اتوار، 25 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تعلیم ،شعور یا صرف ڈگری،تحریر: کلثوم افتخار

نقطہ نظر

علم، تعلیم، معلم اور متعلم

یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے انسان۔

اقراء باسمک الذی خلق ۔

کائنات بنانے والے اللّٰہ نے پہلا حکم ہی علم حاصل کرنے کا صادر کیا۔ لیکن یہ بھی واضح کر دیا کہ

آ گاہ رہو ، خبردار ہو جاؤ ، اس کائنات کی وسعتوں کو کنگھالو اور سوچو اور

سمجھو اور تدبر کو اپنا ذریعہ علم بنا لو۔ اندھا دھند تقلید نہ کرو اور شعور حاصل کرو۔

کبھی کبھی کم علمی بھی بہت بڑی نعمت بن جاتی ہے اور بہت زیادہ آگاہی بھی جان کا عذاب ہوتی ہے

جاننا اور مزید جاننے کی طلب رکھنا علم والوں کا کام ہے ۔ لیکن شعور اور آگاہی کا علم سے اتنا ہی گہرا تعلق ہے جتنا حضرت انسان کا کھانے پینے ،سونے جاگنے اور اپنی زندگی کو خوبصورت بنانے کی جد و جہد سے ہے۔

علم۔اور آگاہی ایک ایسے سفر کا نام ہے جو سیکھنے والے طالب علم پر ہر روز آگاہی اور شعور کا نیا در کھول دیتا ہے اور شعور کی منازل کو طے کرتے ہوئے انسان اس بلندی تک جا پہنچتا ہے جو تعلیم کا مقصد اور زندگی کا حاصل بن جاتا ہے شعور کے لفظ سے اگر صرف ع کو نکال دیا جائے تو شور بن جاتا ہے جس طرح خالی برتن ذرا سا بجانے سے ، گرنے سے بہت زیادہ بجتا ہے اسی طرح وہ انسان جو شعور کی کیفیت سے محروم ہوتا ہے لاشعوری طور پر بہت زیادہ کھنکنے لگتا ہے خالی کھنکتا ہوا برتن اور خالی بولتے ہوئے لاعلم انسان میں بہت گہری مماثلت ہے دونوں بجتے بہت زیادہ اور بامقصد ہیں۔

علم خوشحالی میں ایک زیور اور مصیبت میں ایک پناہگاہ ہے یہ کہاوت مشہور فلسفی ارسطو سے منسوب ہے

تعلیم انسان کو باشعور بناتی ہے اور گفتگو سے مکمل کرتی ہے ۔ علم کا اصول ہر انسان پر لازم و ملزوم ہے کہ علم اور شعور ہر ایک کا بنیادی حق ہے۔

کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے بچوں نوجوانوں سے بھرے ہوئے سکول کالج اور یونیورسٹیاں جو علم کی مضبوط پناہ گاہیں تو بن گئی ہیں لیکن کیا وہ شعور اگاہی کا ایک مرکز بھی بنی ہے یادس، بارہ ، چودہ ، سولہ، یا اٹھارہ سالہ تعلیمی سلسلہ مکمل کرنے کے بعد صرف ایک کاغذ کا فرد ہاتھ میں تھامے نوجوان قطار اندر قطار کی صورت معاشرے میں جب عملی طور پر قدم رکھتے ہیں تو کیا وہ ایک باشعور انسان بننے کی سند حاصل بھی کر چکے ہوتے ہیں یا وہ کاغذ کا ٹکڑا صرف ایک ڈگری ہی ہوتا ہے

