مہنگائی، بیروزگاری اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف کئی یورپی ممالک میں مظاہرے

یورپ کے کئی ممالک میں مہنگائی، بے روزگاری اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔
یورپ کے مختلف ممالک میں مہنگائی، کم اجرت، رہائش کے بڑھتے اخراجات اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف مظاہرے کیے گئے، جن کے دوران اٹلی، فرانس، اسپین اور بیلجیم سمیت کئی ملکوں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ بعض مقامات پر پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جبکہ متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا کےمطابق اٹلی کے دارالحکومت روم میں مظاہرین اور پولیس کی درمیان جھڑپیں ہوئی رو م کے علاوہ میلان، ٹیورن اور بولونیا سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلے مظاہرین نے مہنگائی، جنگ، کم اجرت اور عوامی سہولتوں کی صورت حال پر احتجاج کیا۔
روم، ٹیورن اور بولونیا میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں،جبکہ میلان میں مظاہرے بڑی حد تک پُرامن رہے اس دوران پولیس نے 11 افراد کو گرفتار کرلیا جبکہ 96 افراد زیر حراست ہیں، اس کے علاوہ دیگر کئی شہرو ں میں بھی احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔
ادھر اسپین کے دارالحکومت بارسلونا میں بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔
بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں حکومت مخالف مظاہرین کے ساتھ جھڑپ میں آنسو گیس اور مرچوں کے اسپرے کا ستعمال کیا گیا جبکہ البانیہ میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔
فرانس میں بھی بڑھتی مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج ہوا اور پیرس میں ہونے والا مارچ بڑی حد تک پرامن رہا۔
اس حوالے سے فرانسیسی وزارتِ داخلہ کے مطابق مارچ میں 1 لاکھ 10 ہزار افراد نے شرکت کی، تاہم مارچ کے اختتام پر مظاہرین اور پولیس میں بعض جھڑ پیں بھی ہوئیں، شیلنگ، جلاؤ گھیراؤ اور کچرے کے ڈبوں کو آگ لگا دی، جس پر 1000 افراد گرفتار کیے گئے جبکہ فرانس میں 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے-



