انسان کی تاریخ میں علم کی تلاش ہمیشہ ایک مقدس سفر سمجھی گئی ہے۔ قدیم زمانے میں جب کوئی طالب علم گھر سے نکلتا تھا تو اس کے ذہن میں نوکری یا تنخواہ کا کوئی تصور نہیں ہوتا تھا۔ وہ اس لیے نکلتا تھا کہ اسے جاننا تھا، سمجھنا تھا، اپنے اندر کے اندھیرے کو روشنی سے بدلنا تھا۔ کتب خانوں سے لے کر مدرسوں تک، علم ایک عبادت کی طرح حاصل کیا جاتا تھا۔ استاد محض نصاب نہیں پڑھاتا تھا، وہ شاگرد کو جینے کا سلیقہ سکھاتا تھا۔ شاگرد برسوں استاد کی صحبت میں رہتا، اس کی گفتگو سے سیکھتا، اس کے اٹھنے بیٹھنے سے اخلاق پاتا اور جب رخصت ہوتا تو اس کے پاس کاغذ کا کوئی ٹکڑا نہیں، ایک روشن ذہن اور بیدار ضمیر ہوتا تھا۔
شاید یہی وجہ تھی کہ اس زمانے کے اہل علم کی بات میں وزن ہوتا تھا۔ وہ بادشاہ کے سامنے بھی سچ کہنے کی ہمت رکھتے تھے، کیوں کہ ان کی عزت کسی عہدے سے نہیں، ان کے علم اور کردار سے تھی۔ ان کے لیے تعلیم کا مطلب تھا سوچنے کی صلاحیت، پرکھنے کی تمیز اور اچھے برے میں فرق کرنے کی بصیرت۔ علم انسان کو عاجز بناتا تھا، متکبر نہیں۔ جتنا کوئی زیادہ جانتا، اتنا ہی اسے اپنی لاعلمی کا احساس گہرا ہوتا۔
اب ذرا اپنے دور پر نظر ڈالیے۔ آج کا طالب علم صبح اٹھتا ہے تو اس کے سامنے ایک ہی سوال ہوتا ہے: کتنے نمبر آئیں گے؟ والدین کی دعا بھی یہی ہے کہ بچہ اچھے گریڈ لے آئے تاکہ کل کو اچھی نوکری مل جائے۔ تعلیم ایک سرمایہ کاری بن چکی ہے جس کا منافع تنخواہ کی صورت میں گنا جاتا ہے۔ اسکول کے پہلے دن سے ہی بچے کو یہ بتانا شروع کر دیا جاتا ہے کہ پڑھو گے نہیں تو کچھ بنو گے کیسے؟ اور "کچھ بننے" کا مطلب ڈاکٹر، انجینئر یا افسر بننا ہے، انسان بننا نہیں۔
اس سوچ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ ہم نے سمجھنے کی جگہ رٹنے کو رواج دے دیا۔ امتحان میں کامیابی کا راز یہ ٹھہرا کہ جو کتاب میں لکھا ہے وہی کاغذ پر اتار دیا جائے۔ سوال کرنے والا بچہ استاد کو بوجھ لگتا ہے، کیوں کہ اس کے سوال نصاب سے باہر نکل جاتے ہیں اور نصاب مکمل کرنے کا دباؤ سر پر سوار ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارے بچے سالہا سال پڑھتے ہیں مگر سوچنا نہیں سیکھتے۔ وہ جواب جانتے ہیں مگر سوال کرنا نہیں جانتے۔ وہ معلومات رکھتے ہیں مگر حکمت سے خالی ہیں۔
ڈگری کی اس دوڑ نے ایک اور افسوس ناک رجحان کو جنم دیا ہے اور وہ ہے شارٹ کٹ کی تلاش۔ جب مقصد صرف کاغذ حاصل کرنا ہو تو پھر محنت کی جگہ نقل، سفارش اور جعلی ڈگریاں لے لیتی ہیں۔ ہم نے اپنے ہی معاشرے میں ایسے لوگ دیکھے ہیں جن کے پاس اعلیٰ ترین اسناد ہیں مگر ان کی گفتگو سن کر اندازہ ہوتا ہے کہ تعلیم ان کے قریب سے بھی نہیں گزری اور ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے رسمی تعلیم کم پائی مگر ان کی باتوں میں وہ گہرائی ہے جو برسوں کے مطالعے اور تجربے سے آتی ہے۔ یہ فرق ہمیں بتاتا ہے کہ ڈگری اور علم دو الگ چیزیں ہیں اور ایک کی موجودگی دوسرے کی ضمانت نہیں۔
