اتوار، 25 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

​تعلیم، شعور یا صرف ڈگری؟ تحریر:عظمیٰ شیخ

نقطہ نظر

​انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تہذیب و تمدن کی ترقی اور انسان کی دیگر مخلوقات پر برتری کا بنیادی سبب "علم" ہے۔ تعلیم انسان کو جہالت کی تاریکی سے نکال کر بصیرت کی روشنی کی جانب لاتی ہے، باطل کے مقابلے میں حق کا شناسا بناتی ہے اور اسے معاشرے کا ایک باوقار رکن بننے کے قابل بناتی ہے۔ لیکن موجودہ دور میں جب ہم اپنے ارد گرد کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہ سوال شدت سے ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا ہماری موجودہ تعلیم واقعی ہمیں انسانیت کی معراج، یعنی "شعور" عطا کر رہی ہے؟ یا پھر یہ محض کاغذ کے ایک ٹکڑے یعنی "ڈگری" کے حصول اور وزنی ہینڈ بیگز سنبھالنے کا ذریعہ بن کر رہ گئی ہے؟

​شاعرِ مشرق علامہ اقبالؒ نے تعلیم کے اس باطنی اور معنوی پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کیا خوب فرمایا تھا:

​علم میں بھی سرور ہے لیکن


یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں


​تعلیم کا حقیقی مقصد اور موجودہ صورتِ حال

​تعلیم کا اصل مقصد انسان کی شخصیت کی متوازن تعمیر، اخلاقی تربیت، فکری پختگی اور سماجی ذمہ داریوں کا احساس بیدار کرنا ہے۔ ایک واقعی تعلیم یافتہ فرد وہ ہے جس کے قول و فعل میں ہم آہنگی ہو، جو دوسروں کے حقوق کا احترام کرے، اور تعصب سے بالاتر ہو کر سوچے۔

​سقراط کا معروف قول ہے:

​"تعلیم کا مقصد ذہن کو سچائی کی تلاش اور روح کو خیر کی قبولیت کے لیے تیار کرنا ہے

​لیکن افسوس ناک اور قدرے مضحکہ خیز امر یہ ہے کہ دورِ حاضر میں تعلیم کا بنیادی مقصد ہی بدل چکا ہے۔ آج تعلیم کو صرف اور صرف "ایک اچھی نوکری" اور "رشتہ مارکیٹ میں اچھے رشتہ کے حصول" کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں کا تمام تر فوکس اب اخلاقی تربیت کے بجائے "امتحان، سی وی (CV) اور ڈگری" پر منتقل ہو چکا ہے۔ طلبہ کو یہ تو سکھایا جاتا ہے کہ امتحان میں اعلیٰ نمبر کیسے حاصل کیے جائیں اور رٹا کیسے لگایا جائے، لیکن انہیں یہ نہیں سکھایا جاتا کہ ٹریفک سگنل پر گاڑی کیسے روکی جائے یا قطار میں اپنی باری کا انتظار کیسے کیا جائے۔


​ڈگری اور شعور کا فرق

​ڈگری محض اس بات کی سند ہوتی ہے کہ کسی شخص نے چند سال ایک مخصوص عمارت میں وقت گزارا، کچھ امتحانات پاس کیے اور مقررہ فیسیں ادا کیں۔ ڈگری کسی شخص کی معلومات کا ثبوت تو ہو سکتی ہے، لیکن اس کی اخلاقیات اور بیداریِ شعور کی ضامن ہرگز نہیں ہو سکتی۔


​اس کے برعکس، شعور ایک اندرونی روشنی اور فکری بیداری کا نام ہے۔ باڈیگری فرد اگر گاڑی کا شیشہ کھول کر سڑک پر کچرا پھینکے، بات بات پر بدتہذیبی کرے یا اپنے عہدے کا غلط استعمال کرے، تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے پاس ڈگری کا خوبصورت فریم تو ہے لیکن شعور کا نام و نشان بھی نہیں!


​حضرت بابا بلھے شاہؒ نے محض کتابی علم اور بے عمل پڑھائی پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا:


​پڑھ پڑھ علم ہزار کتاباں، کدی اپنے آپ نوں پڑھیا نہیں


جا جا وڑدے مندر مسجدی، کدی من اپنے وچ وڑیا نہیں


​مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کا ایک قول اسی حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے:


​"تعلیم کا حقیقی مقصد انسان کو گہرائی سے سوچنے اور تنقیدی صلاحیت پیدا کرنے کے قابل بنانا ہے۔ ذہانت کے ساتھ ساتھ اعلیٰ کردار—یہ تعلیم کا واقعی اور حقیقی ہدف ہے۔"


​علامہ اقبالؒ نے بھی تعلیمی اداروں کے اس بے روح ماحول پر طنز کرتے ہوئے فرمایا تھا:


​گلا تو گھونٹ دیا اہلۃِ مدرسہ نے تیر


کہاں سے آئے صدا لا الٰہ الا اللہ !


​نظامِ تعلیم کی اصلاح اور فکری بیداری

​اگر ہم ایک بیدار مغز اور بااخلاق معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے نظامِ تعلیم کو "ڈگری بانٹنے کی فیکٹریوں" سے نکال کر حقیقی درسگاہ بنانا ہو گا۔ نصاب کو صرف رٹہ سسٹم اور ڈگری تک محدود رکھنے کے بجائے بچوں میں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا لازم ہے۔ تعلیمی اداروں میں ڈگریوں کی تقسیم کے ساتھ ساتھ اگر تھوڑی سی تمیز اور اخلاقیات بھی سکھا دی جائیں تو معاشرے کا آدھا بھلا ہو جائے۔


​اکبر الہ آبادی نے اپنے مخصوص اور طنز و مزاح کے انداز میں محض ڈگری کے لیے پڑھنے کے اس رواج پر کیا خوب کہا تھا:


​تعلیم جو دی جاتی ہے ہم کو وہ کیا ہے


فقط ایک صنعت ہے ملازمت کے لیے


​اس تمام بحث کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ڈگری اپنی جگہ اہم ہے کیونکہ یہ کسی شعبے میں آپ کی تخصیص کی سند ہے، لیکن یہ محض ایک وسیلہ ہے، منزل نہیں۔ اصل مقصد اور منزل "شعور" کا حصول ہے۔ اگر تعلیم انسان کے رویوں میں نرمی، سوچ میں پختگی اور اخلاق میں بہتری نہ لا سکے، تو وہ تعلیم محض ایک بے روح عمل اور ڈگری ردی کا ایک ٹکڑا بن کر رہ جاتی ہے۔ وقت کی اہم ترین ضرورت یہ ہے کہ ہم ڈگری ہولڈرز پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ بیدار مغز اور شعور یافتہ انسان بھی پیدا کریں، تاکہ ہمارا معاشرہ صرف پڑھے لکھے لوگوں کا نہیں بلکہ "سمجھدار" لوگوں کا گہوارہ بن سکے۔