اتوار، 25 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تعلیم، شعور یا صرف ڈگری؟تحریر: عامر عباس ناصر اعوان

نقطہ نظر

زندگی کے ہنگاموں سے ذرا پرے، کسی خاموش شام میں بیٹھ کر اگر ہم اپنے معاشرے کے چہروں کو غور سے دیکھیں تو ایک سوال دل کے دریچے پر آ کر ٹھہر جاتا ہے: ہم تعلیم یافتہ تو ہو گئے، مگر کیا ہم باشعور بھی ہوئے؟ ہمارے ہاتھوں میں ڈگریاں ہیں، مگر کیا ہمارے لہجوں میں نرمی، رویوں میں شائستگی، فیصلوں میں انصاف اور دلوں میں انسانیت بھی اتنی ہی بڑھی ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں سوال سامنے آتا ہے: تعلیم، شعور یا صرف ڈگری؟


تعلیم میرے نزدیک محض کتاب کے صفحات پڑھ لینے، امتحان میں اچھے نمبر لے آنے یا کسی جامعہ سے سند حاصل کر لینے کا نام نہیں۔ تعلیم تو ایک ایسی روشنی ہے جو انسان کے اندر چراغ بن کر جلتی ہے؛ اسے راستہ دکھاتی ہے اور اسے دوسرے انسان کی قدر کرنا سکھاتی ہے۔ اگر علم بڑھتا جائے مگر تکبر بھی ساتھ بڑھتا جائے، اگر ڈگری ہاتھ میں آ جائے مگر ضمیر سویا رہے، اگر انسان بڑے عہدے تک پہنچ جائے مگر چھوٹے آدمی کی عزت کرنا نہ سیکھے تو پھر ہمیں اپنی تعلیم سے زیادہ اپنی تربیت کا حساب لینا چاہیے۔


ہم نے شاید تعلیم کو نمبروں کی دوڑ بنا دیا ہے۔ بچہ اسکول سے گھر آئے تو پہلا سوال ہوتا ہے، ’’کتنے نمبر آئے؟‘‘ کبھی یہ پوچھنے کی فرصت نہیں ملتی کہ ’’آج کیا سیکھا؟‘‘ نمبر یقیناً اہم ہیں، مگر زندگی صرف مارکس شیٹ کا نام نہیں۔ ایک بچہ سو فیصد نمبر لے کر بھی کسی کمزور ساتھی کا مذاق اڑا سکتا ہے، اور دوسرا بچہ معمولی نمبر لے کر بھی کسی روتے ہوئے دوست کا ہاتھ تھام سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں سے تعلیم نے کس کے دل کو زیادہ روشن کیا؟


اصل تعلیم وہ لمحہ ہے جب انسان کو اپنی غلطی کا احساس ہو اور وہ انا کا لباس اتار کر معذرت کر لے۔ وہ لمحہ بھی تعلیم ہے جب ہم قطار میں اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں، سڑک پر قانون کی پابندی کرتے ہیں، مزدور سے عزت سے بات کرتے ہیں، بزرگ کے لیے جگہ چھوڑتے ہیں، کسی غریب کی مدد کرتے ہوئے اسے احسان کے بوجھ تلے نہیں دباتے۔ مگر معاشرے کی تہذیب انہی رویوں سے جنم لیتی ہے۔


شعور دراصل تعلیم کا وہ پھول ہے جس کی خوشبو انسان کے کردار سے آتی ہے۔ شعور یہ ہے کہ اختلاف ہو مگر احترام باقی رہے۔ شعور یہ ہے کہ علم بڑھے تو عاجزی بھی بڑھے۔ شعور یہ ہے کہ اختیار ملے تو انسان دوسروں کے حقوق کا محافظ بنے، مالک نہیں۔ شعور یہ بھی ہے کہ ہمیں ہر سوال کا جواب معلوم نہیں؛ کبھی یہ کہہ دینا کہ ’’میں نہیں جانتا‘‘ بھی دانائی ہے۔


