Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

حوصلہ کامیابی کی سیڑھی،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

نقطہ نظر
Malik Zafar

صورتحال کا اگر گہرائی اور حقیقت پسندی سے جائزہ لیا جائے تو بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں وسائل کم اور مسائل زیادہ ہیں۔ لیکن جب ہم زمینی حقائق سے پردہ اٹھاتے ہیں تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وسائل موجود ہیں، مسائل کے حل کے لیے ادارے بھی موجود ہیں، منصوبے بھی بنتے ہیں اور بجٹ بھی مختص ہوتے ہیں، مگر اصل ضرورت اس سوچ کی ہے جو دستیاب وسائل کو عوامی ضرورت کے مطابق استعمال کرنے کا عزم رکھتی ہو۔

کسی بھی معاشرے کی ترقی صرف بڑے منصوبوں سے نہیں ہوتی بلکہ اس وقت ہوتی ہے جب عام آدمی کے روزمرہ مسائل کو بھی اہمیت دی جائے۔ ایک ٹوٹی ہوئی سڑک کسی افسر کے لیے شاید ایک فائل کا معاملہ ہو، لیکن ایک طالب علم، مزدور، کسان، ملازم یا موٹر سائیکل پر اپنے بچوں کو سکول چھوڑنے والے والدین کے لیے یہی سڑک روزانہ کی آزمائش بن جاتی ہے۔

18 فور ایل تا چیک پوسٹ روڈ اور 22 فور ایل تا 31 فور ایل روڈ کے مسائل بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔

یہ سڑکیں صرف اینٹ، بجری، تارکول اور مٹی کا نام نہیں بلکہ ہزاروں لوگوں کی روزمرہ زندگی، روزگار، تعلیم، علاج معالجہ اور آمدورفت سے جڑی ہوئی ہیں۔

گزشتہ کئی برسوں سے 18 فور ایل تا چیک پوسٹ روڈ پر سفر کرنے والے شہری مشکلات کا سامنا کرتے رہے۔ کہیں سائیکل پنکچر، کہیں موٹر سائیکل کا توازن خراب، کہیں بچوں کو سکول پہنچانے کی فکر اور کہیں مریض کو منزل تک لے جانے کی پریشانی—یہ وہ مسائل ہیں جن کا احساس وہی شخص کرسکتا ہے جو خود اس راستے سے گزرتا ہے۔

اسی طرح 22 فور ایل سے 31 فور ایل تک رابطہ سڑک کا معاملہ بھی مقامی آبادی کے لیے طویل عرصے سے ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔

مسئلہ صرف سڑک کا نہیں، سوچ کا بھی ہے

ترقی یافتہ معاشروں میں یہ اصول تسلیم کیا جاتا ہے کہ ریاستی وسائل کا فائدہ ہر شہری تک پہنچنا چاہیے۔ پنجاب حکومت نے بھی دیہی رابطہ سڑکوں کی تعمیر و بحالی کو اپنے روڈز پروگرام میں شامل کرنے اور دیہات کو بہتر سڑکوں سے منسلک کرنے کی اہمیت بیان کی ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ جب ایک مسئلہ برسوں تک موجود رہے تو اسے حل کرنے کے لیے اجتماعی آواز کب بلند ہوتی ہے؟

یہاں ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر ادارے اور ہر سرکاری افسر کو موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں۔ سرکاری نظام میں بہت سے افسران اور اہلکار اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، مگر بعض اوقات ترجیحات، وسائل کی تقسیم، انتظامی رکاوٹیں یا نگرانی کا کمزور نظام کسی منصوبے کی رفتار کو متاثر کرتا ہے۔

اسی لیے عوامی مسائل کے حل کے لیے تنقید کے ساتھ مثبت تعاون بھی ضروری ہے۔

روڈ بحالی کمیٹی—ایک مثبت مثال

18 فور ایل تا چیک پوسٹ روڈ اور دیگر رابطہ سڑکوں کے حوالے سے عوامی آواز کو منظم کرنے میں روڈ بحالی کمیٹی اور اس سے وابستہ تمام افراد کی کاوشیں قابلِ ذکر ہیں۔

اس کمیٹی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے ذاتی یا جماعتی اختلافات کو عوامی مسئلے کے سامنے ثانوی حیثیت دی۔ جس شخص نے سڑک کی بحالی کے لیے آواز اٹھائی، وہ قابلِ تحسین ہے، چاہے اس کا سیاسی تعلق کسی بھی جماعت سے ہو۔

یہی وہ سوچ ہے جسے ہم اجتماعی سوچ کہتے ہیں۔

جب لوگ یہ سمجھنے لگیں کہ:

> *"یہ مسئلہ صرف میرے گھر کا نہیں، پوری بستی کا مسئلہ ہے"*

تو پھر معاشرے میں شعور پیدا ہوتا ہے اور مسائل کے حل کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے۔

آج کا دور اطلاعات اور رابطے کا دور ہے سوشل میڈیا نے عام شہری کو اپنی آواز حکام تک پہنچانے کا ایک مؤثر ذریعہ فراہم کیا ہے۔ اس حوالے سے ان تمام سوشل میڈیا کارکنوں، صحافیوں، لکھاریوں اور میڈیا نمائندوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے جنہوں نے سڑکوں اور عوامی مسائل کو اجاگر کیا۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ کوئی مسئلہ صرف سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بننے کی وجہ سے حل ہوتا ہے۔ اصل کامیابی اس وقت ہے جب عوامی آواز، منتخب نمائندوں کی توجہ، انتظامیہ کی عملی کارروائی اور متعلقہ محکمے کی محنت ایک نقطے پر جمع ہوجائے۔

