کرپٹو کرنسی ،فائدہ یا دھوکا؟ تحریر: مریم ڈار، قسط نمبر 4
نقطہ نظر
بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسی کی قیمت آخر بنتی کیسے ہے؟
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ کرپٹو کرنسی کی قیمت بنتی کیسے ہے؟ آخر اس میں ایسا کیا ہے کہ آج کل لوگ اسے خریدنے کے لیے بڑی بڑی رقمیں خرچ کرتے ہیں؟ اور پھر کبھی ایسا کیوں ہوتا ہے کہ اس کی قیمت چند گھنٹوں میں ہزاروں روپے بڑھ جاتی ہے اور کبھی اچانک نیچے آ جاتی ہے؟
کرپٹوکرنسی کی مارکیٹ بنیادی طور پر دو اصولوں پر کام کرتی ہے پہلا معشیات کا اصول جسے طلب اور رسد کہتے ہیں ۔جب کسی کرپٹو کرنسی کو خریدنے والے زیادہ ہوں تو کرنسی موجودہ قیمت کے اوپر جا کر فروخت کی جا سکتی ہے اس کے برعکس اگر فروخت کرنے والے زیادہ ہوں خریدار کم ہو چکے ہیں تو قیمت کے نیچے جا کے فروخت کی جا سکتی ہے ۔ تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ صرف خریداروں کی تعداد ہی نہیں طے نہیں کرتی خریدار کتنی قیمت دینے کو تیار ہیں فروخت کرنے والے کتنی قیمت مانگ رہے ہیں ۔
دوسرا اور کاریگر اصول افواہ یا سپیکولیشن کا ہے کہ مارکیٹ کا رحجان کس طرف ہے۔؟
اب یہ دیکھتے ہیں کہ کرپٹو کی قیمت کون مقرر کرتا ہے۔ بٹ کوائن کی قیمت کون مقرر ہوتا ہے ۔یہاں ایک دلچسپ بات سامنے آتی ہے کہ بٹ کوائن کی کوئی مرکزی کمپنی یا حکومت روزانہ اس کی قیمت مقرر نہیں کرتی ہے، بٹ کوائن مختلف کرپٹو ایکسچینجز پر خر یدا اور بیچا جاتا ہے ایکسچینج ایسے آن لائن مارکیٹ ہوتی ہے جہاں خریدار اور فروخت کرنے والے آپس میں لین دین کرتے ہیں مثال کے طور پر ایک شخص بٹ کوائن خریدنے کے لیے ایک لاکھ ڈالر دینے کو تیار ہے جبکہ دوسرا شخص اسے ایک لاکھ د س ڈالر میں فروخت کرنا چاہتا ہے جب خریدار اور فروخت کرنے والے کی قیمت پر اتفاق ہو جاتا ہے تو لین دین ریکارڈ ہو جاتا ہے یوں مختلف خریداروں اور فروخت کرنے والوں سے مارکیٹ کی قیمت تشکیل پا تی ہے، یاد رہے کہ مختلف ایکسچینجز پر قیمت میں معمولی فرق لازمی ہوتا ہے یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ بٹ کوائن کی تعداد محدود ہے اب ایک اور اہم سوال ہے کہ بٹ کوائن کی قیمت میں اس کی تعداد کومحدود کیوں رکھا گیا ہے بٹ کوائن کے نظام کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ نئے بٹ کوائن بننے کا عمل ایک مقررہ طریقہ کار کے مطابق چلتا ہے اس کی زیادہ سے زیادہ تعداد دو کروڑ 10 لاکھ روپے رکھی گئی ہے اس کا مطلب ہے عام طور پر کسی بھی مرکزی ادارے کے پاس اختیار نہیں ہے کہ وہ لا محدود نئے بٹ کوائن جاری کرسکے، جب کسی چیز کی دستیابی محدود ہو اور اسے حاصل کرنے کی خواہشمند افراد بڑھ جائیں تو اس کی قیمت بڑھ سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ بٹ کوائن کی محدود تعداد کو اہم خصوصیت میں شمار کرتے ہیں لیکن یہاں غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے کہ کسی چیز کی تعداد محدود کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کی قیمت لازمی بڑھے گی اگر لوگوں کی دلچسپی کم ہو جائے اور خریدار پیچھے ہٹ جایئں ، مارکیٹ میں منفی خبریں پھیل جائیں تو محدود رسد کے باوجود اس کی قیمت