تعلیم، شعور یا صرف ڈگری،تحریر: ردا فاطمہ اعوان
نقطہ نظر
کسی بھی قوم کی حقیقی عظمت اور تہذیبی ارتقا کا اندازہ اس کی بلند و بالا عمارتوں، کشادہ شاہراہوں، جدید ترین ٹیکنالوجی یا تعلیمی اداروں کی کثرت سے نہیں لگایا جا سکتا۔ تاریخِ عالم ایسے شواہد سے بھری پڑی ہے کہ تہذیبیں اینٹ پتھر کے ڈھانچوں سے نہیں، بلکہ ان میں بسنے والے افراد کے اخلاقی معیار، فکری بیداری اور انفرادی و اجتماعی کردار سے عروج یا زوال حاصل کرتی ہیں۔ تعلیم بلاشبہ کسی بھی معاشرے کی فکری آبیاری اور روح کو بیدار کرنے والا سنگِ بنیاد ہے۔ لیکن عصرِ حاضر کا سب سے بڑا اور المناک ترین المیہ یہ ہے کہ ہم نے 'تعلیم' اور 'ڈگری' کو ایک ہی ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے، اور علم کی حقیقی روح کو کاغذی نمائش کے تسلسل میں کہیں گم کر دیا ہے۔
یہاں یہ سوال محض ایک نظریاتی بحث نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی وجود پر ایک بڑا علامتِ استفہام ہے: کیا چند کاغذی ٹکڑوں پر ثبت شدہ القابات حاصل کر لینا ہی انسان کے صاحبِ علم ہونے کا حتمی ثبوت ہے؟ کیا نصابی کتب کے صفحات کو محض حافظے کی زینت بنا لینے سے انسان کا باطن حکمت اور شعور کے نور سے منور ہو جاتا ہے؟ یا ہم نے تعلیم کے مقدس و اعلیٰ مقصد کو مسخ کر کے اسے صرف مادی منفعت، کاغذی نمائش اور حصولِ روزگار کا ذریعہ بنا دیا ہے؟
اگر کاغذی اسناد ہی انسانی رفعت کا واحد معیار ہوتیں، تو ماضی کے آئینے میں جھانک کر دیکھیے۔ ہمارے اسلاف کے پاس جدید یونیورسٹیوں کی سندیں اور اعلیٰ ڈگریاں نہیں تھیں، مگر وہ حکمت، بصیرت، وضع داری اور اخلاقی شعور میں ہم سے کہیں آگے تھے۔ ان کی زندگیوں میں انکسار، لحاظ، ہمدردی اور انسانیت کی جو قدر موجود تھی، وہ آج اعلیٰ ترین اداروں سے فارغ التحصیل افراد کے رویوں میں بھی نہیں نظر آتی۔ یہ فرق اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ علم اور ڈگری دو الگ الگ راستے ہیں۔
اگر تعلیم کو اک ایسا نور تصور کیا جائے جو تاریکی کو دور کرتا ہے، تو شعور اس نور سے حاصل ہونے والی وہ بصیرت ہے جو حق اور باطل، اور نیکی و خطا کے درمیان حد قائم کرتی ہے۔ تعلیم انسان کو معلومات کے ذخائر سے روشناس کراتی ہے اور پیچیدہ مسائل کا منطقی تجزیہ کرنے کا سامان فراہم کرتی ہے۔ لیکن دوسری جانب، شعور انسان کو وہ اعلیٰ دانائی عطا کرتا ہے کہ اس حاصل شدہ علم کو کب، کہاں اور کس اخلاقی مقصد کی آبیاری کے لیے برتنا ہے۔
