Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس:ایم ایل ون کی تعمیر ریلوے اراضی کے کمرشل استعمال سے کرانے کا فیصلہ


وزیر اعظم کی زیر صدارت پاکستان ریلوے میں اصلاحات اور ایم ایل ون منصوبے سے متعلق جائزہ اجلاس میں وزیراعظم نے مین لائن ون یعنی ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کے کام کو تیز کرنے اور پاکستان ریلوے میں کارپوریٹ طرز کی اصلاحات نافذ کرنے کی ہدایت کردی۔


وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن پاکستان ریلوے کی ترقی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، منصوبے کی تکمیل سے مسافروں کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی جبکہ مال بردار ٹرینوں کی نقل و حمل میں بھی اضافہ ہوگا۔


اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایم ایل ون کی تعمیر کے لیے ریلوے کی اربوں روپے مالیت کی نشاندہی شدہ ارا ضی کو کمرشل بنیادوں پر بروئے کار لایا جائے،ریلوے کی قیمتی املاک میں موجود حقیقی تجارتی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضر ورت ہے تاکہ یہ اثاثے قومی معیشت اور ریلوے کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرسکیں۔


وزیراعظم نےکہا کہ پاکستان ریلوے کو مضبوط اور معاشی طور پر خود کفیل بنانے کے لیےکارپوریٹ طرز کی اصلاحات حکومت کی ترجیحا ت میں شامل ہیں، انہوں نے ریلوے کو منافع بخش بنانے اور اس کے آپریشنز کو بہتر کرنے کے لیے وزیر ریلوے کی کوششوں کو بھی سراہا۔


اجلاس میں وزیراعظم نے ریلوے کی اراضی پر مختلف کمرشل منصوبوں کے ذریعے بینک فنانسنگ حاصل کرکے ایم ایل ون کی تعمیر کے لیے فنڈز فراہم کرنے کی منظوری دی،انہوں نے ریلوے اراضی کی حقیقی تجارتی استعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ دو ہفتوں میں ایک جا مع منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔


اجلاس کو بتایا گیا کہ 1726 کلومیٹر طویل ایم ایل ون منصوبے کی اپ گریڈیشن کو 4 بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں کراچی تا روہڑی، روہڑی تا ملتان، ملتان تا لاہور اور لاہور تا پشاور شامل ہیں،کراچی تا روہڑی سیکشن کی اپ گریڈیشن کے لیے بین الاقوامی فنانسنگ استعمال کی جارہی ہے، جبکہ ایم ایل ون کے دیگر حصوں کے لیے مقامی وسائل سے فنڈنگ کے منصوبے تیار کیے جارہے ہیں۔


اجلاس میں ایم ایل ون کی تعمیر کے مختلف مراحل، کراچی تا روہڑی سیکشن پر پیش رفت اور ریلوے کی سرکاری اراضی سے متعلق امور پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی وزیراعظم نے نیب اور وزارت ریلوے کی ٹیموں کی جانب سے ریلوے کی تجاوزات سے واگزار کرائی گئی ار ا ضی کی نشاندہی اور تصرف کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔


انہوں نے ہدایت کی کہ ریلوے کی واگزار شدہ اراضی کو کمرشل بنیادوں پر استعمال کرنے اور ایم ایل ون کے لیے بینک فنانسنگ کے حصول سے متعلق جامع لائحہ عمل 2 ہفتوں میں پیش کیا جائے۔