ہمارے گھروں اور درس گاہوں میں ایک نئی تربیت کی ضرورت ہے۔ ہم بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، افسر اور سائنس دان بنانا چاہتے ہیں، مگر کیا ہم انہیں اچھا انسان بنانے کی خواہش بھی اتنی ہی شدت سے رکھتے ہیں؟ ایک ڈاکٹر کے لیے بیماری کی تشخیص ضروری ہے، مگر مریض کے خوف کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ ایک استاد کے لیے نصاب مکمل کرنا اہم ہے، مگر طالب علم کے اندر سوال پیدا کرنا اس سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ ایک افسر کے لیے قانون جاننا لازم ہے، مگر قانون کی روح یعنی انصاف کو سمجھنا اس کے منصب کی اصل آزمائش ہے۔


اور گھر؟ گھر تو انسان کی درس گاہ ہے۔ ماں کی گود کتاب، باپ کی محنت سبق، بزرگوں کی دعائیں تربیت اور گھر کا ماحول یونیورسٹی ہوتا ہے۔ بچہ وہی زیادہ سیکھتا ہے جو وہ دیکھتا ہے، صرف وہ نہیں جو اسے بتایا جاتا ہے۔ اگر ہم اس سے سچ بولنے کو کہیں اور خود معمولی فائدے کے لیے جھوٹ بولیں تو ہماری نصیحت لفظوں کا شور بن جاتی ہے۔ اگر ہم اسے عزت کا درس دیں اور کسی کمزور شخص سے بدتمیزی کریں تو بچہ کتاب سے زیادہ ہمارا عمل پڑھے گا۔


آج کے ڈیجیٹل زمانے نے معلومات ہماری انگلیوں پر رکھ دی ہیں۔ مگر معلومات کی فراوانی ہمیشہ شعور کی ضمانت نہیں ہوتی۔ موبائل ہمیں بتا سکتا ہے کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے، مگر یہ فیصلہ ہمیں خود کرنا ہوتا ہے کہ اس سب میں درست اور مفید کیا ہے۔ علم کا سیلاب اگر کردار کی زمین تک نہ پہنچے تو پیاس پھر بھی باقی رہتی ہے۔


ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ڈگری روزگار کا وسیلہ ضرور ہے۔ ڈگری آدمی کو کرسی تک پہنچا سکتی ہے، مگر کردار اسے عزت کی جگہ دیتا ہے۔ ڈگری نام کے ساتھ لکھی جاتی ہے، مگر انسان کی اصل پہچان اس کے برتاؤ سے پڑھی جاتی ہے۔ ایک شخص کے پاس بڑی بڑی اسناد ہوں اور وہ دوسروں کے حقوق پامال کرے تو اس کی تعلیم ادھوری ہے؛ جبکہ ایک کم تعلیم یافتہ شخص دیانت، محبت، وعدے کی پاسداری اور خدمتِ خلق میں آگے ہو تو وہ تعلیم کے ایک بڑے سبق سے روشناس کرا رہا ہوتا ہے۔


ہمیں اپنے بچوں سے یہ پوچھنے کا انداز بدلنا ہوگا۔ ’’کتنے نمبر آئے؟‘‘ کے ساتھ کبھی یہ بھی پوچھیں: ’’آج تم نے کس کی مدد کی؟‘‘ ’’کسی کو دکھ تو نہیں دیا؟‘‘ ’’کسی نئی بات کو سمجھا؟‘‘ ’’اپنی غلطی تسلیم کی؟‘‘ کیونکہ یہی سوال نمبر سے کردار تک، ڈگری سے شعور تک اور علم سے انسانیت تک لے جاتے ہیں۔


آخرکار معاشرے صرف ڈگری یافتہ لوگوں سے نہیں بنتے، باکردار انسانوں سے بنتے ہیں۔ ہمیں ایسی تعلیم چاہیے جو ذہن کو روشن کرے، دل کو نرم کرے، زبان کو مہذب کرے، ہاتھ کو خدمت کے لیے اٹھائے اور قدم کو حق کے راستے پر چلنے کا حوصلہ دے۔


اگر تعلیم ہمیں صرف یہ سکھائے کہ کامیاب کیسے ہونا ہے تو یہ آدھی تعلیم ہے؛ اگر وہ یہ بھی سکھا دے کہ کامیاب ہو کر دوسروں کو ساتھ لے کر کیسے چلنا ہے، تو یہی مکمل تعلیم کی طرف قدم ہے۔


سو سوال آج بھی وہی ہے: تعلیم، شعور یا صرف ڈگری؟


جواب کسی کتاب کے آخری صفحے پر نہیں، ہمارے کردار کے ہر اگلے صفحے پر لکھا جا رہا ہے۔