گر جاتی ہے خبروں کا کرپٹو مارکیٹ پر 99 ٪ اثر پڑتا ہے فرض کریں کہ خبر سامنے آتی ہے کوئی بڑی اور مشہور کمپنی بٹ کوائن میں سرمایہ کرنے جا رہی ہے تو اس خبر سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ جاتا ہے اور وہ بٹ کوائن خریدنے لگتے ہیں جس سے پھر قیمت میں اضافہ ہو تا ہے اب اس کے برعکس صورتحال دیکھیں اگر کسی ملک میں کرپٹو سے متعلق پابندیوں کا اعلان ہو جائے یا کسی بڑے ایکسچینج میں فراڈ یا سکیورٹی کے خرابی کی خبر سامنے آئے تو سرمایہ کار تحقیق کرنے ے پہلے ہی خوف زدہ ہو جاتے ہیں کچھ لوگ اپنی کرپٹوکرنسے فروخت کرنا شروع کر دیتے ہیں جس سے قیمت کا دباؤ بڑھتا ہے ۔قیمت کو متاثر کرنے والے چند عوامل یہ ہیں
طلب اور رسد : کتنے لوگ خریدتے ہیں کتنے فروخت کرتے ہیں
خبریں حکومتی پالیساں: قوانین ، پابندیاں اور اداروں کے فیصلے
سرمایہ کاروں کا اعتماد : مارکیٹ کے مستقبل کے بارے میں لوگوں کی توقعات
عالمی معاشی حالات : شرح سود افراطِ زر اور سرمایہ کاری کے دوسرے ذرائع
بڑی خریدو فروخت : بڑے سرمایہ کاروں کی سودے بازیاں حالات میں نمایاں تبدیلی لا سکتی ہیں۔
یہ عوامل ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اس لیے قیمت کی تبدیلی کی وجہ ایک ہی نہیں ہوتی ، یہاں یہ بھی بتاتی چلوں کہ بٹ کوائن کی قیمت صرف قیاس آرائی پر بھی نہیں چلتی اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں دو باتوں میں فرق کرنا ہوگا،
پہلی بات یہ کہ بعض لوگ بٹ کوائن کو اس کی ٹیکنالوجی محدود رسد اور مستقبل میں ممکنہ استعمال کی بنیاد پر خریدتے ہیں۔
دوسری بات یہ کہ کچھ لوگ صرف اس امید پر خریدتے ہیں کہ اسے بعد میں زیادہ قیمت پر فروخت کر کے منافع کمائیں گے اس طرزِ عمل کو قیاس رائی یا سپیکولیشن کہتے ہیں ۔
مارکیٹ کیپ کو اب دوبارا سمجھتے ہیں مارکیٹ کیپ کو معلوم کرنے کے لیے بنیادی طریقہ یہ ہے کہ مارکیٹ کیپ برابر ہے ایک کوائن کی موجودہ قیمت× گردش میں موجود کوائن کی تعداد
مثال کے طور پر اگر کسی کریپٹو کی قیمت 10 لاکھ ڈالر ہو اور گردش میں بھی اس کے 10 لاکھ کوائن موجود ہوں تو اس کی مارکیٹ کیپ دس لاکھ ڈالر ہوگی کرپٹو کرنسی کی مجموین مارکیٹ ویلیو کا ایک اندازہ دیتا ہے تا ہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اتنی ہی رقم حقیقت میں اس کرپٹو کرنسی کی سرمایہ کاری کی صورت میں موجود ہے ۔
اس لیے کسی بھی کرپٹو کرنسی میں پیسہ لگانے سے پہلے تحقیق کرنا، اس کے منصوبے کو سمجھنا اور اپنے مالی حالات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
پانچویں قسط میں ہم وہ سمجھیں گے جس کا آپ سب کو انتظار ہے یعنی کہ کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت (ٹریڈنگ) کیا ہوتی ہے، ٹریڈر اور سرمایہ کار میں کیا فرق ہے، اور سپاٹ ٹریڈنگ اور فیوچر ٹریڈنگ کے درمیان بنیادی فرق کیا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر صرف تعلیمی اور معلوماتی مقصد کے لیے ہے۔ کرپٹو اثاثوں میں قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ، فراڈ، سکیورٹی اور دیگر مالی خطرات موجود ہو سکتے ہیں۔ یہ کسی مخصوص کرپٹو اثاثے کو خریدنے یا بیچنے کا مشورہ نہیں۔۔
مزید پڑھیں