یہ ڈگری دراصل ایک ایسی سند کا نام ہے جو مخصوص تعلیمی مدارج طے کرنے کے بعد طالب علم اپنی انتھک محنت کے بعد بالاخر حاصل کرتے ہیں اور والدین اپنے خاندان عزیز رشتہ داروں میں اور واقف کاروں سے فخر کے ساتھ اس ڈگری کے حصول کے مرحلے کا ذکر کرتے ہیں اور ساتھ ہی اپنی اولاد کی کامیابی کہ حصول کے سلسلے میں کی جانے والی انتھک محنتوں اور اپنی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں وہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ شاید اس طرح بطور والدین ان کا صحیح معنوں میں کردار مکمل ہو گیا ہے اج جا بجا بزرگوں کے پناہ گاہیں اور رہائشی مراکز کھلتے جا رہے ہیں وہ اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ تعلیم کے ذریعے صرف ڈگری ہی حاصل کی گئی لیکن شعور اور اگاہی کے ساتھ ساتھ تربیت کے مدارج کو نظر انداز کر دیا گیا۔کیا شعور اور اگاہی دینے کی ذمہ داری بھی صرف تعلیمی اداروں پر ہے یا اس سلسلے میں والدین کا بھی کوئی اہم کردار ہے جی جناب یہ سوال بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسی سوال میں ہمیں جواب بھی مل جاتا ہے بطور والدین ہم اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی نہیں کر سکتے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بطور اساتذہ اور بحثیت ادارہ ہم تربیتی اور اگاہی کے مراحل کو نہ ہی نظر انداز کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان سے چشم پوشی اختیار کر سکتے ہیں کلاس اول سے لے کر یونیورسٹی میڈیکل اور انجینئرنگ کی حتمی ڈگری کے حصول تک بچہ اپنی زندگی کے اور نشو نما کے بہت سے مراحل سے بتدریج گزرتا چلا جاتا ہے اس دوران اس کی شخصیت کے چار پہلو بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جسمانی ذہنی روحانی اور جذباتی نشونما اور صحت کے مراحل شعور اور اگاہی کو پنپنے میں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں

بعض گھرانوں میں تعلیم پر توجہ دی جاتی ہے لیکن اس تعلیم کا مطلب صرف چند کتابیں اور سبق کو رٹوا دینا ہی کافی سمجھا جاتا ہے جبکہ بعض میں سکول اور تعلیمی اداروں کی کوششوں کے بعد بچے کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے پر زور دیا جاتا ہے اصل میں ہم دو انتہاؤں پر چلے جاتے ہیں ایک مکتبہ فکر ہے جس میں والدین اور اساتذہ شامل ہیں صرف اس بات پہ ہی زور دیتے ہیں کہ بچوں کو چند سبق اور چند مہارتیں جیسے کہ اردو بنیادی حساب کتاب لکھنا پڑھنا اور چند بنیادی مضامین میں اعلی درجے کی مہارت حاصل کرنے کے لیے مخصوص نظریات کو اور اسباب کو یاد کر کے لکھ لینا اور بار بار اس کی مشق کرنا اچھے نمبر لینے کے لیے لازمی امر ہے جب کہ دوسرا مکتبہ فکر اس نظریے کا حامی ہے بچے کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جائے اور اس کو پہلے مرحلے پر چیزوں کو دیکھنا پر رکھنا سوچنا سمجھنا اور پھر اپنے انداز اور سوچ کے مطابق نظریات کو بیان کرنا لکھنا اور وضاحت کے ساتھ سمجھنا بہت ضروری ہے یہ عملیت پسند تعلیمی نظام کے پیروکار ہیں جبکہ دوسری طرف روایتی طریقہ کار چل رہا ہے اس دوران تمام ماہرین تعلیم وشمول والدین اپنے اپنے نظریات اور عقائد اور سوچ اور فکر بچے پر انڈیلنا شروع کر دیتے ہیں کبھی یہ سوچنا کہ کھیل کود جسمانی تربیت بچے کے لیے سبق یاد کرنے اور پڑھائی لکھائی سے زیادہ ضروری ہیں کہ جب تک جسمانی صحت نہیں ہوگی ذہنی صحت ناممکن ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے تربییت کہ چاروں عناصر اپنی اپنی جگہ پر اہمیت رکھتے ہیں ایک صحت مند اور تندرست جسم ہی ذہنی صحت کی طرف جا سکتا ہے اسی طرح ایک ایسا انسان جو کھیل کود کے میدان میں صبر و ضبط، نظم و ضبط برداشت ، تحمل

روا داری کا مظاہرہ کر سکتا ہو وہی عملی زندگی میں بھی اچھے فیصلے اور کامیاب منصوبے بنا سکتا ہے ایک سست اور تھکا ہوا ذہن ذہنی طور پر بھی بالغ نہیں ہوتا بلکہ اس کے برعکس چڑچڑا پن ذہنی طور پر دھند کا شکار متزلزل قوت فیصلہ اور جذباتی طور پر کمزور شخصیت رکھتا ہے

تعلیم کا مقصد صرف ڈگری کا حصول ہی نہیں بلکہ شعور اور اگاہی دینا بھی ہے انسانی شخصیت کے چاروں عناصر کو اگر یکجا طور پر اہمیت نہ دی جائے یا اگر ان کو درست انداز میں پنپنے گا موقع فراہم نہ کیا جائے تو اس معاشرے میں اکثریت کی تعداد ذہنی جذباتی اور روحانی طور پر بھی کمزور ہی ہوتی ہے اگر تعلیمی ادارے صرف کچھ خاص مضامین پر ہی توجہ دیتے رہیں تو زبانوں ادب کا شعور اور محبت مفقود ہوتی جائے گی اور نتیجتا اچھے شعراء لکھاری ادیب اور معاشرے کے ناقد اور ناصح افراد نابغہ روزگار ہو جائیں گے جس طرح خاندان معاشرے میں ایک اکائی کی حیثیت رکھتا ہے اسی طرح باقی معاشرتی ادارے بھی اپنی اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں خاندان کی ایک اکائی سے تربیت اور تعلیم کا اغاز ہوتے ہی معاشرے میں تعلیم اور تربیت کا دور دورہ ہو جاتا ہے چاہے یہ تعلیم رسمی ہو یا غیر رسمی لیکن دونوں کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے اور وہ ہے معاشرے میں شعور اگاہی بلند کرداری اور اعلی صفات کے حامل افراد کی فراہمی اور یہ وہ افراد ہوتے ہیں جو شہریت کے اصول و ضوابط سے اگاہی رکھتے ہیں جو سرخ بتی جلنے پر اپنی گاڑی اگے بھگا نہیں لے جاتے بلکہ قوانین کی پاسداری کو درجہ اولی کی حیثیت دیتے ہیں جن کو اس چیز کا ہرگز خوف نہیں ہوتا کہ کیمرے کی انکھ اپ کو دیکھ رہی ہے بلکہ عوام کی نظروں سے اوجھل بھی اللہ تعالی کے خوف اور ڈر کو نے دل و دماغ میں بٹھائے ہوئے دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور کسی بھی قسم کی بددیانتی کا شکار نہیں ہوتے اور نہ ہی اپنی سوچوں کے ساتھ خیانت کرتے ہیں۔

یہی علم کی اگاہی ہے جو تعلیم کا مقصد اور تعلیم یافتہ اقوام کا مقصد حیات بن جاتی ہے شعور اور اگاہی کے بغیر معاشرے کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہ جانوروں کا ریوڑ بغیر کسی چرواہے کے کسی اجنبی منزل کی طرف گامزن ہو۔ شعور اگاہی اعلی کرداری صفات کا حصول اگرچہ مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں ہے

دراصل علم کا مقصد کردار کی تعمیر ہے

بقول ہربرٹ اسپنس تعلیم کے راستے میں مشکلات اور مصیبت کو جھیلنا انے والے مستقبل کو شعور اور اگاہی کا ادراک عطا کرتا ہے ۔ اور جو شخص علم و شعور کی اگاہی حاصل کیے بغیر زندگی گزارتا ہے اسے ہمیشہ ذلت جھیلنا پڑتی ہے اور جو شخص تلاشی علم نکلا وہ اپنی واپسی تک گویا اللہ تعالی کی راہ پر چلتا رہا۔ شعور دراصل جذبہ اور احساس کا نام ہے جس کا تعلق صرف ذہنی قوتوں کو جلا بخشنا نہیں بلکہ جسمانی طور پر بھی چست اور جذباتی اور روحانی طور پر بھی مضبوط انسان بنانا اور اس کائنات میں تخلیق آدم کی وجہ کو سمجھنا اور جاننے کا نام ہے

پہلی وحی اقراء نازل ہوئی اور اس طرح بڑے واشگاف الفاظ میں تخلیق آدم کا مقصد بیان کر دیا گیا

اقبال کے شعر کا مصرع ستاروں سے اگے جہاں اور بھی ہیں دراصل شعور اور اگاہی کی وسعتوں کی طرف ہی اشارہ کرتا ہے

ڈگری یا سند ایک کاغذ کے ٹکڑے کا نام تو ہے جو کہ حقیقت میں والدین اور سند یافتہ نوجوانوں کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے بے شک یہ ان کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ ہے اور نہ صرف ان کی امیدوں کا مرکز بلکہ مستقبل سے وابستہ توقعات کا منبع بھی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اگر ان نوجوانوں کو مخصوص مہارتوں اور شعبوں میں نمایاں کارکردگی اور مخصوص پیمائشوں پر پورا اترنے کے بعد اعزازی طور پر سند سے نوازا جاتا ہے تو ساتھ ہی کچھ درجات میں ان کی شخصی اور کرداری بنیادوں پر بھی جانچ پڑتال بہت ضروری ہے کیا وہ اپنے مخصوص شعبے میں مہارتوں کا استعمال درست انداز میں کر سکتے ہیں یا کیا وہ یہ اہلیت رکھتے ہیں کہ اپنے مخصوص شعبہ حیات میں کام کے دوران شدید دباؤ کی صورت میں تحمل بردباری، صبر، برداشت اور اعلی قسم کی انتظامی کارکردگی دکھانے کے قابل ہیں یا اس قابلیت کے کس درجے پر فائز ہیں؟

ترقی یافتہ ممالک میں تعلیمی نظام میں مختلف درجات طے کرتے ہوئے طالب علموں کی ان تمام جملہ خصوصیات کا سختی سے جانچ پڑتال کا نظام وضع ہے اسی لیے وہاں طالب علم ہمیں معمولی ہاتھ سے محنت مزدوری کرنے والا کام بھی کرتے ہوئے پورے تمام اور مطمئن دکھائی دیتے ہیں جبکہ دوسری طرف ہم اپنے نوجوانوں کو اعلی تعلیمی اسناد کے حصول کے پیچھے بے لگام گھوڑے کی طرح دوڑتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں ۔ شعور اور اگاہی تعلیمی مدارج طے کرواتے وقت ہی اگر نصاب کا حصہ بنا دئے جائیں تو اعلیٰ معیار تعلیم اور تربیت یافتہ افراد ی قوت کا حصول عین ممکن ہے ۔

لمحہ فکریہ یہ ہے کہ آج تعلیم ، ڈگری یا سند صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ گئ ہے۔ کیا تعلیم نے اتنی شعور اور اگاہی مہیا کی ہے کہ ہمارے تعلیم یافتہ افراد ایک قطار میں کھڑے ہو کر اپنی باریک کا انتظار کر سکتے ہیں کیا وہ بغیر ٹریفک کانسٹیبل کے قانون کی پاسداری اور ٹریفک قوانین کی پابندی کر سکتے ہیں۔ کیا وہ بس یا ٹرین میں سفر کرتے ہوئے اپنی سیٹ کسی بزرگ کے لیے چھوڑ سکتے ہیں۔ کیا وہ اپنے معاشی مسائل کا حل محنت مزدوری اور کسی ہنر سے کر سکتے ہیں۔

کیا وہ راہ چلتی بیٹیوں پر جملے کسنے سے باز آسکتے ہیں ۔

کیا وہ جسمانی طور پر اتنے تندرست اور توانا ہیں کہ پیدل چلتے ہوئے انہیں کوئی مشکل نہ ہو۔ کیا وہ اپنے غصے پر قابو رکھ سکتے ہیں کیا وہ کسی ناپسندیدہ بات پر خاموش رہ کر لڑائی جھگڑے سے دور رہ سکتے ہیں۔ کیا وہ کسی پر ظلم ہوتا ہوا دیکھ کر ظالم کا ہاتھ روکنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ کیا وہ اپنے لیے کوئی ہنر سیکھ کر بے روزگاری کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں کیا ٹیکس ادا کرنا ان کو کہیں ناگوار تو نہیں گزرتا۔ کیا وہ اس قابل ہیں کہ سفارش اور رشوت کے بغیر اپنا کام کروانے کی قابلیت رکھتے ہوں ۔

اگر ہمیں ان تمام سوالوں کا جواب ہاں میں مل جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے تعلیم کے مقاصد کو حاصل کر لیا اور تعلیم کا مقصد صرف ڈگری یا سند کا حصول نہیں بنایا بلکہ معاشرے میں شعور اور اگاہی کا بیج بو دیا ہے

