پیر، 26 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

مصنوعی ذہانت میری نظر میں ، تحریر: شگفتہ خان

نقطہ نظر
shagufta khan blog

رب کائنات نے جب یہ دنیا بنائی تھی تو ساتھ ہر چیز کے استعمال میں دو پہلو رکھے تھے۔ اچھائی اور برائی یا فائدہ اور نقصان۔ انسانی ذہن کو اللہ تعالی نے بہت سی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ یہ انسان کی ذہانت ہے۔ جو وہ آج یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت ، انسانی ذہانت سے بہت بڑھ چکی ہے۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں مصنوعی ذہانت ایک حیرت انگیز ایجاد ہے۔ جس نے انسان کی سوچ اور کام کرنے کے انداز کو بدل دیا ہے۔ پہلے جو کام دنوں میں ہوتا تھا اب لمحوں میں ہوتا ہے۔ بہت سی معلومات حاصل کرنے کے لیے لوگ میلوں دور کا سفر طے کرتے تھے۔ اب پلک جھپکتے ہی گوگل سے ہر بات معلوم کی جا سکتی ہے۔ اب کچھ یاد نہیں کرنا پڑتا جب چاہیں، جو چاہیں آپ کے پاس موجود ہے۔ انسان کے ساتھ انسان نہیں مشینیں کام کرتی ہیں اور انسانی حکم بنا ما تھے پہ بل ڈالے بجا لاتی ہیں۔ بہت سی ایپ منظر عام پر آچکی ہیں۔ جس سے کسی کے بارے میں معلوم کیا جا سکتا ہے۔ چاہے وہ دنیا کے دوسرے کونے میں ہی کیوں نہ موجود ہو۔صحت کے معاملے میں یہ بہت فائدہ مند ہے۔ مرض کی تہہ تک جانا اور پھر اس کا علاج بہت آسان ہو گیا ہے۔تعلیم کے شعبے میں دیکھیں تو بھی اس کے فوائد سے انکار نہیں لیکن فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات بھی بہت ہیں ۔ ان جدید آلات تک سب کی رسائی ممکن نہیں ہے اور یہ شر ح خواندگی پر اثر ڈالتی ہے۔مصنوعی ذہانت کی وجہ سے

اتنے جدید ہتھیار تیار کئے جا چکے ہیں کہ سن کر عقل دنگ رہ جائے۔اب ایسے ڈرون ایجاد ہو چکے ہیں جو سرحد پار بیٹھ کر درست نشانے پہ لگتے ہیں۔اس کے علاوہ ایسا ڈرون بھی ہے جو بجوم میں مطلوبہ شخص کی شناخت کر کے اسے گولی مار سکتا ہے۔ ایسے ایسے جنگی ہتھیار تیار ہو رہے ہیں کہ کسی ملک کا لمحہ بھر میں صفحہ ہستی سے نام و نشان تک مٹایا جا سکتا ہے۔ یہ صورت حال بہت ذیادہ خطرناک روپ دھار چکی ہے۔ بہت سے سائنسدانوں نے اس بڑھتے ہوئے خطر ے سے آگاہ کیا ہے جو بڑھتی ہوئی مصنوعی ذہانت سے بے انتہا بڑھ رہا ہے۔ گوگل کے موجد نے استعفی دے دیا ہے کہ یہ مصنوعی ذہانت خطرناک صورت اختیار کر تی جا رہی ہے۔ روبوٹ ایسے بن چکے ہیں جو انسان کی جگہ لے رہے ہیں۔ اس سے بیروزگاری بہت بڑھے گی۔ اب ایسے روبوٹ آچکے ہیں جو عورت کی شکل میں ہیں۔ مرد کی تنہائی کے ساتھ اس کی خلوتوں میں بھی شامل ہوگی۔ یہ بات بہت قابل تشویش ہے۔ مصنوعی ذہانت عقل کو بڑھاتی تو ہے مگر اس کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ ہر قسم کے جذبات و احساسات سے عاری روبوٹ۔

دیکھا جائے تو ہمارا اسلامی معاشرہ ہے۔ جس کی تعمیر و ترقی میں جذبات و احساسات کا بہت اہم کردار ہے۔ ہم اپنے بچوں کو صبر، اخوت، درگزر، مروت، ہمدردی اور احترام کی تعلیم دیتے ہیں۔ ہمارے نبی خاتم النبین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اسوہ حسنہ دیکھیں تو صبر اور در گذر کے واقعات سے بھرا پڑا ہے۔ ہمیں یہ آداب سیکھنے اور سکھانے کا حکم دیا گیا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ یہ روبوٹ والی زندگی ہمارے لئے پھر کیسے بہتر ہو سکتی؟ اس لئے مصنوعی ذہانت کا استعمال محدود اور بہ وقت ضرورت کیا جائے تو یہ بہتر چیز ہے لیکن بے جا اور غلط استعمال کیا جائے تو یہ بہت ذیادہ نقصان دہ چیز ہے۔ خاص طور پر ہمارے اسلامی معاشرے کے لئے اس کا حد سے بڑھتا ہوا استعمال بہت زیادہ نقصان دھ ہے۔ آج کل کی نسل اس کے بے جا استعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے، اپنے مذہب سے اتنی دور ہو چکی ہے کہ حلال و حرام، جائز و نا جائز کا فرق بھول چکی ہے۔ یہ دوری ان کو تباہی کے دہانے پہ لے آئی ہے لیکن لمحہ فکریہ ہے کہ یہ نسل سنبھلنے کو تیار نہیں ہے۔