ایک ڈگری یافتہ شخص قانون کی دفعات اور پیچیدگیاں زبانی یاد کر سکتا ہے، مگر ایک باشعور انسان قانون کے احترام اور اس کی روح کو اپنے عملی رویے کی بنیاد بناتا ہے۔ ایک ڈگری یافتہ انسان دوسروں کی خامیاں گنوانے اور اپنے استدلال سے بات کاٹنے میں ماہر ہو سکتا ہے، مگر ایک باشعور انسان میں اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے،اس میں خود احتسابی کا معیار قائم کرنے اور اصلاح احوال کی سمت میں قدم بڑھانے کا ظرف بھی رکھتا ہے۔ یہی وہ بنیادی حد ہے جو ایک 'محض ڈگری ہولڈر' اور 'حقیقی صاحبِ علم' کے درمیان قائم ہوتی ہے۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہمارے مادی اقدار کے حامل معاشرے میں تعلیم کو صرف ایک کامیاب مستقبل، جاذبِ نظر ملازمت اور بلند اجتماعی حیثیت حاصل کرنے کا زینہ سمجھ لیا گیا ہے۔ والدین اپنے بچوں کو بہترین اداروں میں داخل کروانے اور ڈگریوں کا تبادلہ کرنے کے لیے بے پناہ جدوجہد کرتے ہیں۔ اس اندھی دوڑ میں کہیں نہ کہیں کردار سازی، اخلاقی تربیت، انکساری اور انسانی ہمدردی کی تعلیم بہت پیچھے چھوٹ جاتی ہیں۔
ہم نسلِ نو کو مقابلوں میں فتح حاصل کرنا تو سکھاتے ہیں، مگر یہ باور کروانا بھول جاتے ہیں کہ حقیقی فتح دوسروں کو گرانے اور نیچا دکھانے میں نہیں، بلکہ گرے ہوئے انسانوں کو سنبھالنے اور انہیں سہارا دینے میں ہے۔ ہم انہیں پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے لیس ایک کارآمد مشین تو بنا رہے ہیں، مگر ان کے سینوں میں احساس، رواداری، برداشت اور باہمی احترام کی جوت جلانے پر ہماری توجہ صفر کے برابر ہے۔ نتیجتاً، آج ہمارے پاس اعلیٰ ڈگریوں سے آراستہ ڈاکٹرز، انجینئرز، تکنیک کار اور پالیسی ساز تو بے شمار موجود ہیں، لیکن ان کے رویوں میں وہ شائستگی، عاجزی اور وسعتِ قلبی دکھائی نہیں دیتی جس کی توقع ایک تہذیب یافتہ اور باشعور انسان سے کی جاتی ہے۔
اپنے اردگرد کا جائزہ لیں،تو ہر طرف ڈگری یافتہ افراد اپنے منصب اور ڈگری کے زعم میں عام اور غریب انسان کی تذلیل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کسی بھی انسان کی حقیقی قابلیت اور عظمت کا معیار اس کی ڈگری یا عہدہ ہرگز نہیں، بلکہ اس کا کردار ہونا چاہیے۔ ایک عام محنت کش اگر ایمانداری سے حلال روزی کماتا ہے اور قول و فعل کی پاسداری کرتا ہے، تو اس کا یہ کردار ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اس کے برعکس، عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹی کی ڈگری بھی انسان کے فریب، ناانصافی اور تکبر پر پردہ ڈالنے میں ناکام رہتی ہے۔
اس تجزیے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ رسمی تعلیم کی ضرورت کم ہے۔ جدید معاشرے کی تشکیل کے لیے معیاری تعلیم اور سائنسی تحقیق ناگزیر ہیں۔ تاہم ان صلاحیتوں کی حقیقی افادیت اس وقت دوچند ہوتی ہے جب ان کے ساتھ اخلاقی شعور اور انسان دوستی شامل ہو۔ آج ہمیں تعلیمی نظام میں ایسی انقلابی تبدیلیوں کی اشد ضرورت ہے جو طلبہ کو محض 'رٹا' لگانے والی مشین نہ بنائیں، بلکہ ان میں کردار سازی، رواداری اور خود احتسابی پیدا کریں۔ قوموں کے روشن مستقبل کا فیصلہ ان کے پاس موجود ڈگریوں کی تعداد سے نہیں، بلکہ ان ڈگریوں کے حامل افراد کے اخلاقی شعور اور عمل سے ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں





