زاویار ہمیشہ سے اچھا طالب علم رہا تھا۔ میٹرک میں اچھے نمبر آئے انٹر میں پوزیشن رہی اور یونیورسٹی میں گولڈ میڈل ملا۔ گھر والے خوش تھے رشتہ دار تعریف کرتے محلے والے کہتے کہ یہ لڑکا کچھ بنے گا۔ زاویار خود بھی سمجھتا تھا کہ وہ ٹھیک راستے پر ہے۔ پڑھائی کرو نمبر لاؤ ڈگری حاصل کرو پھر اچھی نوکری مل جائے گی۔ سب نے یہی بتایا تھا اور وہ بھی یہی مانتا رہا۔
یونیورسٹی کے دنوں میں اس نے دیکھا کہ زیادہ تر طالب علم صرف پرچے پاس کرنے کے لیے پڑھتے ہیں۔ استاد کلاس میں اہم سوالات بتا کر نکل جاتے۔ طالب علم رات رات بھر نوٹس رٹتے۔ زاویار نے بھی یہی کیا۔ اس نے محنت کی رٹے پرچے دیے اور آخر میں ڈگری حاصل کر لی۔ کنوووکیشن کے دن والدہ کی آنکھیں بھری ہوئیں والد نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ رشتہ داروں نے مبارکباد دی مٹھائیاں بندٹیں۔ سب نے کہا کہ اب راستہ کھل گیا ہے۔
مگر راستہ بند نکلا۔
زاویار نے کئی جگہوں پر درخواستیں دیں اور انٹرویوز دیے۔ تقریباً ہر جگہ ایک جیسا سوال آتا۔ تم نے عملی طور پر کیا سیکھا ہے؟ اگر یہ مسئلہ پیش آئے تو تم کیسے حل کرو گے؟ زاویار کے پاس جواب نہیں ہوتا تھا۔ وہ نظریہ تو بتا سکتا تھا جو کتابوں میں لکھا تھا مگر جب عملی بات آتی تو وہ خاموش ہو جاتا۔ ایک جگہ انٹرویوئر نے سیدھے الفاظ میں کہہ دیا تمہارے پاس ڈگری ہے سوچ نہیں۔ یہ بات زاویار کو بری لگی مگر اندر ہی اندر اس نے محسوس کیا کہ بات بالکل غلط بھی نہیں۔
مایوسی کے ان دنوں میں وہ اپنے پرانے استاد سے ملا۔ استاد ریٹائر ہو چکے تھے اور گھر پر ہی رہتے تھے۔ زاویار نے جا کر سب حال سنایا۔ بے روزگاری انٹرویوز اور وہ جملہ جو بار بار یاد آتا تھا۔ استاد نے چائے پیتے ہوئے غور سے سنا پھر آہستہ سے کہا
بیٹا ڈگری تو تمہیں مل گئی۔ اب خود سے پوچھو کہ اصل میں سیکھا کیا ہے۔ بہت سے لوگ کاغذ جمع کر لیتے ہیں مگر سمجھ نہیں پاتے۔ تم نے جواب رٹے سوال کم کیے۔ اب سوچو کہ آگے کیا کرنا ہے۔ صرف نوکری کی تلاش میں مت رہو۔ کچھ اور بھی دیکھو۔
زاویار نے اس رات بہت سوچا۔ اگلے دن سے اس نے شہر کی ایک پرانی لائبریری میں جانا شروع کیا۔ پہلے وہ صرف نصابی کتابیں جانتا تھا۔ اب اس نے تاریخ کی کتابیں اٹھائیں کچھ کہانیاں پڑھیں سائنس اور سماجی مسائل پر لکھی کتابیں دیکھی۔ پہلے وہ جلدی جلدی پڑھتا تھا تاکہ امتحان پاس ہو جائے۔ اب وہ رک رک کر پڑھتا تاکہ بات سمجھ میں آئے۔ شروع میں مشکل لگتی تھی مگر آہستہ آہستہ اس کے اندر کچھ تبدیل ہونے لگا۔ وہ صرف یاد نہیں رکھتا تھا سوچنے لگا تھا۔ کسی بات کو پڑھ کر اس کے ذہن میں سوال اٹھتے اور وہ ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتا۔
