انسان کو رب کائنات نے اشرف المخلوقات بنا کر اسے باقی مخلوق سے ممتاز اور اعلی ہونے شرف بخش دیا ۔ اور فہم و فراست کے بہت سے باب اس پر کھول دئیے ۔ جس نے شعور و آگاہی کے مزید رستے کھول دئیے ۔ اور یوں انسان غاروں اور پتھروں کی زندگی سے نکل کر ترقی کی منازل طے کرتا ہوا ستاروں پہ کمند ڈالنے کے لائق ہو گیا ۔
حضرت آدم کی تخلیق سے انسان کا سفر شروع ہوا ،تو رب کائنات نے اسی وقت انسان کو سکھانے اور بتانے کا نظام بھی تخلیق کر دیا ، جو وقت کے ساتھ ساتھ پروان چڑھتا ہوا ترقی کی منازل کو طے کرتا جا رہا ہے۔ انسانی تاریخ کو جتنا بھی کھول کر دیکھ لیں، ہمارے آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن وسنت کی بدولت جو علم انسانوں کو نصیب ہوا اس سے آج بھی فیض اٹھایا جارہا ہے ۔ انسان کی شخصیت اور کردار پر اس کی تعلیم وتربیت کا کافی گہرا اثر پڑتا ہے ۔ اور یہ اثر اس وقت نظر آتا ہے ۔جب تعلیم کا مقصد واقعی کچھ سمجھنا اور سیکھناہو۔ ناکہ صرف مقصد ڈگری حاصل کرنا ہو ۔
تعلیم کا مطلب ہی ' جاننا ، سیکھنا اور علم حاصل کرنا ہے۔
زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے اور معاشرے میں اپنا مقام بنانے میں تعلیم ایک اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ اسی لیے موجودہ دور میں پیشہ ورانہ تعلیم کو زیادہ اہمیت دی جارہی ہے ۔ کہ لوگوں کو ان کی تعلیم اور ان کے رجحان کے مطابق اپنا شعبہ اختیار کرنے میں آسانی ہو ۔ اور وہ اپنے شعبہ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکے ۔ اور یہی کچھ آجکل ہو رہا ہے ۔ کہ اس مشینی دور میں انسان بھی مشین بن کر رہ گئے ہیں۔ جن کا مقصد حیات صرف پیسہ کمانا اور اپنا ایک اسٹیٹس بنانا ہے ۔ جس میں جذبات و احساسات کا خاطرخواہ فقدان پایا جاتا ہے ۔ بس ایک اندھی دوڑ ہے ۔ جس میں غلط اور صحیح میں تخصیص کئے بغیر سب دوڑتے جا رہے ہیں۔ اور ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی تگ و دو میں ہیں۔ اس دوڑ میں سب یہ بھول ہی گئے ہیں۔ کہ ان کی زندگی کا کیا مقصد ہے ،اور جو تعلیم انہوں نے حاصل کی ہے ۔وہ ان سے کیا تقاضا کرتی ہے ۔
پیشہ ورانہ ترقی یافتہ دور میں آکر انسان بھول ہی گیا ہے
۔کہ احساسات کیا ہوتے ہیں؟؟
غلط اور صحیح میں کیا فرق ہے ؟
تعلیم ہم سے کیا تقاضا کرتی ہے ؟
مادہ پرستی اور مفاد پرستی کی بھی کیا کوئی حد ہے ؟
ان سب چیزوں میں نہ کہیں تعلیم نظر آتی ہے ،اور نہ شعور
ہاں ایک ڈگری ضرور نظر آتی ہے جس کے بل بوتے پہ لوگ آگے بڑھ جاتے ہیں۔
ہمارے دین میں تعلیم کو بلا تخصیص مرد وزن علم حاصل کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، بلکہ یہاں تک کہا گیا ہے کہ ۔۔
علم حاصل کرو چاہے تمھیں چین جانا پڑے ۔
لیکن یہاں بات صرف علم کا حصول نہیں ہے ۔بلکہ اس چیز کو سمجھنا ہے ۔ تعلیم کا مقصد و مطلوب محض ڈگری کا حصول ہے ۔علم سے وہ شعور اور سمجھ بوجھ بھی حاصل کرنا ہے ۔ جس سے ہم اس علم اور تعلیم کا حق ادا کر سکیں۔ جس سے پتہ چل سکے کہ تعلیم نے ہمیں محض ڈگری نہیں دی، بلکہ ہمارے لئے شعور کی وہ کھڑکی کھول دی ہے ۔ جس سے ہم انسانیت اور اس کے حقوق وفرائض کی تمام راہیں دیکھ سکتے ہیں۔ جس پر چل کر ہم اپنی دنیا و آخرت دونوں کو سنوار سکتے ہیں ۔
