کرپٹو کرنسی ،فائدہ یا دھوکا؟تحریر:مریم ڈار،تیسری قسط
نقطہ نظر
کوائن اور ٹوکن میں کیا فرق ہے؟پہلی قسط میں ہم نے کرپٹو کرنسی کوسمجھنے کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہ روایتی کرنسی سے کس طرح مختلف ہے اور دوسری قسط میں صرف بلاک چین اور اس کے پورے نظام کو سمجھا۔ آج ہم کرپٹو کی دنیا کے ایک ایسے حصے کو سمجھیں گے جس پر نئے آنے والے اکثر الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔
آپ نے بِٹ کوائن، ایتھیریم، یو ایس ڈی ٹی، سولانا، ڈوج کوائن اور نہ جانے کتنے نام سنے ہوں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب ایک ہی چیز ہیں یا ان میں کوئی فرق بھی ہے؟ پہلے ایک آسان مثال لیتے ہیں۔ ہر ملک کی اپنی کرنسی ہے۔ پاکستان میں روپے استعمال ہوتے ہیں۔ اسی طرح کسی دوسرے ملک کی اپنی کرنسی ہوتی ہے۔ کرپٹو کی دنیا میں بھی کچھ کریپٹو کرنسیز اپنی الگ بلاک چین رکھتی ہیں۔ ایسی کریپٹو کرنسی کو عام طور پر کوائن کہا جاتا ہے۔ بِٹ کوائن ایک کوائن ہے، کیونکہ بِٹ کوائن اپنی الگ بلاک چین پر چلتا ہے۔ اسی طرح ایتھر، جسے عام طور پر ایتھیریم کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے، بھی ایک کوائن ہے۔ ایتھیریم اپنی بلاک چین رکھتا ہے اور اس کے نیٹ ورک پر استعمال ہونے والی اصل کریپٹو کرنسی ایتھر( ای ۔ٹی ۔ایچ )ہے۔
ٹوکن کو سمجھنے کے لیے فرض کریں کہ ایک بڑی عمارت موجود ہے۔ اس عمارت کا اپنا پورا نظام ہے، لیکن اسی عمارت کے اندر مختلف دکانیں، سروسز اور ادارے کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اپنا مخصوص ٹوکن یا ڈیجیٹل اثاثہ جاری کر سکتا ہے، مگر وہ لازماً اپنی الگ بلاک چین نہیں بناتا۔بہت سے ٹوکن پہلے سے موجود بلاک چین کے اوپر بنائے جاتے ہیں۔مثلاً ایتھیریم ایک بلاک چین ہے اور اس بلاک چین پر ہزاروں مختلف ٹوکنز بنائے جا سکتے ہیں۔ یعنی ہر ٹوکن کے لیے نئی بلاک چین بنانا ضروری نہیں۔کوائن عموماً اپنی بلاک چین کا حصہ ہوتا ہے، جبکہ ٹوکن کسی موجودہ بلاک چین کے اوپر بنایا جا سکتا ہے۔ کرپٹو کی دنیا صرف بِٹ کوائن اور ایتھیریم تک محدود نہیں۔ اس کو بنانے والے آنے والی صدی میں اسی کو سکہ رائج الوقت دیکھتے ہیں کچھ کریپٹو کرنسیز ادائیگی کے لیے بنائی گئیں، کچھ ایسے منصوبوں کے لیے جن کا مقصد روایتی مالیاتی نظام کے متبادل بننا ہے۔
اب یہ سمجھنا ہے کہ اگر بِٹ کوائن ڈیجیٹل کرنسی ہے تو لوگ اسے کہاں خریداری کرنے کے لئے خریدتے ہیں اور کیوں ؟ اس کی کئی صورتیں ہیں۔کچھ لوگ بِٹ کوائن کو ایک ڈیجیٹل اثاثہ سمجھ کر طویل مدت کے لیے رکھتے ہیں۔ کچھ لوگ اس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے مستقبل کی مالیاتی ٹیکنالوجی کا حصہ سمجھتے ہیں۔لیکن یہاں ایک بہت اہم بات سمجھنا ضروری ہے۔کسی کریپٹو کرنسی کی قیمت بڑھ جانا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ ہمیشہ بڑھتی رہے گی۔کرپٹو مارکیٹ میں قیمتیں بہت تیزی سے اوپر بھی جا تی ہیں اور نیچے بھی آ جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف کسی دوست، سوشل میڈیا پوسٹ یا کسی انفلوئنسر کی بات سن کر کریپٹو کرنسی خرید لینا دانش مندی نہیں۔اگر کوئی شخص آپ سے کہے:"یہ کوائن آج خرید لو، کل اس کی قیمت دس گنا ہو جائے گی!"تو فوراً پیسے لگانے کے بجائے پہلے اس سوال کا جواب تلاش کریں:کہ یہ منصوبہ کیا ہے اوراسے کس نے بنایا ہے؟اس کا مقصد کیا ہے؟اس کی بلاک چین کون سی ہے؟اس کے پیچھے حقیقی ٹیکنالوجی یا استعمال موجود ہے یا صرف وائرل شور ہے؟اور سب سے اہم سوال اگر قیمت گر گئی تو کیا میں اس نقصان کو برداشت کر سکتا ہوں؟یہ سوالات اس لیے ضروری ہیں کیونکہ کرپٹو کی دنیا میں ہر کوائن ایک جیسا نہیں ہوتا۔کچھ منصوبے حقیقی ٹیکنالوجی اور استعمال کے ساتھ بنائے جاتے ہیں، جبکہ کچھ صرف لوگوں کی دلچسپی اور سپیکولیشن یعنی جوا کی وجہ سے مقبول ہو جاتے ہیں۔
یہاں ہمیں ایک اور اصطلاح مارکیٹ کیپیٹل آئزیشن یعنی مارکیٹ کیپ ملتی ہے ۔ سادہ زبان میں مارکیٹ کیپ کسی کریپٹو کرنسی کی مجموعی مارکیٹ ویلیو کا ایک اندازہ ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے عموماً کریپٹو کرنسی کی موجودہ قیمت کو گردش میں موجود کوائنز یا ٹوکنز کی تعداد سے ضرب دی جاتی ہے۔مثلاً اگر کسی کوائن کی قیمت 10 ڈالر ہو اور مارکیٹ میں اس کے 10 لاکھ کوائنز گردش کر رہے ہوں تو اس کی مارکیٹ کیپیٹل آئزیشن تقریباً 10 ملین ڈالر ہوگی۔ مگر یاد رکھیں صرف قیمت دیکھ کر یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ کون سا کوائن سستا یا مہنگا ہے۔ اس کے لیے اس کی ٹوٹل سپلائی ، گردشی سپلائی اور مارکیٹ کیپیٹل آئزیشن سمیت کئی چیزیں دیکھنا پڑتی ہیں۔
اگلی قسط میں ہم اس سوال کی طرف جائیں گے جس کا جواب ہر نئے شخص کے لیے بہت اہم ہے:بِٹ کوائن اور کریپٹو کرنسی کی قیمت آخر بنتی کیسے ہے؟آخر کوئی ڈیجیٹل چیز ہزاروں ڈالر کی کیوں ہو جاتی ہے؟ کون اس کی قیمت طے کرتا ہے؟ اور جب کوئی مرکزی بینک اس کی قیمت مقرر نہیں کر رہا تو پھر مارکیٹ میں اس کی قیمت اوپر نیچے کیوں ہوتی رہتی ہے؟
مزید پڑھیں





