Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خوابوں سے حقیقت تک، تحریر : طاہر محمود ملک

نقطہ نظر
tahir mahmood

ہر عہد اپنے ساتھ ایک نئی دنیا لاتا ہے، مگر ہمارا عہد تبدیلی کی ایسی رفتار لے کر آیا ہے جس نے وقت کو بھی تیز کر دیا ہے۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے مٹا دیے، معلومات کو لمحوں کا سفر بنا دیا اور مصنوعی ذہانت نے مستقبل کے وہ دروازے کھول دیے جن کا تصور کبھی سائنس فکشن کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔


اس تیزی سے بدلتی دنیا کے عین وسط میں نوجوان نسل کھڑی ہے؛ آنکھوں میں خواب، دل میں امید اور سامنے ایک ایسا مستقبل جس کی سمت ابھی پوری طرح واضح نہیں۔


آج کا نوجوان گزشتہ نسلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مواقع رکھتا ہے۔ دنیا کی بہترین معلومات اس کی انگلیوں پر ہیں، وہ گھر بیٹھے نئی مہارتیں سیکھ سکتا ہے، اپنی صلاحیت دنیا کے سامنے پیش کر سکتا ہے اور سرحدوں سے ماورا مواقع تلاش کر سکتا ہے۔ مگر مواقع کے ساتھ مقابلہ بھی بڑھ گیا ہے۔


اب نوجوان کا مقابلہ صرف اپنے شہر یا ملک سے نہیں، پوری دنیا سے ہے۔


سماجی ذرائع ابلاغ نے دنیا کو قریب ضرور کیا ہے، لیکن اس نے ایک عجیب نفسیاتی دباؤ بھی پیدا کیا ہے۔ دوسروں کی کامیابیاں، آسائشیں اور مسکراتی تصویریں دیکھ کر نوجوان کبھی کبھی اپنی حقیقی زندگی کو ناکام سمجھنے لگتا ہے۔


حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر مسکراتی تصویر کے پیچھے لازماً ایک مطمئن زندگی نہیں ہوتی۔


یہی وہ مقام ہے جہاں خاندان، تعلیمی اداروں اور معاشرے کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ نوجوانوں کو صرف نصاب نہیں، زندگی سمجھنے کا شعور بھی دینا ہوگا۔ انہیں صرف کامیابی حاصل کرنے کا طریقہ نہیں، ناکامی سے دوبارہ اٹھنے کا حوصلہ بھی دینا ہوگا۔


کیونکہ کامیابی صرف دولت، شہرت یا عہدے کا نام نہیں۔ حقیقی کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنی صلاحیت کو اپنے لیے بھی مفید بنائے اور دوسروں کے لیے بھی۔


مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی آنے والے برسوں میں روزگار، تعلیم اور کاروبار کے انداز مزید بدل دیں گی۔ کچھ کام ختم ہوں گے، نئے شعبے پیدا ہوں گے اور وہی نوجوان آگے بڑھ سکے گا جو سیکھنے کو ایک مستقل سفر سمجھے گا۔


مستقبل ان لوگوں کا نہیں جو تبدیلی سے خوف زدہ ہوتے ہیں؛ مستقبل ان کا ہے جو تبدیلی کو سمجھ کر اسے اپنے حق میں استعمال کرنا جانتے ہیں۔


لیکن ہمیں ایک سوال خود سے بھی کرنا ہوگا: کیا ہم اپنے نوجوانوں کو وہ ماحول دے رہے ہیں جس میں وہ اپنے خواب پورے کر سکیں؟


کیا انہیں معیاری تعلیم، باوقار روزگار، مثبت رہنمائی اور اظہار کے مناسب مواقع میسر ہیں؟


نوجوان کو صرف نصیحت نہیں، موقع چاہیے۔ صرف تنقید نہیں، رہنمائی چاہیے۔ صرف خواب دیکھنے کی آزادی نہیں، خواب کو حقیقت بنانے کا راستہ بھی چاہیے۔


نوجوان کسی قوم کا صرف مستقبل نہیں، اس کا آج بھی ہے۔ اگر اس کے ہاتھ میں علم، ذہن میں شعور، دل میں انسانیت اور کردار میں مضبوطی ہو تو وہ معاشرے کی سمت بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔


آج ایک نوجوان کے ہاتھ میں صرف ایک موبائل فون نہیں؛ اس کے ہاتھ میں مستقبل کی کنجی ہے۔


اس کی آنکھوں میں صرف ایک خواب نہیں؛ ایک نئی دنیا کا امکان ہے۔


اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو بدلتے ہوئے زمانے کا صرف تماشائی بناتے ہیں یا اس کا معمار۔


کیونکہ قوموں کی تقدیر صرف عمارتوں، سڑکوں اور ٹیکنالوجی سے نہیں بدلتی؛ قوموں کی تقدیر ان نوجوان ذہنوں سے بدلتی ہے جو خواب دیکھنے کے ساتھ انہیں حقیقت میں ڈھالنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔


اور شاید آنے والے کل کی سب سے خوبصورت تصویر یہی ہوگی کہ آج کا نوجوان صرف اپنے مستقبل کو روشن نہ کرے، بلکہ اپنے علم، کردار اور عمل سے پوری انسانیت کے مستقبل میں روشنی بھر دے۔