ہماری خواہش ہمیشہ یہی ہونی چاہیے کہ عوام کو اپنے جائز بنیادی مسائل کے لیے پہلے ٹرینڈ بنانے کی ضرورت ہی نہ پڑے، بلکہ متعلقہ ادارے مسئلے کی نوعیت اور عوامی ضرورت کو دیکھتے ہوئے بروقت کارروائی کریں۔

اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اوکاڈہ ،ایم پی اے میاں یاور زمان ،

ایم این اے چوہدری ریاض الحق جج اور متعلقہ قومی و صوبائی سطح کے نمائندگان کا بھی شکریہ ادا کیا جانا چاہیے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے آواز اور توجہ فراہم کی گئی۔

ضلعی انتظامیہ اوکاڑہ بھی اس اجتماعی کوشش میں شکریے کی مستحق ہے کہ سڑکوں اور دیہی رابطہ نظام سے متعلق عوامی مطالبات کو عملی سطح پر آگے بڑھانے کی کوششیں کی گئیں۔

یہ شکریہ کسی سیاسی وابستگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ عوامی مفاد میں ہونے والی مثبت پیش رفت کی حوصلہ افزائی کے طور پر ہے۔

کیونکہ جب حکومت، منتخب نمائندگان، انتظامیہ، میڈیا اور عوام ایک مسئلے کے حل کے لیے ایک سمت میں چلیں تو نتیجہ نکلنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

18 فور ایل تا چیک پوسٹ روڈ کی بحالی کے حوالے سے اگر موجودہ پیش رفت واقعی تکمیل کے آخری مراحل تک پہنچ رہی ہے تو یہ صرف ایک سڑک کی تعمیر نہیں بلکہ ایک اجتماعی سوچ کی کامیابی ہے۔

اس کامیابی کا کریڈٹ کسی ایک شخص کو نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کو ملنا چاہیے جنہوں نے کسی نہ کسی شکل میں اپنا کردار ادا کیا۔

کسی نے مسئلہ اٹھایا، کسی نے آواز کو آگے بڑھایا، کسی نے قلم استعمال کیا، کسی نے تصویر بنائی، کسی نے انتظامیہ تک بات پہنچائی، کسی نے منتخب نمائندوں سے رابطہ کیا اور کسی نے عملی طور پر متعلقہ محکمے کے ساتھ رابطہ رکھا۔

یہی جمہوری اور عوامی عمل کی خوبصورتی ہے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ بعض اوقات ہم اجتماعی مسائل کو بھی ذاتی عینک سے دیکھنا شروع کردیتے ہیں۔ اگر سڑک میرے گھر کے سامنے نہیں تو مجھے اس سے کیا؟ اگر نالی میرے گھر کے باہر نہیں تو مجھے کیا؟ اگر سکول دوسرے گاؤں میں ہے تو مجھے کیا؟

یہ سوچ معاشروں کو پیچھے لے جاتی ہے۔

اس کے برعکس اگر ایک شخص دوسرے کے مسئلے کو اپنا مسئلہ سمجھ لے تو یہی سوچ معاشرے کو ترقی کی طرف لے جاتی ہے۔

سوچ جب انفرادیت سے نکل کر اجتماعیت اختیار کرتی ہے تو شعور پیدا ہوتا ہے، شعور سے اتحاد جنم لیتا ہے، اتحاد سے آواز مضبوط ہوتی ہے اور مضبوط آواز بالآخر مسائل کے حل کا ذریعہ بنتی ہے۔

18 فور ایل اور 22 تا 31 فور ایل کی سڑکوں کا معاملہ ہمیں ایک بڑا سبق دیتا ہے کہ مسائل خواہ کتنے ہی پرانے کیوں نہ ہوں، اگر نیت مثبت، مقصد عوامی اور کوشش مسلسل ہو تو تبدیلی کا راستہ پیدا کیا جاسکتا ہے۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سڑک کی تعمیر صرف ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں۔ ایک اچھی سڑک طالب علم کو سکول تک، مریض کو ہسپتال تک، کسان کو منڈی تک، مزدور کو روزگار تک اور عام شہری کو اپنے روزمرہ معاملات تک آسان رسائی فراہم کرتی ہے۔

اسی لیے دیہی سڑک کو محض تعمیراتی منصوبہ سمجھنا درست نہیں؛ یہ تعلیم، صحت، زراعت، روزگار اور معاشی سرگرمیوں کا بنیادی رابطہ بھی ہے۔

آخر میں ہم ایک مرتبہ پھر روڈ بحالی کمیٹی، اس کے تمام اراکین، میڈیا سیل، سوشل میڈیا کارکنان، صحافی برادری، منتخب نمائندگان، ایم پی اے میاں یاور زمان، ایم این اے چوہدری ریاض الحق جج اور ضلعی انتظامیہ اوکاڑہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس مسئلے کو اجاگر کرنے اور حل کی طرف لے جانے میں اپنا اپنا کردار ادا کیا۔

یہی اتحاد مستقبل کے دیگر عوامی مسائل کے حل کا راستہ بھی ہموار کرسکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اردگرد بسنے والے لوگوں کے دکھ درد کو سمجھنے، ان کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھنے اور ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر اجتماعی بھلائی کے لیے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

کیونکہ حوصلہ ہو تو راستے نکلتے ہیں،

اتحاد ہو تو آواز مضبوط ہوتی ہے،

اور جب سوچ اجتماعی ہوجائے تو کامیابی صرف خواب نہیں رہتی۔