پیر، 26 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کرپٹو کرنسی ، فائدہ یا دھوکا؟ تحریر: مریم ڈار،قسط نمبر 11

نقطہ نظر

پچھلی قسط میں ہم نے کینڈل اسٹک پیٹرنز، بُل مارکیٹ اور بیئر مارکیٹ کے بارے میں سمجھا۔ آج کی قسط میں ہم کرپٹو ٹریڈنگ کے تین بہت ہی اہم ٹرمز ، لیوریج، لانگ اور شارٹ پوزیشنز کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ یہ وہ اصطلاحات ہیں جن کا استعمال فیوچرٹریڈنگ میں اکثر ہوتا ہے، لیکن ان کو سمجھے بغیر ٹریڈ کرنا صرف اور صرف نقصان ہے۔

لیوریج جس میں ٹریڈر اپنے اصل سرمائے سے بڑی ٹریڈ لیتا ہے۔ اس کے لیے ایکسچینج کی جانب سے اضافی مالی سرمایہ کاری فراہم کی جاتی ہے، جس سے ممکنہ منافع کے ساتھ ساتھ نقصان کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

جیسے کہ اگر کسی ٹریڈر کے پاس 100 ڈالر ہیں اور وہ 10 گنا لیوریج استعمال کرتا ہے تو وہ تقریباً 1,000 ڈالر کی پوزیشن کھول سکتا ہے۔ اگر قیمت اس کی توقع کے مطابق ایک فیصد بڑھ جائے تو، فیس اور دیگر اخراجات سے پہلے، 1,000 ڈالر کی پوزیشن پر تقریباً 10 ڈالر کا منافع ہو سکتا ہے۔ یعنی اپنے 100 ڈالر کے سرمائے کے مقابلے میں 10 فیصد منافع۔لیکن یہی صورتِ حال نقصان کی صورت میں ہو تو۔۔۔ اگر قیمت ایک فیصد اس کے خلاف چلی جائے تو تقریباً 10 ڈالر کا نقصان ہو گا۔ اور قیمت میں مخالف سمت میں زیادہ حرکت ہو تو نقصان بھی بڑھتا جائے گا۔ اس کے علاوہ، ایکسچینج کے قواعد کے مطابق پوزیشن لیکویڈیٹ بھی ہو سکتی ہے، یعنی اسے زبردستی بند کر دیا جائے۔یعنی کہ آپ کے لگائے ہوئے سب ڈالر ختم۔

لیوریج منافع کی ضمانت کے ساتھ ساتھ ہو سکتے نقصان کو بھی بڑھاتا ہے۔لیوریج ہمیشہ شارٹ یا لانگ پوزیشنز کے لیے ہوتی ہے ۔ لانگ پوزیشن جب کوئی ٹریڈر یہ توقع کرتا ہے کہ کسی کرپٹو کرنسی کی قیمت بڑھے گی اور وہ اس اضافے سے فائدہ اٹھانے کے لیے پوزیشن کھولتا ہے تو اسے لانگ پوزیشن کہا جاتا ہے۔

شارٹ پوزیشن اس وقت کھولی جاتی ہے جب ٹریڈر کو توقع ہو کہ کسی کرپٹو کرنسی کی قیمت کم ہو گی۔ اس میں ٹریڈر قیمت گرنے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔

لیوریج، لانگ اور شارٹ پوزیشنز کو سمجھنا کرپٹو ٹریڈنگ سیکھنے کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن ان کا علم ہونا کامیاب ٹریڈنگ کے لیے کافی نہیں۔ ٹریڈر کو مارکیٹ کے رجحان، سپورٹ، ریزسٹنس، والیوم اور ممکنہ خطرات کو بھی سمجھنا چاہیے۔

نئے سیکھنے والوں کے لیے بہتر ہے کہ وہ پہلے بغیر اپنی رقم کے ڈیمو ٹریڈنگ کے ذریعے مشق کریں۔ اگر حقیقی رقم استعمال کریں تو صرف اتنی رقم خطرے میں ڈالیں جس کے نقصان کو برداشت کر سکیں۔ لیوریج سے گریز کرنا یا اسے بہت محدود رکھنا بھی خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، اگرچہ اس سے نقصان کا امکان ختم نہیں ہوتا۔

مارکیٹ میں زیادہ رقم کی ٹریڈ لینا اور زیادہ منافع کمانا ایک ہی بات نہیں۔ بعض اوقات چھوٹا اور محتاط قدم بڑے نقصان سے بچا سکتا ہے۔

اگلی قسط میں ہم کرپٹو ٹریڈنگ میں اسپاٹ ٹریڈنگ اور فیوچرز ٹریڈنگ کے درمیان فرق سمجھیں گے، جانیں گے کہ ان دونوں میں خرید و فروخت کس طرح ہوتی ہے اور نئے ٹریڈرز کے لیے ان کے خطرات کو سمجھنا کیوں ضروری ہے۔

اس کے علاوہ ہم تکنیکی تجزیے کے ایک اور اہم پہلو کو سمجھیں گے، جس میں موونگ ایوریج اور آر ایس آئی جیسے بنیادی انڈیکیٹرز کا تعارف اور ان کے استعمال پر بات کریں گے۔

نوٹ: یہ تحریر صرف تعلیمی مقصد کے لیے ہے۔ اسے مالیاتی مشورہ یا خرید و فروخت کی سفارش نہ سمجھا جائے۔ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری اور ٹریڈنگ میں نقصان کا نمایاں خطرہ موجود ہے، خصوصاً لیوریج کے استعمال میں۔