جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

برطانوی اداکار رسل برانڈ پر چھ خواتین سے جنسی زیادتی کا الزام

مصنف:

برطانوی کامیڈین اور اداکار رسل برانڈ کے خلاف ریپ اور جنسی زیادتی کے مقدمے کی سماعت شروع ہوگئی ہے، جہاں استغاثہ نے الزام عائد کیا ہے کہ اداکار نے ایک دہائی کے دوران 6 خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔ استغاثہ نے انہیں ایک بے رحم جنسی شکاری قرار دیا ہے۔


خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق 51 سالہ رسل برانڈ کے خلاف لندن کی ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ میں مقدمے کی ابتدائی کارروائی کے دوران پراسیکیوٹر ریل کارمی جونز نے جیوری کو بتایا کہ مبینہ واقعات 1999 سے 2009 کے درمیان پیش آئے۔ اداکار پر ریپ کے 3، جنسی زیادتی کے 3 اور غیر اخلاقی حملے کا ایک الزام ہے۔ رسل برانڈ تمام الزامات سے انکار کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دے چکے ہیں۔پراسیکیوٹر کے مطابق خواتین ایک دوسرے کو نہیں جانتی تھیں اور مبینہ واقعات مختلف مقامات پر پیش آئے، جن میں ہوٹل کا کمرہ، دفاتر، لندن کے ایک بار کا بیت الخلا اور اداکار کی رہائش گاہ شامل ہیں۔


استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ رسل برانڈ اس وقت جنسی تعلقات کی شدید خواہش رکھتے تھے اور خواتین کو اپنی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہ بظاہر خوش مزاج اور دلکش شخصیت کے مالک تھے، تاہم استغاثہ کے مطابق ان کا رویہ حساب کتاب پر مبنی، چالاک اور دوسروں کو اپنے قابو میں رکھنے والا تھا۔مقدمے میں الزام ہے کہ 1999 میں برطانوی لیبر پارٹی کی سالانہ کانفرنس کے موقع پر بورن ماؤتھ میں ایک ہوٹل کے کمرے میں ایک خاتون کو مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت رسل برانڈ کامیڈی کی دنیا میں ابھرتے ہوئے فنکار تھے اور کانفرنس کے ضمنی پروگرام میں پرفارم کر رہے تھے۔ایک دوسری خاتون نے الزام لگایا کہ 2001 میں اداکار نے اسے اس دفتر کی عمارت میں مردوں کے بیت الخلا کی جانب گھسیٹنے کی کوشش کی جہاں وہ کام کرتی تھی۔استغاثہ کے مطابق تیسری خاتون نے الزام عائد کیا کہ 2004 میں لندن کے ایک بار کے بیت الخلا میں رسل برانڈ نے اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ خاتون کے روکنے کے مطالبے پر اداکار نے مبینہ طور پر اسے کہا کہ وہ مزہ خراب نہ کرے۔


دیگر الزامات میں 2004 یا 2005 کے دوران لندن کے ایک ریڈیو اسٹیشن پر خاتون کو بوسہ دینے اور نازیبا انداز میں چھونے، 2009 میں ایک شو کے دوران ملاقات کے بعد 21 سالہ مداح کو اپنی رہائش گاہ پر ریپ کا نشانہ بنانے اور اسی سال ایک اشتہار کی ریکارڈنگ کے دوران خاتون سے مساج کا مطالبہ کرتے ہوئے اس کے جسم کے حساس حصے کے ساتھ چہرہ دبانے کے الزامات شامل ہیں۔پراسیکیوٹر نے جیوری کو بتایا کہ مبینہ متاثرہ خواتین نے واقعات کے وقت شکایات درج نہیں کرائیں۔ ان کے مطابق خواتین کو احساسِ جرم، شرمندگی اور اس خدشے کا سامنا تھا کہ انہیں ہی قصوروار ٹھہرایا جائے گا۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ مقدمے کی آئندہ کارروائی میں خواتین کے بیانات سنے جائیں گے۔


رسل برانڈ نے پولیس انٹرویوز کے دوران بھی کسی کی رضامندی کے بغیر جنسی تعلق قائم کرنے کی تردید کی ہے۔ وہ ضمانت پر ہیں اور بدھ کو عدالت پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ فکرمند ضرور ہیں، تاہم انہیں امید ہے کہ عدالتی کارروائی تمام متعلقہ افراد کے لیے بہتر نتائج کا باعث بنے گی۔رسل برانڈ 2000 کی دہائی کے اوائل میں ٹیلی ویژن پروگراموں اور بی بی سی کے ریڈیو شو کے ذریعے شہرت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ وہ ہالی ووڈ کی فلموں میں بھی کام کر چکے ہیں۔ حالیہ برسوں میں انہوں نے مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ سے دور ہو کر امریکا کی ریاست فلوریڈا میں رہائش اختیار کی اور آن لائن ویڈیوز کے ذریعے بڑی تعداد میں ناظرین حاصل کیے، جن میں صحت و تندرستی، سازشی نظریات اور مذہبی موضوعات پر گفتگو شامل ہے۔