اتوار، 25 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تعلیم، شعور یا صرف ڈگری ،تحریر: آمنہ وحید

نقطہ نظر

تعلیم جس کے معنی آگاہی اور جاننے کے ہیں،اسے صرف ایک حد تک مقید کر دیا گیا ہے۔تعلیم جو کہ معنی اور مفہوم کے اعتبار سے کسی چیز سے واقفیت حاصل کرنے کا نام ہے،لیکن افسوس صد افسوس کہ عصر حاضر میں لوگوں نے اس کو محض ڈگری کے اصول کا ذریعہ بنا لیا ہے۔

میٹرک اور ایف اے، ایف ایس سی کی تعلیم کا رجحان تو تقریباً پرانا ہی تھا،لیکن بی ایس،ایم ایس،ایم فل،اور پی ایچ ڈی کی ڈگری کا رجحان عصر حاضر کا تقاضا بن گیا ہے۔

جس کی ایف اے،ایف ایس سی کے بعد کہیں نوکری نہیں لگتی،وہ اس آس پر بی ایس میں داخلہ لے لیتے ہیں کہ چار سال پورے ہونے کے بعد ڈگری تو ملے گی۔اور پھر کتنے ہی ایسے لوگ بھی دیکھنے میں آتے ہیں جو صرف کانوکیشن میں ڈگری کے حصول کے لیے بیش بہا فیسیں بھی بھرتے ہیں،محض سٹیٹس اور ٹک ٹاک پر اپنی ڈگری کا دکھاوا کرنے کے لیے وہ اپنی زندگی کے نہایت ہی قیمتی اور نایاب چار سالوں کو ضائع کرنے سے زرا بھی نہیں گھبراتے۔

پڑھائی کے اختتام پر آج تک کسی کو یہ نہیں کہتے دیکھا کہ ہم نے ان قیمتی سالوں کی محنت سے کیا سیکھا،لیکن ڈگری کے مکمل ہونے پر سب کی مبارکباد اور تحائف کے سٹیٹس ضرور دیکھنے کو ملے ہیں۔

تعلیم کے اصل معنی شعور کے ہیں،جو کہ عصر حاضر کے نوجوانوں میں اقلیت کی صورت میں نظر آتا ہے۔زندگی کے شب و روز میں مختلف مقامات پر مختلف انواع کے افراد سے واسطہ پڑتا ہے،اور ان افراد میں زیادہ تر تعداد میں تعلیم یافتہ نوجوان ہوتے ہیں۔یہی پڑھے لکھے افراد تھوڑی دیر کے لئے ایک قطار میں کھڑے نہیں رہ سکتے،جو کہ ان کے ڈسپلن کی نشانی ہے،لیکن وہ اس کو برقرار نہیں رکھ سکتے۔

دفاتر اور بینک وغیرہ میں اگر کوئی کام کرنے کا بولیں تو یہی نوجوانان قوم رشوت کا بازار گرم کیے دکھائی دیتے ہیں۔

اسی طرح اگر کہیں کوئی بڑا بوڑھا سامنے سے گزر رہا ہے تو اس کی عمر کا لحاظ بھی نہیں رکھتے۔

گھروں میں والدین کی وہ وقعت نہیں جو کہ ایک تعلیم یافتہ اولاد کے والدین کی ہونی چاہیئے۔اس تعلیم یافتہ اولاد کو والدین کی انتھک محنت کا کوئی احساس نہیں جنہوں نے دن رات ایک کر کے کم وسائل کے باوجود بھی انھیں شعور دلانے کے لیے سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھیجا۔یہی ڈگری ہولڈرز موبائل فون میں اس قدر محو ہو جاتے ہیں کہ والدین کی آواز بھی ان تک نہیں پہنچ پاتی،اگر پہنچ بھی جاۓ تو ہنگامہ خیز آوازیں سننے کو ملتی ہیں۔حالانکہ تعلیم تو ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ والدین کے سامنے اونچی آواز میں بات نہ کریں،ان کے سامنے اف تک نہ کریں لیکن عصر حاضر میں اس کے برعکس ہو رہا ہے ۔اولاد والدین کو بات بہ بات جھڑک رہی ہوتی ہے اور یہ جھڑکنا ان کے لیے معمول بن چکا ہوتا ہے۔

یہ تعلیم یافتہ قوم کے نوجوانوں کا حال ہے جو گھر میں انہی ہستیوں کو کچھ نہیں سمجھتے جنہوں نے ان کے لیے اپنی جان،اپنی صحت،اور اپنی زندگی کا بیش بہا وقت اولاد کی تعلیم و تربیت کے لیے وقف کر دیا۔

شعور تو یہ ہے کہ انسان والدین ہو یا کوئی بھی بڑا بوڑھا شخص اس کی دل سے عزت و تکریم کرے،انہیں وہ مقام دے جس کے وہ حقدار ہیں۔

انسان صحیح اور غلط میں فرق کرنا جانتا ہو،اسے یہ پتا ہو کہ حق کا ساتھ دینے کی باری آئے تو ڈر کر بھاگنا نہیں ہے بلکہ اپنے شعور سے معاملات کو سمجھ کر حق کا علمبردار بننا ہے،اسے بیدار رہنا ہے اور اصل بیداری یہی ہے کہ انسان حق اور باطل میں فرق کرنا سیکھ سکے۔

وہ غلط کو غلط کہنا جانتا ہو۔کیونکہ ایک شعور یافتہ فرد کبھی بھی غلط بیانی نہیں کرتا ،وہ جاہلوں کی طرح لوگوں کی باتوں میں نہیں آتا،وہ سچائی کو مانتا ہے اور اس کا ساتھ نبھاتا ہے،چاہے اس کے لیے اسے جتنا بھی سفر کرنا پڑے۔

مختصر یہ کہ دور حاضر میں تعلیم صرف ایک کاغذ کے ٹکڑے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے،ہماری تعلیم صرف ڈگری تک محدود ہو گئی ہے۔حالانکہ ڈگری تو فائلوں اور الماریوں میں پڑی رہ جاتی ہے،انسان کی اصل عکاس تو اس کی تعلیم ہے جو اس کے کردار،اور شخصیت سے جھلکتی ہے۔لیکن آج کا نوجوان تعلیم کو ڈگری کے خول میں بند کر چکا ہے،اور اسے اس خول سے نکالنے کے لیے پر فرد کو بذات خود اپنا احتساب کرنا ہو گا،تب ہی تعلیم اپنے حقیقی معنوں میں اس قوم کے نوجوانوں کو سنوار سکتی ہے۔