یہاں میں ایک استاد کی حیثیت سے یہ بھی کہنا چاہوں گی کہ اس صورت حال میں ہم معلم بھی بری الذمہ نہیں۔ جب ہم خود بچوں کو صرف امتحان کی تیاری کرواتے ہیں، جب ہم نتیجے کو کامیابی کا واحد پیمانہ بنا لیتے ہیں، تو ہم اس بگاڑ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ استاد کا کام صرف نصاب ختم کروانا نہیں، شاگرد کے اندر تجسس کی چنگاری جگانا ہے۔ اگر ایک بچہ ہماری کلاس سے یہ سیکھ کر نکلے کہ سوال پوچھنا اچھی بات ہے اور غلطی کرنا سیکھنے کا حصہ ہے، تو شاید ہم نے وہ کام کر دیا جو کوئی ڈگری نہیں کر سکتی۔
لیکن انصاف کا تقاضا ہے کہ ہم دوسرا رخ بھی دیکھیں۔ ہمارے معاشی حالات ایسے ہیں کہ ایک عام گھرانے کے لیے روزگار کوئی عیاشی نہیں، ضرورت ہے۔ جو والدین پیٹ کاٹ کر بچوں کو پڑھاتے ہیں، ان سے یہ توقع کرنا کہ وہ صرف شعور کی خاطر پڑھائیں اور نوکری کی فکر نہ کریں، ایک طرح کی ناانصافی ہوگی۔ بے روزگاری کے اس دور میں ڈگری کو روزگار کا ذریعہ سمجھنا کوئی جرم نہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب ذریعہ ہی مقصد بن جائے اور مقصد بالکل نظر سے اوجھل ہو جائے۔
اصل بات توازن کی ہے۔ تعلیم کو روزگار سے جدا نہیں کیا جا سکتا مگر اسے صرف روزگار تک محدود بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ایسا انسان جو اپنے پیشے میں ماہر ہو مگر اس میں اخلاق، برداشت اور سوچ کی گہرائی نہ ہو، وہ معاشرے کے لیے ایک کامیاب مشین تو ہو سکتا ہے مگر ایک اچھا شہری نہیں۔ اس کے برعکس شعور رکھنے والا انسان جس شعبے میں بھی جائے، اپنے ساتھ دیانت، بصیرت اور ذمہ داری لے کر جاتا ہے۔ ایک شعور یافتہ ڈاکٹر مریض کو گاہک نہیں، انسان سمجھتا ہے۔ ایک شعور یافتہ افسر کرسی کو اختیار نہیں، امانت سمجھتا ہے۔
ہمیں اپنے تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ نصاب ایسا ہونا چاہیے جو یادداشت کے بجائے فہم کو پرکھے۔ امتحان ایسے ہوں جو بچے کی سوچنے کی صلاحیت جانچیں۔ گھروں میں بھی ہمیں اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔ بچے کے نمبروں پر خوش ہونے کے ساتھ ساتھ یہ بھی پوچھیں کہ آج اس نے کیا نیا سیکھا؟ اسے کتاب پڑھنے کی عادت دیں، سوال کرنے کی آزادی دیں اور یہ احساس دلائیں کہ علم کی قدر اس کی افادیت سے نہیں، اس کی روشنی سے ہے۔
مزید پڑھیں