اگاہی اور شعور ایک ایسے خوشبودار پھول کی مانند ہے جو جس قدر کھلتا جائے گا اتنی ہی خوشبو پھیلتی جائے گی

اپنی زندگی کو علم سے ضرور منور کریں کیونکہ یہ بہت بڑی نعمت ربی ہے لیکن اس نعمت کی اہمیت کا احساس معاشرے کے سرکردہ لوگوں اور پالیسی سازوں کو بھی کرنا چاہیے جس معاشرے میں کھیل کے میدان اباد ہوں وہاں سے صحت مند شخصیتیں جسمانی طور پر تو صحت مند ہوتی ہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ جذباتی اور ذہنی طور پر بھی صحت مند رہتی ہیں۔ روحانی تعلیم کا براہ راست تعلق شعور اور اگاہی سے ہے ابتدائی جماعتوں سے لے کر اعلی تعلیمی مدارج تک کے بچوں میں اگر اللہ اور اس کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت دلی خلوص کے ساتھ اجاگر کی جائے تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ معاشرے میں الگ کردار کے افراد نہ پیدا ہو سکیں۔۔ بچوں میں رسمی اور غیر رسمی تعلیم دیتے ہوئے صرف اس چیز کا احساس اجاگر کیا جائے کہ مقابلہ صحت مندانہ ہونا چاہیے تقابلی فضا صحت مندانہ اور مثبت انداز فکر کو اجاگر کرتی ہو تو بچوں میں مسابقت کی دوڑ کا شوق اور لگن تو پیدا ہو جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ محنت کرنے کی ترغیب اور مکمل اور باہمی تعاون کی فضا پیدا ہو جاتی ہے اور یہی دراصل شعور کی اعلی اور بنیادی قسم بھی ہے یہ وہ شعور ہے جو بالاخر حق و باطل کے فرق کو واضح کر دیتا ہے اور اس کے ساتھ ہی معاشرے سے نفرت بربریت ظلم عصبیت ، تعصب کا بھی خاتمہ کر دیتا ہے سماجی طور پر مضبوط معاشرے سیاسی طور پر بھی بہت مضبوط ہوتے ہیں ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنا شخصی ازادی کے قوانین کا خیال رکھنا ہمسایوں کے حقوق کا خیال رکھنا دراصل حقوق و فرائض کی ایک ایسی زنجیر بنا دیتا ہے کہ جس سے افراد معاشرہ اپس میں ایک لڑی کی طرح پروئے جاتے ہیں اور اس لڑی کا ہر موتی اپنی مثال اپ ہوتا ہے۔

تعلیم کا مقصد اگر صرف ڈگری نہیں بلکہ شعور اور اگاہی کو پھیلانا اور ترویج دینا ہو تو معاشرہ مہاجرین و انصار کی بھائ چارے کی اعلیٰ مثال خوبصورت بن سکتا ہے۔ تعلیمی معیار بہتر ہو سکتا ہے اگر تعلیم صرف ڈگریوں کا ڈھیر نہ تقسیم کرے بلکہ شعور و آگاہی عطا کر ہی ہو۔ استاد محترم کا مقام اور مرتبہ واضح اور روشن ہو ۔ والدین بچوں کو صرف نمبروں کی دوڑ میں شامل نہ کریں اور سچ اور جھوٹ کا فرق غیر رسمی تعلیم یعنی گھر پر ہی ازبر کروا چکے ہوں۔

شعور اور اگاہی صحت مند معیاری زندگی کے طور طریقوں سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے جب یہ طے ہو کہ والدین ،نصاب،

ہم نصابی

سر گرمیاں ،طالب علم اور تعلیمی ادارے بشمول اساتذہ مل جل کر اور مشترکہ لائحہ عمل سے تعلیم اور تربیت کے جسمانی، روحانی ، ذہنی اور جذباتی پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے کوشش کریں تو باشعور شخصیتیں معاشرے میں نظر آئیں گیں۔

قحط الرجال کے اس دور میں اعلیٰ کرداری اور باشعور شخصیات کو پروان چڑھانا انتہائ ضروری ہے۔ ورنہ یہ معاشرے کا قانونیت اور قنوطیت پسندی کی طرف مائل ہو جائیں گیں۔

لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ اگر

شکوہ ظلمت شب کرنے سے تو بہتر تھا

اپنے حصے کی شمع جلاتے جاتے ۔