اتوار، 1 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ایکسچینج بائنانس سے اربوں ڈالرز کے اثاثے چوری،کونسا ملک ملوث؟


ایف بی آئی نے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس سے 6 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے ڈیجیٹل اثاثوں کی چوری میں شمالی کوریا کو ملوث قرار دیدیا۔


کرپٹی کرنسی بائنانس پر تاریخ کے سب سے بڑے 6.3 ارب ڈالر کے کرپٹو حملے کے پیچھے شمالی کوریا کے ایلیٹ ہیکنگ یونٹ ’ٹریڈر ٹریٹر‘ کا ہاتھ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔


ایک بیان میں ایف بی آئی نے کہا کہ کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس سے 6 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے ڈیجیٹل اثاثوں کی چوری میں شمالی کوریا ملوث ہے، شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز چوری شدہ اثاثے ایتھیر یم میں تبدیل کر رہے ہیں چوری شدہ ڈیجیٹل اثاثوں کی مزید منی لانڈرنگ کا خدشہ ہے۔


سائبر سیکیورٹی ماہرین اور بلاک چین انٹیلی جنس اداروں کے مطابق ’ٹریڈر ٹریٹر‘ شمالی کوریا سے منسلک ایک ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والا ہیکنگ یونٹ ہے، جسے عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی چوری کرنے والے انتہائی منظم سائبر گروپس میں شمار کیا جاتا ہے۔


واضح رہے کہ غیر ملکی میڈیا کے مطابق کرپٹو ایکسچینج بائنانس کو سائبر حملے کا سامنا ہے اور اس حملے کے نتیجے میں تقریباً 6.3 ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے متاثر ہوئے ہیں بائنانس نے سکیورٹی چیکس مکمل ہونے تک عارضی طور پر تمام deposits اور withdrawls بھی روک دیے ہیں جبکہ کمپنی نے تمام نقصانات خود پورا کرنے کااعلان بھی کیا ہے۔ 


ماہرین اسے وسیع تر ’لازارس گروپ‘کے نیٹ ورک کا حصہ قرار دیتے ہیں، جسے پیانگ یانگ کے سائبر آپریشنز سے منسلک کیا جاتا ہے۔


لازارس گروپ کا نام 2009 کے لگ بھگ سامنے آنے والی سائبر کارروائیوں سے جوڑا جاتا ہے، جبکہ اس کے ساتھ منسلک ہیکرز پر 2014 میں سونی پکچرز پر سائبر حملے اور 2016 میں بنگلہ دیش بینک سے بڑی رقم چوری کرنے کی کوشش سمیت متعدد سنگین کارروائیوں کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔


اس ہیکنگ نیٹ ورک کا نام ایک ایسے میل ویئر سے منسوب ہے جسے بظاہر جائز کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ سافٹ ویئر کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔


اس کا مقصد کرپٹو انڈسٹری سے وابستہ ماہرین اور پیشہ ور افراد کو ایسے سافٹ ویئر کی طرف راغب کرنا تھا جو بظاہر تجارت اور مارکیٹ کی پیش گوئیوں میں معاونت فراہم کرتا دکھائی دیتا تھا، لیکن در حقیقت اس کے ذریعے سائبر جرائم کے لیے راستہ ہموار کیا جاتا تھا۔


ٹریڈر ٹریٹر پر اس سے قبل بھی کرپٹو کرنسی کی بڑی چوریوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔

فروری 2025 میں کرپٹو ایکسچینج بائی بٹ پر ہونے والے سائبر حملے میں تقریباً 1.5 ارب ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری ہوئی تھی، جسے اس وقت تاریخ کی سب سے بڑی کرپٹو چوری قرار دیا گیا تھا, امر یکی ایف بی آئی نے اس واقعے کو شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز کے ساتھ جوڑا تھا۔


اسی طرح اپریل 2026 میں کیلپ ڈی اے او  پر ہونے والا سائبر حملہ بھی شمالی کوریا سے منسلک ہیکنگ سرگرمیوں کے حوالے سے زیرِ بحث آیاحالیہ بائننس حملے کے بعد ان واقعات کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان کے پیچھے ایک ہی سائبر نیٹ ورک سرگرم تھا یا نہیں۔


ماہرین کے مطابق شمالی کوریا کے لیے کرپٹو کرنسی کی چوری محض سائبر جرائم کا معاملہ نہیں بلکہ عالمی پابندیوں کے باعث محدود مالی وسائل کے حصول کا ایک اہم ذریعہ بھی سمجھی جاتی ہے۔


آکسفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر ایڈورڈ ہاویل کے حوالے سے بی بی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پروگراموں کے تقریباً 40 سے 50 فیصد اخراجات سائبر اور کرپٹو کرنسی سے متعلق کارروائیوں سے حاصل ہونے والی رقوم سے پورے کیے جاتے ہیں۔


اس تناظر میں کرپٹو کرنسی ایکسچینجز پر ہونے والے حملوں کو شمالی کوریا کی مالی اور سائبر حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حملوں کے ذریعے حاصل ہونے والی رقوم عالمی پابندیوں کے باوجود ملک کے عسکری اور جوہری پروگراموں کی مالی معاونت میں استعمال ہو سکتی ہیں۔


شمالی کوریا ماضی میں اس نوعیت کے سائبر جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔ حالیہ بائننس حملے کے حوالے سے جنیوا میں شمالی کوریا کے مشن نے بھی تاحال ان الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔


دوسری جانب امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے ٹریڈر ٹریٹر کو متعدد بڑے کرپٹو کرنسی حملوں سے منسلک کیا جا چکا ہے، تاہم بائننس کے حالیہ واقعے میں ذمہ داری کے تعین اور شواہد کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔


سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ واقعہ عالمی کرپٹو کرنسی انڈسٹری کے لیے ایک بڑا انتباہ ہے کہ ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے منظم ہیکنگ نیٹ ورکس نہ صرف ڈیجیٹل مالیاتی نظام کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ ان کی کارروائیاں عالمی معیشت اور مالیاتی تحفظ کے لیے بھی سنگین چیلنج بن سکتی ہیں۔