کچھ ہفتوں بعد اس نے اپنے محلے کی ایک چھوٹی سی تنظیم میں رضاکارانہ کام کرنا شروع کیا۔ وہاں جا کر اس نے دیکھا کہ کتابوں والی دنیا اور اصلی زندگی میں کتنا فرق ہے۔ غربت صرف ایک لفظ نہیں تھی وہ گلیوں میں نظر آتی تھی۔ بے روزگاری صرف خبر نہیں تھی وہ لوگوں کے چہروں پر لکھی ہوتی تھی۔ بچے جو اسکول نہیں جا سکتے تھے ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ زاویار نے محسوس کیا کہ اس کی ڈگری ان مسائل کا کوئی حل نہیں نکال سکتی۔ مگر اگر وہ سوچے اور کچھ کرنے کی کوشش کرے تو شاید تھوڑا سا فرق پیدا کر سکے۔
کچھ مہینوں بعد اس نے اپنے گھر کے ایک کمرے میں بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا۔ وہ صرف سبق نہیں پڑھاتا تھا۔ وہ کوشش کرتا کہ بچے پوچھیں سوچیں اور خود جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ شروع میں والدین کو اعتراض تھا۔ وہ کہتے کہ اس طریقے سے نمبر کیسے آئیں گے۔ کچھ نے اپنے بچے بھی واپس لے لیے۔ مگر جو بچے رہ گئے وہ آہستہ آہستہ بدل لگے۔ وہ پہلے سے بہتر طریقے سے سمجھنے لگے سوال پوچھنے لگے اور خود کچھ لکھنے کی کوشش کرنے لگے۔
ایک دن زاویار کے والد شہر آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ بیٹا بچوں کے ساتھ فرش پر بیٹھا ہوا ہے۔ کچھ دیر خاموشی سے دیکھتے رہے پھر پوچھا نوکری کی تلاش چھوڑ دی تم نے؟
زاویار نے سر اٹھا کر کہا ابو ڈگری تو میرے پاس ہے۔ مگر اب مجھے لگتا ہے کہ صرف ڈگری کافی نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ جو کچھ میں نے سیکھا ہے اسے سمجھ کر آگے بڑھاؤں۔ ان بچوں کو بھی یہی سکھانا چاہتا ہوں کہ نمبر اہم ہیں مگر ان سے زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ سمجھتے کیا ہیں۔
والد کچھ دیر خاموش رہے۔ ان کے چہرے پر کئی طرح کے جذبات آئے اور گئے۔ پھر انہوں نے آہستہ سے کہا ہم نے ہمیشہ یہی سوچا کہ اچھے نمبر اور ڈگری ہی کامیابی ہے۔ شاید ہم نے تصویر کا ایک ہی پہلو دیکھا تھا۔
وقت گزرتا گیا۔ زاویار کا چھوٹا سا کام آہستہ آہستہ بڑھنے لگا۔ کچھ بچے اچھے کالجوں میں داخل ہو گئے۔ کچھ نے اپنے چھوٹے موٹے کام شروع کر دیے۔ سب کے پاس ڈگریاں تھیں یا ڈگریاں حاصل کر رہی تھیں مگر ان میں ایک بات الگ تھی۔ وہ صرف رٹا ہوا علم نہیں لے کر جا رہے تھے سوچ بھی لے کر جا رہے تھے۔
ایک شام زاویار اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا تھا۔ باہر گلی میں بچے کھیل رہے تھے۔ اسے یاد آیا کہ کب اس کے پاس صرف ایک ڈگری تھی اور دل میں بہت سی بے چینی۔ اب حالات مکمل طور پر تبدیل نہیں ہوئے تھے نوکری کی وہ بڑی سی تصویر اب بھی دور تھی مگر وہ کم از کم یہ جانتا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے۔
اس نے دل میں کہا ڈگری ایک کاغذ ہے۔ اصل چیز وہ ہے جو انسان کے اندر رہ جائے۔ اگر تعلیم صرف ڈگری بن کر رہ جائے تو وہ ادھوری رہتی ہے۔
جب وہ شعور بن جائے تب جا کر وہ مکمل ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں






