زبوں حال قلعہ شیخوپورہ ریلوے اسٹیشن وفاقی وزیر ریلوے کی توجہ کا طلبگار،تحریر:حامد قاضی

کسی بھی ملک کی معاشی اور سماجی ترقی میں ریلوے کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہوتی ہے بدقسمتی سے وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے اس قومی اثاثے کو وہ توجہ نہ مل سکی جس کا یہ حقدار تھا آج ہم بات کریں گے پنجاب کے ایک انتہائی اہم ضلعی ہیڈکوارٹر اور بڑے صنعتی شہر شیخوپورہ کی جس کا ریلوے اسٹیشن کبھی اپنی رونقوں اور متحرک سفری سرگرمیوں کی وجہ سے پورے خطے میں مشہور تھا ایک دور تھا جب شیخوپورہ ریلوے جنکشن پر دن رات درجنوں مسافر ٹرینیں رکا کرتی تھیں مسافر یہاں سے براہِ راست کراچی،لاہور،فیصل آباد، سرگودہا،میانوالی،شورکوٹ اور ملک کے دیگر دور دراز شہروں کے لئے روانہ ہوتے تھے ٹرینوں کی اس مسلسل آمد و رفت کی وجہ سے اسٹیشن پر ہر وقت میلے کا سا سماں ہوتا تھا مسافروں کی چہل پہل،کھانے پینے کی اشیاء کے اسٹالز اس اسٹیشن کی زندگی کا ثبوت ہوا کرتے تھے مگر آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس اہم ترین سیکشن کا حال انتہائی ابتر ہو چکا ہے آج کے حالات پر نظر ڈالیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے لاہور اور فیصل آباد جیسے دو بڑے شہروں کے درمیان واقع اس اہم روٹ پر اب محض ایک ہی ٹرین دن میں چار چکر لگاتی ہے جبکہ رات گئے میانوالی ایکسپریس یہاں سے گزرتی ہے اس ناکافی سفری شیڈول کی وجہ سے مقامی شہریوں اور روزمرہ سفر کرنے والے مسافروں کو شدید ترین مشکلات کا سامنا ہے عوام اب مہنگی،غیر آرام دہ اور غیر محفوظ بسوں،ویگنوں اور رکشوں پر طویل سفر کرنے پر مجبور ہیں جس سے ان کے وقت اور پیسے دونوں کا زیاں ہو رہا ہے رہی سہی کسر اس سال آنے والے تباہ کن سیلاب نے پوری کر دی جس کی زد میں آکر مسن کالر اور شاہدرہ کے درمیان واقع ایک اہم ریلوے پل ٹوٹ گیا اس حادثے کے بعد سے لاہور فیصل آباد سیکشن مکمل طور پر بند پڑا ہے اور عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں جس اسٹیشن پر کبھی چوبیس گھنٹے زندگی مسکراتی تھی وہاں اب دن رات "ہو کا عالم" اور ہویدا کا سکوت طاری رہتا ہے کاروباری اسٹالز بند ہو چکے ہیں اور اسٹیشن ویرانی کی تصویر بن چکا ہے یہ سیکشن اور ٹوٹا ہوا پل تو یقیناً دیر سویر بحال ہو ہی جائے گا مگر اصل ضرورت ریلوے کی پالیسیوں کو درست کرنے اور انقلابی اقدامات اٹھانے کی ہے اس وقت وزارتِ ریلوے کا قلمدان ملک کی ایک انتہائی متحرک،وژنری اور عوامی نبض پر ہاتھ رکھنے والی سیاسی شخصیت محمد حنیف عباسی کے پاس ہے محمد حنیف عباسی اپنی بے پناہ انتظامی صلاحیتوں، ترقیاتی کاموں میں گہری دلچسپی اور عوامی مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کے جذبے کی وجہ سے عوام میں بے حد مقبول ہیں وہ روایتی دفتری سیاست پر یقین نہیں رکھتے بلکہ عملی اقدامات اور فوری نتائج کو ترجیح دیتے ہیں ان کی قیادت ریلوے جیسے اہم محکمے کے لئے ایک تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ شیخوپورہ کے عوام اور تاجر برادری اپنی تمام تر امیدیں ان کی ذاتِ گرامی سے وابستہ کیے ہوئے ہے وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کی دور اندیشی پر کسی کو شک نہیں، اور وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ریلوے کو خسارے سے نکالنے کے لئے کن تجارتی مراکز کو فعال کرنا ضروری ہے شیخوپورہ ایک عام شہر نہیں بلکہ یہ ایک بہت بڑا صنعتی اور کاروباری مرکز ہے جہاں سے روزانہ کروڑوں روپے کی تجارت ہوتی ہے ریلوے کے افسران اور پالیسی سازوں کو اب روایتی ڈگر سے ہٹ کر سوچنا ہوگا شیخوپورہ کے شہریوں کی وزیرِ ریلوے سے پرزور اپیل ہے کہ لاہور سے کراچی کے درمیان چلنے والی دونوں اہم ترین ٹرینوں، شالیمار ایکسپریس اور قراقرم ایکسپریس کا شیخوپورہ ریلوے اسٹیشن پر مستقل سٹاپ دیا جائے خالی ٹرینیں پٹریوں پر دوڑانے کی بجائے ان کا سٹاپ شیخوپورہ جیسے بڑے انڈسٹریل شہر میں دینے سے مقامی کاروباری برادری کو کراچی آنے جانے میں انتہائی آسانی ہوگی اس ایک فیصلے سے نہ صرف تاجروں کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ محکمہ ریلوے کے ریونیو میں بھی کروڑوں روپے کا اضافہ ہوگا جو محکمے کی مالی معاونت کا بہترین سبب بنے گا عوامی اور سستی سفری سہولیات کی فراہمی کے لئے نور شاہ پسنجر،راوی ایکسپریس، جڑانوالہ پسنجر اور سرگودھا ایکسپریس کو فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ غریب اور متوسط طبقے کو ریلیف مل سکے محکمہ ریلوے میں یہ چلن عام ہو چکا ہے کہ جس ٹرین کا ریونیو کم ہو اسے بند کر دیا جاتا ہے یہ ایک انتہائی فلاپ پالیسی ہے ہونا تو یہ چاہیئے کہ ٹرین بند کرنے کی بجائے متعلقہ ٹکٹ کلیکٹرز،گارڈ انچارج اور کمرشل افسران کو جوابدہ بنایا جائے اور کم ریونیو کی ذمہ داری ان پر عائد کی جائے جب محکمے کے اندر احتساب کا یہ سخت نظام لاگو ہوگا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ریلوے کا ریونیو نہ بڑھے ہمیں کامل یقین ہے کہ وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی اپنی روایتی عوامی ہمدردی اور وژنری قیادت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شیخوپورہ کے عوام اور تاجر برادری کی اس مخلصانہ پکار کو رد نہیں کریں گے شیخوپورہ کو اس کا یہ جائز حق دینا نہ صرف پاکستان ریلوے کو مالی طور پر مستحکم اور خودکفیل بنانے کی طرف ایک بڑا قدم ہوگا بلکہ یہ اقدام موجودہ حکومت اور وزیرِ ریلوے کی عوامی مقبولیت میں بھی بے پناہ اضافے کا باعث بنے گا اب گیند وزارتِ ریلوے کے کورٹ میں ہے اور عوام مثبت فیصلوں کی منتظر ہے تاکہ اجاڑ بنے شیخوپورہ جنکشن اسٹیشن کی رونقیں دوبارہ بحال ہوسکیں۔





