پیر، 19 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بریسٹ کینسر،بروقت تشخیص، معاشرتی خاموشی اور زندگی کی جنگ،تحریر: محمد راشد تبسم

نقطہ نظر

بریسٹ کینسر (چھاتی کا سرطان) آج دنیا بھر میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص خواتین کی صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور گلوبوکان کے اعداد و شمار کے مطابق، ایشیا بھر میں بریسٹ کینسر کی سب سے زیادہ شرح پاکستان میں ہے، جہاں ہر 9 خواتین میں سے ایک کو اپنی زندگی میں اس مرض کا خطرہ لاحق ہے۔ وطن عزیز میں خواتین میں پائے جانے والے کینسرز میں سے 44 فیصد صرف چھاتی کے کینسر پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے ہر سال بریسٹ کینسر کے تقریباً 43,721 نئے کیسز سامنے آتے ہیں، اور ہر سال تقریباً 40 ہزار خواتین اس مرض سے جان کی بازی ہار جاتی ہیں۔ اگر اس مرض کی بروقت تشخیص ہو جائے، تو اس کا کامیاب علاج سو فیصد تک ممکن ہے۔

بریسٹ کینسر کی ابتدائی علامات سے واقف ہونا ہر خاتون کے لیے بے حد ضروری ہے۔ ان ابتدائی علامات میں سب سے عام علامت چھاتی یا بغل کے حصے میں کسی نئی گلٹی یا غیر معمولی سختی کا محسوس ہونا شامل ہے۔ چھاتی کی اندرونی ساخت، شکل یا بیرونی جلد میں اچانک تبدیلی آنا، جیسے کہ جلد کا مالٹے کے چھلکے کی طرح کھردراہو جانا، یا نپل کی شکل کا بدل کر اندر کی طرف مڑ جانا، اور نپل سے غیر معمولی مائع یا خون کا اخراج ہونا بھی اس کی چند نمایاں ترین علامات میں شمار ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس مرض کی وجوہات میں عمر کا بڑھنا ، کینسر کی خاندانی تاریخ، اور مخصوص جینیاتی تبدیلیاں یا وراثتی جینز(جیسے BRCA1 اور BRCA2 میوٹیشنز)، موٹاپا، اور غیر متحرک طرز زندگی شامل ہیں۔یہ بات یاد رہے کہ چھاتی میں پیدا ہونے والی ہر گلٹی یا سوجن کینسر نہیں ہوتی، لیکن جسم میں کسی بھی قسم کی نئی، غیر معمولی تبدیلی کو ہرگز نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے طبی معائنہ کروانا انتہائی ضروری ہے۔

پاکستان جیسے روایتی معاشرے میں عمومی طور پر چھاتی کی صحت یا جسمانی ساخت پر کھلے عام گفتگو کرنے کو بے حد معیوب، نامناسب اور شرم کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ خواتین اکثر شرم و حیا ، سماجی بائیکاٹ یا طلاق کے خوف کے سبب اپنی علامات کو قریبی رشتہ داروں یہاں تک کہ شوہر یا ماوں سے بھی چھپاتی ہیں۔ اس کے علاوہ،خواتین لیڈی ڈاکٹرز کی عدم دستیابی، مرد ڈاکٹروں سے طبی معائنہ کروانے کی ہچکچاہٹ اور کینسر کے علاج میں اپنی نسوانیت یا جسمانی اعضاءکے کھو جانے کا ڈر بھی انہیں طبی ماہرین کے پاس جانے سے سختی سے روکتا ہے۔ اس خوف اور غلط فہمیوں کی وجہ سے مریض مستند علاج کے بجائے دم درود اور اتائیوں کے پاس جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں مرض مزید خطرناک اور لاعلاج حد تک پھیل جاتا ہے۔

چھاتی کے کینسر سے بچاﺅ کے لیے خواتین کا ہر ماہ اپنی چھاتی کا خود معائنہ کرنا کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ جسم میں کسی بھی غیر معمولی علامت یا مشکوک گلٹی کے نمودار ہونے کی صورت میں بلا تاخیر کسی مستند طبی ماہر سے کلینیکل معائنہ کروانا ضروری ہے۔ بیماری کی سو فیصد اور حتمی تشخیص کے لیے الٹراساو¿نڈ، میموگرافی اور طبی ضرورت پڑنے پر بایوپسی (Biopsy) کا کردار بھی انتہائی بنیادی اور اہم ہوتا ہے۔ یہ تمام جدید اسکریننگ ٹیسٹ جسم میں کینسر کے خلیات کی موجودگی اور اس کی خطرناک نوعیت کو مکمل طور پر واضح کر دیتے ہیں۔ اسی طرح خواتین اپنی موجودہ عمر، ذاتی طبی خطرات، اور کینسر کی خاندانی تاریخ کے تناظر میں باقاعدہ اسکریننگ پروگرامز کے لیے اپنے معالج سے لازمی مشورہ کریں۔

چھاتی کے کینسر جیسے جان لیوا مرض نمٹنے کے لیے پورے خاندان، بالخصوص شوہر، والدین اور قریبی رشتہ داروں کا مثبت اور حوصلہ افزا کردار انتہائی اہم ہے۔ خاندان کی طرف سے تعاون نہ ملنے کی صورت میں ایک خاتون کے لیے علاج کے کٹھن مراحل (سرجری، کیموتھراپی، ریڈیو تھراپی) سے گزرنا ناممکن ہے۔ بدقسمتی سے دیہی علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولیات کا فقدان اور شہروں تک سفر کے اخراجات بھی علاج کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ دوسری جانب کینسر کے درست اسکریننگ ٹیسٹ، آپریشن اور انتہائی مہنگی ادویات دور دراز دیہاتوں کے غریب خاندانوں کی استطاعت سے بالکل باہر ہیں۔حکومت اور نجی اداروں کو چاہیے کہ وہ دور دراز علاقوں میں موبائل میموگرافی کلینکس اور خواتین ڈاکٹرز کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔

طبی ماہرین کے مطابق علاج کے عمل میں کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر بیماری کے مزید بڑھنے، کینسر کے خطرناک خلیات کے دوسرے اعضاءتک تیزی سے پھیلنے، اور علاج کے طویل اور پیچیدہ ہونے کا انتہائی سنگین خطرہ پیدا کرتی ہے۔ آج کی جدید طب میں بیماری کے موجودہ مرحلے اور نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے سرجری، کیموتھراپی، ہارمون تھراپی، اور ریڈیوتھراپی جیسے انتہائی جدید اور موثر علاج کے کئی مختلف آپشنز موجود ہیں۔ ہمیں بحیثیت مجموعی عوام کو یہ واضح اور مضبوط پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ بریسٹ کینسر کی تشخیص زندگی کا فوری خاتمہ ہرگز نہیں ہے۔ اگر یہ بیماری پہلے یا دوسرے اسٹیج پر پکڑی جائے، تو اس کا علاج 99 فیصد تک کامیاب ہو سکتا ہے اور بہت سے مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو کر ایک نارمل، خوشگوار اور صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خوف کو شکست دیں، اپنی صحت کو ترجیح دیں اور معاشرتی خاموشی کو توڑیں۔ بروقت تشخیص ہی وہ واحد راستہ ہے جو اس جنگ میں ہماری خواتین کو فتح یاب کر سکتا ہے۔اس عالمی مرض کی مکمل روک تھام حکومت، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا، نامور طبی ماہرین اور مجموعی طور پر ہمارے معاشرے کے ہر ایک باشعور فرد کی ایک مشترکہ اور بڑی قومی ذمہ داری ہے۔