فتح-4: پاکستان کی بڑھتی ہوئی رسائی اور پاک بھارت تزویراتی توازن میں تبدیلی،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید
نقطہ نظر
دفاعی و تزویراتی تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹیجی اور دفاعی جدید کاری کے امور میں خصوصی مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز کے رکن ہیں،وہ پاک فوج کے سابق افسر ہیں اور عسکری امور، تزویراتی مطالعات، جغرافیائی سیاست، قومی سلامتی، تنازعات کی تاریخ اور علاقائی سلامتی کی حرکیات کے حوالے سے تجربہ اور تحقیقی دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ تحقیق اور سماجی ترقی کی سرگرمیوں سے بھی وابستہ ہیں۔ وہ بلڈر اور ڈویلپر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک فلاحی شخصیت بھی ہیں اور پاکستان بھر میں متعدد مدارس اور اسکول چلا رہے ہیں
پاکستان کی جانب سے 6 اکتوبر 2026 کو فتح-4 (Fatah-IV) گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل (GLCM) کے توسیع شدہ ورژن کا کامیاب تجربہ محض ایک اور میزائل ٹیسٹ کی خبر سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ یہ پاکستان کی جانب سے زیادہ متنوع، مؤثر اور بقا کی بہتر صلاحیت رکھنے والی روایتی پریسیژن اسٹرائیک صلاحیت کی تعمیر کی کوشش میں ایک اور اہم قدم ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق توسیع شدہ فتح-4 میں جدید ایویونکس اور جدید نیوی گیشنل معاون نظام شامل ہیں، جبکہ اسے زیادہ فاصلے پر موجود اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ حالیہ تجربے کے دوران مختلف ذیلی نظاموں کے اضافی تکنیکی پیرامیٹرز کو جانچا گیا، جن کا مقصد درستگی اور بقا کی صلاحیت (Survivability) میں اضافہ کرنا ہے۔
ممکن ہے کہ یہی پہلو مستقبل میں صرف رینج میں اضافے سے بھی زیادہ اہم ثابت ہو۔
پہلے فتح-4 سے آج کے توسیع شدہ ورژن تک
فتح-4 کو پاکستان کے بڑھتے ہوئے پریسیژن اسٹرائیک سسٹمز کے خاندان کے ایک اہم حصے کے طور پر سامنے لایا گیا۔ ستمبر 2025 میں پاکستان نے فتح-4 کا کامیاب تربیتی تجربہ کیا تھا، جس کی رپورٹ شدہ رینج 750 کلومیٹر تھی۔ اس کے بعد مئی 2026 میں آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے بھی اس میزائل کا ایک اور تربیتی تجربہ کیا۔
پہلے فتح-4 کے لیے رپورٹ ہونے والی 750 کلومیٹر کی رینج ایک اہم حوالہ ہے، کیونکہ اس سے اس نظام کی سابقہ صلاحیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
تاہم پاکستان نے آج کے توسیع شدہ ورژن کی حتمی زیادہ سے زیادہ رینج کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ اس لیے اس وقت سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع میں سامنے آنے والی کسی مخصوص نئی رینج کو سرکاری تصدیق کے بغیر حتمی سمجھنا مناسب نہیں ہوگا۔
البتہ ایک بات واضح ہے: پاکستان بنیادی فتح-4 کی آزمائش سے آگے بڑھ کر اب اس کی صلاحیتوں کو مزید بہتر اور وسیع کرنے کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
ایک جدید کروز میزائل کی اہمیت صرف اس کی رینج سے متعین نہیں ہوتی۔ اس کی نیوی گیشن کی درستگی، الیکٹرانک مداخلت کے خلاف مزاحمت، بقا کی صلاحیت اور دشمن کے مضبوط دفاعی ماحول سے گزر کر ہدف تک پہنچنے کی صلاحیت بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے۔
اسی لیے آئی ایس پی آر کی جانب سے بہتر Survivability کا خصوصی ذکر پاکستان کے میزائل پروگرام کی آئندہ سمت کے حوالے سے ایک اہم اشارہ فراہم کرتا ہے۔
پاک بھارت تزویراتی استحکام کے لیے یہ کیوں اہم ہے؟
جنوبی ایشیا پہلے ہی پریسیژن اسٹرائیک صلاحیتوں میں تیزی سے تبدیلی دیکھ چکا ہے۔ بھارت نے کروز میزائلوں، بیلسٹک میزائلوں، فضائی طاقت، طویل فاصلے تک مار کرنے والے توپ خانے اور زیادہ جدید ایئر ڈیفنس نیٹ ورکس میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کو ایک بڑی روایتی عسکری طاقت اور جغرافیائی عدم توازن کا سامنا ہے۔ چنانچہ پاکستان تاریخی طور پر ڈیٹرنس، موبائل اور منتشر صلاحیتوں، پریسیژن ہتھیاروں اور مختلف نوعیت کے اسٹرائیک سسٹمز کے امتزاج پر انحصار کرتا رہا ہے۔
فتح-4 اسی تزویراتی مساوات میں ایک اور پرت کا اضافہ کرتا ہے۔
