تعلیم کے معنی ہیں سیکھنے یا سکھانے اور انسان کے اندر اظہار مافی الضمیر جگانے کے ہیں ۔ وہ اظہار جو انسان کو اندر سے انسان بنا دے اور باہر کی دنیا میں سمجھ بوجھ ، عقل کا استعمال اور ادب و احترام سکھا دے ۔
ایک چھوٹا بچہ جب سکول میں داخل ہوتا ہے تو ان تمام چیزوں سے ناآشنا ہوتا ہے مگر اس کے والدین ادارے میں داخل کرواتے وقت یہی سوچ رکھتے ہیں کہ چند سال گزرنے کے ساتھ جہاں ان کا بچہ بڑا ہوگا وہاں پر یہ ایک اچھا شہری بن جائے گا ۔ عقل و شعور کی نعمت اسے حاصل ہو جائے گی اور وہ معاشرے میں ایک کارآمد فرد اور بہترین رہنما بن کر نکلے گا ۔مگر دور حاضر میں جب تعلیم کی حالت دیکھتے ہیں تو یہ سب بات عقل سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا یہ تعلیم شعور و عقل اور نئی سوچ لانے کا ذریعہ بنے گی یا محض کاغذ کا ایک ٹکڑا ہو گا جسے عرف عام میں ڈگری کا نام دیا جاتا ہے ، اور وہ حاصل کرنے کے ساتھ ہی پروفیسر، ڈاکٹر اور مزید القابات لگ جاتے ہیں مگر اندر سے کھوکھلی ہڈی کی طرح ہوتے ہیں ۔جس میں علم و عمل اور ادب و احترام نام کی کوئی چیز بھی باقی نہیں رہتی ۔
موجودہ دور کا تعلیمی نظام جب دیکھتے ہیں تو زبان یہ بات کہنے پر مجبور ہوتی ہے کہ موجودہ تعلیمی نظام فقط ڈگری نظام رہ چکا ہے ۔ یہ ایسا نظام بن چکا ہے جس میں سیکھنے کی صلاحیت ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ سکھانے والے اساتذہ کے اندر وہ جذبہ تدریس باقی نہ رہا جو آج سے تیس سال قبل باقی تھا ۔ ان حالات کے باوجود اگر کہیں جذبہ تدریسی اور نئے نئے آئیڈیا دینے کا ہنر اور شوق موجود ہے تو وہاں کا نظام اسے اس بات پر مجبور کر دیتا ہے کہ ایک مخصوص حدود میں رہ کر تدریسی خدمات سر انجام دے جس سے اس کے اندر موجود خاص صلاحتیں طلباء کو منتقل نہیں ہو سکتیں اور طلباء کے اندر شوق و جذبہ نہیں بیدار ہو سکتا۔ کیونکہ اساتذہ کو ایک مخصوص خول میں بند کیا جاتا ہے جہاں رہ کر بعض دفعہ اس کی اپنی صلاحتیں بھی زنگ آلودہ ہو جاتی ہیں ، خاص طور پر یہ مسئلہ پرائیویٹ اداروں میں ہوتا ہے ۔وہاں بعض اداروں کے سربراہ اساتذہ کو بعض اپنی من مانیوں کی پابندیوں میں جکڑ کر اس سے حاصل ہونے والے قیمتی استفادے سے طلباء کو محروم کروا دیتے ہیں ۔ جس سے طلباء کو اس طرح محنت اور لگن سے تعلیم کا اعلی جذبہ اور زندگی گزارنے کا شعور نہیں دے سکتا بلکہ صرف نصابی کتاب کو مخصوص وقت میں ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ کیونکہ اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ اگر مخصوص وقت میں نصاب ختم نہ ہو سکا تو میری نوکری خطرے میں ہوگی ۔
