تحریر کیا۔ اس کالم کے ذریعے انہوں نے علمِ عروض کی گہرائیوں، مشکل بحروں اور اشعار میں ہونے والی فنی غلطیوں کو انتہائی سادہ، عام فہم اور دلکش انداز میں پیش کیا۔ اس سلسلے نے بے شمار نو آموز اور پیشہ ور شعرا کو عروض کی باریکیاں اور وزن کی کسوٹی پر شعر پرکھنے کے گر سکھائے۔ راولپنڈی کے ادبی اجلاسوں میں بھی وہ ایک استاد کا درجہ رکھتے تھے، جہاں وہ نئے لکھنے والوں کے اشعار کی اصلاح کرتے اور ان کی عروضی تربیت فرماتے تھے۔ علمی خدمات کے اسی سلسلے میں ان کا صحافتی اور تدوینی کام بھی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے راولپنڈی سے ایک باوقار ادبی سہ ماہی جریدہ "سمبل" جاری کیا اور طویل عرصے تک اس کے مدیر رہے۔ اس مجلے نے اردو کی جدید شاعری، تنقیدی مباحث، اور بالخصوص ہائیکو اور ماہیا جیسی اصناف کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ "سمبل" نے اپنے دور میں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے اردو دانوں کو ایک معیاری فکری اور ادبی پلیٹ فارم فراہم کیا۔
علی محمد فرشی نے اردو شاعری کی کئی اہم اصناف میں طبع آزمائی کی اور ہر صنف میں اپنا ایک الگ اور باوقار اسلوب قائم کیا۔ انہوں نے غزل، جدید نظم، جاپانی صنف ہائیکو اور پنجابی کی لوک صنف ماہیا میں یکساں مہارت سے لکھا۔ ان کی غزلوں میں روایتی اور جدید بحروں کا انتہائی خوبصورت اور عروضی استعمال دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے مشکل بحروں کو بھی ایسی روانی اور سادگی سے برتا کہ شعر میں کسی قسم کا بوجھل پن محسوس نہیں ہوتا۔ ان کی غزل کا موضوع محبت اور کلاسیکی روایت کے ساتھ ساتھ جدید زندگی کی الجھنیں اور باطنی حسیت پر مبنی ہے۔ اسی طرح ان کی جدید نظم میں فکری گہرائی، تنہائی، صنعتی اور شہری زندگی کے خوف اور انسانی وجود کے سنگین مسائل کو نہایت صفائی اور گہرائی کے ساتھ ڈھالا گیا ہے۔ انہوں نے روایتی علامتوں کے بجائے اپنے ماحول سے نئی علامتیں تراش کر جدید نظم کے دامن کو وسیع کیا۔ فرشی صاحب کا ایک اور بڑا تاریخی اور انقلابی کارنامہ اردو میں جاپانی صنف ہائیکو اور پنجابی لوک صنف ماہیا کا باقاعدہ رواج ہے۔ ہائیکو کو اردو کی لسانی اور عروضی ساخت کے مطابق تین مصرعوں اور پانچ، سات، پانچ کے ارکان پر ڈھال کر انہوں نے ثابت کیا کہ اردو زبان دنیا کی کسی بھی صنف کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی طرح پنجابی کے ماہیا کی مٹھاس، لَی اور فراق کا درد انہوں نے اردو لباس میں پیش کر کے لوک اصناف کو قومی زبان کا حصہ بنایا۔ اس متنوع اور منفرد طبع آزمائی نے انہیں اپنے عہد کے دیگر شعرا سے یکسر ممتاز اور ایک منفرد فنی مقام پر فائز کر دیا۔
علی محمد فرشی کے شعری و ادبی مجموعے اردو ادب کا گرانقدر سرمایہ ہیں، جو ان کے فکری ارتقا اور اصنافی تنوع کی کامل عکاسی کرتے ہیں۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ "شب رفتہ کا خواب" ان کی ابتدائی دور کی شاعری کا خوبصورت عکس ہے، جس میں روایتی جذبوں، خواب ناک احساسات اور نئی لسانی تشکیلات کا امتزاج ملتا ہے۔ ان کا دوسرا غزلوں کا مجموعہ "پہلی آواز" ہے، جس میں غزل کے تلازمے، بحور پر ان کی حیرت انگیز گرفت اور انسانی نفسیات کے گہرے پہلو نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں۔ ان کی پختہ کاری اور جدید حسیت کا بہترین شاہکار مجموعہ "دیوار پہ سایہ" ہے، جس میں تنہائی، شہر کی بے حسی اور وجودی مسائل کو علامتوں کے ذریعے ڈھالا گیا ہے۔ ان کا مجموعہ کلام "علینہ" جو راولپنڈی سے شائع ہوا، ان کے اس مخصوص اور منفرد اسلوب کی نمائندگی کرتا ہے جس میں مقامی ماحول اور فطرت کو شعری روپ دیا گیا ہے۔ جاپانی صنف ہائیکو اور مختصر نظموں پر مشتمل ان کی مشہور کتاب "تیز ہوا میں جنگل مجھے بلاتا ہے" اردو ادب میں ہائیکو نگاری کو باقاعدہ فکری و عروضی اعتبار سے قائم کرنے والی ایک بنیاد مانگی جاتی ہے، جس میں فطرت کے منظر نامے اور انسانی احساسات کے لمحاتی نقوش بکھرے ہوئے ہیں۔ پنجابی لوک صنف کو اردو میں منتقل کرنے کا زبردست نمونہ ان کی کتاب "دکھ لال پرندہ ہے" ہے، جس میں اردو ماہیا کی ساخت کے تحت درد، ہجر اور لوک رنگ کی ایسی خوبصورت کیفیت پیش کی گئی ہے جو قاری کے دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔
مجموعی طور پر علی محمد فرشی ایک ایسے باکمال شاعر، عروض داں اور مدیر کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جنہوں نے شاعری کو الفاظ کے کھوکھلے کھیل کے بجائے ایک سنجیدہ علمی اور فنی تخلیق کا درجہ دیا۔ ان کے کلام میں موجود فکری صفائی، عروضی پختگی، اور نئی اصناف کے کامیاب تجربات اردو ادب کے تاریخی سرمائے کا ایک انمول اور تابناک حصہ ہیں، جو آنے والی نسلوں اور نئے شعرا کی ہمیشہ رہنمائی کرتے رہیں گے۔

مزید پڑھیں





