دکھاوے کی زندگی اور کھوکھلی شخصیت،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ
نقطہ نظر
ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں چہرے پر سجی مسکراہٹ اور باطن کی سچائی میں میلوں کا فاصلہ آ چکا ہے۔ اب انسان اندر سے کتنا ہی ٹوٹا ہوا یا منافق کیوں نہ ہو، باہر کی دنیا کے لیے اس نے ایک چمکدار غلاف اوڑھ رکھا ہے۔ لوگ اب انسانوں سے نہیں بلکہ ان کے پہناوے، گاڑی اور سماجی رتبے سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب باطن کو سنوارنے کے بجائے پورا زور باہر کی نمائش پر لگا دیا جاتا ہے، جس کا نتیجہ کھوکھلی شخصیت کی صورت میں نکلتا ہے۔
اسی معاشرے کا ایک جیتا جاگتا کردار "سحر" ہے۔ سحر کو پہلی نظر میں دیکھنے والا ہر شخص اس کے سحر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ دیکھنے میں جتنی خوبصورت ہے، لوگوں سے ملتے وقت اس کا اخلاق اور ہنسی اتنی ہی دلکش ہوتی ہے۔ محفلوں میں اس کی موجودگی رونق کا باعث بنتی ہے، لیکن اس چمکتے ہوئے چہرے کے پیچھے ایک ہولناک سچائی چھپی ہے۔ اس کے دل میں نہ جانے کتنے ہی قفل لگے ہوئے ہیں، جن کے اندر حسد، دکھاوا اور نمائش کے بت چھپے بیٹھے ہیں۔ وہ لوگوں سے مخلص ہو کر نہیں ملتی، بلکہ اس کی ہنسی اور خوش اخلاقی صرف ایک سماجی ضرورت ہے تاکہ دنیا میں اس کا نام ہوتا رہے۔
سحر کے اس ظاہری جادو کا سب سے بڑا شکار اس کا اپنا گھر تھا، جہاں اس کے سحر کا جادو اس کے شوہر پر پوری طرح چلتا تھا۔ اس کا شوہر اپنی سوچ اور پسند کو مار کر بالکل سحر کی مرضی سے جیتا تھا۔ وہ ہر معاملے میں سحر کے فیصلوں کا پابند تھا، یہاں تک کہ گھر کے اندر اور باہر کا ہر عمل صرف سحر کی نمود و نمائش کو پورا کرنے کے لیے ہوتا تھا۔ لیکن اگر گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو اس بیرونی رعب، نمائش اور کھوکھلی شخصیت کے پیچھے نہ جانے کتنے شکوے دفن تھے۔ یہ شکوے کبھی اپنوں کے رویوں سے پیدا ہوئے تو کبھی اندرونی محرومیوں نے انہیں جنم دیا۔ جب انسان کو حقیقی محبت اور توجہ نہیں ملتی، تو وہ اپنے اندر کے خلا اور درد کو چھپانے کے لیے دکھاوے اور دوسروں پر بے جا رعب کا سہارا لیتا ہے۔ وہ باہر کی واہ واہ سے اپنے اندر کی خاموشی کو بھرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جب انسان کا پورا وقت صرف باہر کے وجود کو سنوارنے اور دنیا کو متاثر کرنے میں گزر جائے، تو اس کا باطن ویران ہو جاتا ہے اور شخصیت اندر سے بالکل خالی رہ جاتی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری شخصیت میں یہ کھوکھلا پن اور دکھاوے کی بیماری آتی کہاں سے ہے؟ اس کا جواب ہماری ابتدائی تربیت میں چھپا ہے۔ جب ہم بچوں کے سامنے ہر چیز کو مادیت، رعب اور دنیاوی نمود و نمائش کے ترازو میں تولتے ہیں، تو ان کے ذہن بھی اسی رنگ میں ڈھل جاتے ہیں۔ اگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو اس کھوکھلے پن اور شکووں کی دلدل سے بچانا چاہتے ہیں، تو ہمیں بچوں کی تربیت میں پختگی پیدا کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔
تربیت میں پختگی سے مراد یہ ہے کہ بچوں کو بچپن ہی سے عارضی تعریفوں اور دوسروں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے بجائے باطن کی خوبسورتی، سچائی اور اخلاص کا سبق دیا جائے۔ انہیں سکھایا جائے کہ محرومیوں کا حل دکھاوے کی زندگی میں نہیں، بلکہ اپنے رب سے لو لگانے اور حالات کو بہادری سے قبول کرنے میں ہے۔ جب بچوں کی ذہنی بنیاد مضبوط ہوگی، تو وہ بڑے ہو کر کسی دکھاوے کا شکار نہیں ہوں گے اور نہ ہی ان کی شخصیت کھوکھلی ہوگی۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ دنیا آپ کے بارے میں کیا ظاہر دیکھتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ آپ تنہائی میں اپنے رب کے سامنے کتنے سچے اور مطمئن ہیں۔
مزید پڑھیں