اس کی اہمیت لازماً اس دعوے میں نہیں کہ یہ بھارتی فضائی دفاع کو ’’شکست‘‘ دے سکتا ہے۔ ایسی بات کسی خفیہ معلومات اور حقیقی جنگی حالات میں آپریشنل تجربات کے بغیر ذمہ داری سے نہیں کہی جا سکتی۔
اصل تزویراتی اہمیت یہ ہے کہ یہ دشمن کے حساب کتاب کو مزید پیچیدہ کرتا ہے۔
اگر کسی ممکنہ مخالف کو متعدد لانچ پلیٹ فارمز، مختلف میزائل راستوں اور مختلف نوعیت کے پریسیژن اسٹرائیک سسٹمز کو مدنظر رکھنا پڑے تو روایتی فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
یہ بات خاص طور پر ان حالات میں اہم ہے جب گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان عسکری کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دونوں ممالک نے یہ ثابت کیا ہے کہ ایک سیاسی بحران تیزی سے فوجی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ایسے ماحول میں بقا کی بہتر صلاحیت رکھنے والے روایتی اسٹرائیک سسٹمز جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی دونوں جانب کے عسکری حساب کتاب اور فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
نئی دہلی کے لیے پیغام
فتح-4 کے توسیع شدہ ورژن کا حالیہ تجربہ بنیادی طور پر صلاحیت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، نہ کہ کسی مخصوص فوجی کارروائی کے ارادے کے اعلان کے طور پر۔
پاکستان یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اس کا میزائل پروگرام مسلسل ترقی کر رہا ہے اور وہ صرف روایتی بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی پر انحصار نہیں کر رہا۔
گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل ایک مختلف نوعیت کا آپریشنل چیلنج پیش کرتے ہیں، کیونکہ وہ طویل فاصلے تک درست حملے کی صلاحیت کو ایسے پرواز کے انداز کے ساتھ جوڑتے ہیں جو روایتی بیلسٹک میزائل سے بنیادی طور پر مختلف ہوتا ہے۔
بھارت کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی پریسیژن ہتھیاروں کی ایک اور قسم کو اس کے وسیع تر فضائی دفاع اور فوجی منصوبہ بندی میں شامل کرنا ہوگا۔
تاہم بھارت کے پاس بھی قابل ذکر صلاحیتیں موجود ہیں۔ طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل، بیلسٹک میزائل، ایئر لانچڈ ہتھیار، نگرانی کے نظام اور کثیر سطحی فضائی دفاع دونوں ممالک کے درمیان موجود تزویراتی پیچیدگی کو برقرار رکھتے ہیں۔
اس لیے کسی ایک ہتھیار کے بارے میں یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ وہ مکمل طور پر تزویراتی توازن تبدیل کر دے گا۔
پاکستان کی وسیع تر حکمت عملی
فتح-4 کو پاکستان کے ایک بڑے رجحان کے حصے کے طور پر دیکھنا چاہیے: مقامی سطح پر جدید، زیادہ مؤثر روایتی اسٹرائیک صلاحیتیں تیار کرنا اور ساتھ ساتھ ان کی درستگی اور بقا کی صلاحیت کو بہتر بنانا۔
آج کے تجربے کے دوران پاکستانی سائنس دانوں اور انجینئرز کی اعلیٰ فوجی افسران کے ساتھ موجودگی بھی اہم ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ میزائل کی تیاری اب صرف الگ الگ ہتھیاروں کے تجربات تک محدود نہیں بلکہ ایک مسلسل تکنیکی اور صنعتی پروگرام کی شکل اختیار کر رہی ہے۔
تاہم اصل امتحان میزائل کی لانچ ویڈیو نہیں ہوگی۔
اصل امتحان یہ ہوگا کہ پاکستان ان نظاموں کو بڑے پیمانے پر قابل اعتماد انداز میں تیار کرنے، انہیں مؤثر طریقے سے برقرار رکھنے، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورکس کے ساتھ مربوط کرنے اور ایک طویل بحران کے دوران مسلسل استعمال کے قابل رکھنے میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے۔
فتح-4 اکیلا پاک بھارت تزویراتی توازن تبدیل نہیں کرتا۔ لیکن یہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے اور زیادہ پیچیدہ ڈیٹرنس آرکیٹیکچر میں ایک اور اہم عنصر کا اضافہ ضرور کرتا ہے۔
جنوبی ایشیا میں، جہاں جغرافیہ، تاریخ اور باہمی سیاسی عدم اعتماد تزویراتی غفلت کی بہت کم گنجائش چھوڑتے ہیں، وہاں دشمن کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کرنے کی صلاحیت خود ڈیٹرنس کی ایک شکل بن سکتی ہے۔
آج کا توسیع شدہ فتح-4 تجربہ اس لیے صرف کسی مخصوص کلومیٹر رینج کے اعلان سے زیادہ اہم ہے۔ اس کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ پاکستان کا پریسیژن اسٹرائیک پروگرام مسلسل ترقی، بہتری اور ارتقا کے مرحلے میں ہے۔
مزید پڑھیں