بحیثیت مسلمان ہماری جڑیں قرآن وسنت سے جڑی ہوئی ہیں۔ ہم جتنی بھی ٹیکنالوجی اور جدید علوم سے بہرہ ور ہو جائیں، ہماری ابتدا و انتہا ہمارا دین ہی ہے ۔ اس کو بنیاد بنا کر حاصل کیا گیا علم انسان کو دنیا و آخرت میں سرخرو کر دیتا ہے ۔
آج جا بجا سکول، کالج اور یونیورسٹیاں ہیں۔ پھر بھی معاشرتی نظام بدستور تنزلی کا شکار ہے ۔ نہ کہیں اقدار ہیں ، نہ روایات۔ اور اخلاقیات کا تو جیسے کال پڑ گیا ہے ۔ اس کی وجہ یہی ہے ۔ کہ ہم ڈگری کے حصول کے لئے تعلیم حاصل کرنے کی تگ و دو میں ہیں۔ اس امر سے ہمارا کچھ لینا دینا نہیں ۔کہ بچے نے کیا سیکھا، ہم صرف یہ دیکھتے ہیں ۔
کیا بچہ لوگوں کے سامنے انگریزی بول سکتا ہے کہ نہیں۔ اگر بچہ انگریزی بولنے میں کامیاب ہو گیا تو سمجھ جائیں، آپ کا بچہ صحیح پڑھ رہا ہے ۔ بے شک اس کو اس بات کا ادراک بالکل نہ ہو ۔کہ اس نے گھر بیٹھے بزرگوں سے کیسے بات کرنی یا ماننی ہے ۔ یا کسی ضرورت مند کو دیکھ کر نظر انداز نہیں کرنا،یا گھر میں ملازمین کیسے رویہ رکھنا ہے ۔ حتی کہ اچھائی اور برائی میں تخصیص نہیں کی جاتی ۔ تو ایسا علم جس کی بنیاد ہی صحیح نہیں رکھی جارہی ،وہ کیسے آپ کے لئے شعور کے رستے کھول سکتا ہے ۔
شعور کے لئے تعلیم اور تعلیمی اداروں کے ساتھ تربیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔ جس میں نہ صرف والدین بلکہ اساتذہ کا بھی برابر کا حصہ ہوتا ہے ۔
لیکن آج کا دور لمحہ فکریہ بن کر رہ گیا ہے ۔ جس میں شعور و آگاہی کا حد درجہ فقدان پایا جاتا ہے۔ ہم ڈگریاں حاصل کر والے پیشہ ور افراد تو پیدا کر رہے ہیں ۔ لیکن ہم اچھے انسان اور ان انسانوں سے بننے والا باشعور معاشرہ بنانے میں بالکل ناکام ہو رہے ہیں ۔ اور یہی معاشروں اور پھر ملکوں کے زوال کا باعث بنتے ہیں۔
نہیں ہے نا امید اقبال اپنے کشت ویران سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
ابھی بھی دیر نہیں ہوئی جب جاگو تب سویرا۔
آج بھی اگر ہم اپنا قبلہ درست کرتے ہوئے اس بات کو سمجھ جاتے ہیں۔کہ تعلیم کا مقصد محض ڈگری کا حصول نہیں ، بلکہ کردار سازی کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور علوم کے ساتھ اپنے اخلاقیات اور اقدار کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہے ۔ تو شاید ہم شعور کی پہلی سیڑھی کی جانب اپنا قدم بڑھانے میں کامیاب ہو سکیں۔
ہم نے بہت سے لوگ دیکھے ہیں۔جن کے پاس پیشہ ورانہ ڈگریاں نہیں ہوتیں، لیکن ان شعبوں میں وہ اپنا نام بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس کے پیچھے ان کی محنت اور وہ اخلاص شامل ہوتا ہے ۔ جس کی بدولت وہ سیکھنے کے لائق ہیں۔ جس کی ان کے پاس تعلیم نہیں ہوتی ۔
شعور کے بنا تعلیم کی بھی وہی حیثیت رہ جاتی ہے ۔ جو ایک دئیے کی تیل کے بغیر ہوتی ہے ۔ اور وہ دیا کس کام کا جو اندھیرے میں آپ کے لئے روشنی نہ کر سکے ۔ ڈگری کے حصول کے لئے ضرور علم حاصل کریں لیکن اس میں شعور کے پھول بھی اگا لیں ،تو آج ہم اس مقام پر کھڑے نہ ہوتے ، جہاں ہم کھڑے ہیں۔
مزید پڑھیں