اس کے علاوہ بھی چند مسائل ایسے ہیں کہ جس نے ہمارے تعلیمی نظام کو ڈگری کے حصول کی حد تک پابند کر رکھا ہے اور جدید ٹیکنالوجی سے وابستہ ہونے سے دور رکھا ہوا ہے ۔ ہمارا تعلیمی نظام کا کریکولم سن 2006 کا بنا ہوا ہے اور کتابوں کے اندر موجود اسباق میں نئی چیز سیکھنے والی نہ ہونے کے برابر ہے ۔
سرکاری اداروں میں تو تعلیمی حالت اس سے بھی بدتر ہے ۔ جہاں وقت گزارنے کا نظام بنایا ہوا ہے اور امتحانی زمانے میں اپنے ہال میں طلباء سے اپنی ہی نگرانی میں امتحانات دلائے جاتے ہیں جہاں نقل کا رجحان اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ طلباء سارا سال صرف اس وجہ سے کتاب سے دور رہتے ہیں کہ سال کے اخیر میں چند پیسے دے کر پرچے اچھے نمبروں سے پاس ہو جائیں گے اور ان کے پاس بھی میٹرک ، پھر اسی طرح ایف اے کی ڈگری آجائے گی۔ پھر جب یونیورسٹی کا زمانہ آتا ہے تو وہ خالص موج مستی کا زمانہ ہوتا ہے ۔ بس اساتذہ سے تعلق بنا کر رکھو اور سمسٹر میں ہول سیل ریٹ کے لحاظ سے نمبر حاصل کرتے جاؤ اور چار سال بعد ماشاءاللہ گریجوئیشن مکمل ہو جاتی ہے مگر مسئلہ تو تب شروع ہوتا ہے جب یہ کاغذ کی ڈگری لے کر کسی بھی جگہ نوکری کے لیے جانا پڑے تو آگے انٹرویو میں ایک لفظ کا پتہ نہ ہو ۔پھر سمجھ آتی ہے کہ میں تو اب تک تعلیم سے مکمل دور تھا اور اب تک سولہ سال صرف ایک ڈگری کے حصول میں گزارے ۔ وہ ڈگری جو کاغذ کا ٹکڑا تھی ۔ جس میں سوچ ،سمجھ , عقل و شعور اور معاشرے میں جینے کا کوئی ڈھنگ نہیں اور پھر سمجھ آتی ہے کہ تعلیم صرف ڈگری کے حصول کا نام نہیں بلکہ تعلیم تو شعور کی بیداری کا نام ہے ۔تب جا کر ہمیں سمجھ آتی ہے اور یہ بات عیاں ہوتی ہے مگر تب تک وقت ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم کے حقیقی مقاصد کو سمجھنا ہی نہیں بلکہ عملی طور پر اسے نافذ کروانے کی کوشش کرتی ہے تا کہ ہمارا معاشرہ پڑھا لکھا اور سلجھا ہوا بن جائے اور اس کے اندر سچ اور جھوٹ ، صیح اور غلط میں فرق کی پہچان پیدا ہو سکے ۔وہ معاشرے کا ایک بہترین فرد بن کر مستقبل میں قوم کا معمار بن سکے اور قوم کے اندر سے زمانہ جاہلیت والا انداز ختم کروا کر حقیقی معنی تعلیم سمجھائے۔ اس کے لیے حکومت وقت اور تعلیم کے وزراء کو بھی سنجیدگی دکھانے ہوگی اور نصاب تعلیم میں تبدیلیاں لانی ہوں گی جو کہ طلباء کی ذہنی صلاحیت کے مطابق ہو اور طلباء کو سیکھنے کے زیادہ مواقع حاصل ہو سکیں۔
دوسری جانب امتحانی نظام اور طریقہ تدریس میں بہتری لانے کی ضرورت ہے اور نقل جیسے ناپاک کاموں سے اجتناب کرنا پڑے تب جا کر تھوڑی بہتری آسکے گی اور ساتھ ہی تعلیمی نظام میں جدید اصلاحات کی ضرورت ہیں تا کہ ہمارا مکمل نظام تعلیم دنیا میں مشہور ہو سکے۔
مزید پڑھیں






