استاد کی ڈگری ضروری، امام کے کردار کی جانچ کیوں نہیں؟ تحریر:شبنم مرزا
نقطہ نظر
ایک پرائمری اسکول کے استاد کے لیے ایم اے، بی ایڈ، انٹرویو، میرٹ، تربیت اور مختلف مراحل سے گزرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ وجہ بالکل واضح ہے: اس کے ہاتھوں قوم کے بچوں کا مستقبل تشکیل پاتا ہے۔
مگر ایک لمحے کے لیے سوچیے!
جس شخص کے سپرد مسجد کا منبر و محراب ہو، جو قرآنِ کریم پڑھائے، بچوں کو دینی تعلیم دے، ان کی اخلاقی تربیت کرے اور اپنے الفاظ و کردار سے نئی نسل کے ذہن و شخصیت پر اثر ڈالے، کیا اس کے لیے بھی اتنا ہی مؤثر، شفاف اور قابلِ اعتماد نظامِ اہلیت و نگرانی نہیں ہونا چاہیے؟
یہ سوال کسی امام، عالم یا دینی ادارے کی توہین نہیں۔
یہ سوال دراصل مسجد کے تقدس، بچوں کے تحفظ اور دین کی حرمت کا سوال ہے۔
ہم دنیاوی تعلیم کے استاد کے لیے ڈگری دیکھتے ہیں، انٹرویو لیتے ہیں، ٹریننگ کراتے ہیں اور میرٹ پرکھتے ہیں۔ تو پھر دینی تعلیم دینے والے شخص کے لیے علمی اہلیت کے ساتھ اس کے کردار، سابقہ قانونی ریکارڈ، بچوں کے ساتھ رویے اور اخلاقی ذمہ داری کی جانچ کیوں نہ ہو؟
آخر بچے، بچے ہوتے ہیں؛ ان کی حفاظت کا معیار مختلف کیسے ہو سکتا ہے؟
مسجد وہ مقدس مقام ہے جہاں بچے قرآن پڑھنے جاتے ہیں، جہاں انہیں اللہ کی محبت، رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت، انسانیت، اخوت، برداشت، پاکیزگی اور اچھے کردار کا سبق ملنا چاہیے۔ والدین اپنے بچوں کو مسجد بھیجتے وقت یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ ایک محفوظ اور پاکیزہ ماحول میں ہیں۔
یہ اعتماد ہمارے لیے مقدس امانت ہے۔
اگر کبھی کوئی بدکردار یا مجرمانہ ذہنیت رکھنے والا شخص مذہب اور تقدس کی آڑ میں کسی معصوم بچے کو نقصان پہنچاتا ہے تو تباہی صرف ایک بچے کی نہیں ہوتی؛ پورا خاندان ٹوٹ جاتا ہے، بچے کا اعتماد مجروح ہوتا ہے اور معاشرے میں مسجد جیسے مقدس ادارے کے بارے میں سوالات جنم لیتے ہیں۔
اسی لیے خاموشی اختیار کرنا مسئلے کا حل نہیں۔
ہمیں افراد کے خلاف نہیں، ایک کمزور نظام کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مساجد اور دینی تعلیمی مراکز میں خدمات انجام دینے والے افراد کے لیے ایک جامع نظام وضع کیا جائے، جس میں مناسب دینی و علمی اہلیت، کردار کی جانچ، قانونی ریکارڈ کی تصدیق، بچوں کے تحفظ سے متعلق تربیت اور باقاعدہ نگرانی شامل ہو۔
اسی طرح والدین کے لیے شکایت کا ایسا محفوظ اور آسان نظام ہونا چاہیے جہاں کسی بھی نامناسب رویے کی اطلاع بلاخوف دی جا سکے اور شکایت سامنے آنے پر فوری، شفاف اور قانون کے مطابق کارروائی ہو۔
دین ہمیں تقدس کے ساتھ ذمہ داری بھی سکھاتا ہے۔
لہٰذا کسی منصب کا مذہبی ہونا اسے احتساب سے بالاتر نہیں کر سکتا۔ بلکہ جس منصب پر معاشرے کے اخلاق اور نئی نسل کی تربیت کی ذمہ داری ہو، وہاں جواب دہی مزید مضبوط ہونی چاہیے۔
حکومتِ پاکستان، متعلقہ دینی اداروں، علما، ماہرینِ تعلیم، ماہرینِ نفسیات اور قانون دانوں کو مل کر ایسا نظام تشکیل دینا چاہیے جو نہ مساجد کی آزادی کو متاثر کرے اور نہ کسی طبقے کو نشانہ بنائے، بلکہ صرف ایک اصول پر قائم ہو:
بچوں کا تحفظ، سب سے پہلے۔
پنجاب میں بھی بچوں کے تحفظ کے موجودہ اقدامات کے دائرے کو دینی تعلیمی مراکز تک مؤثر انداز میں بڑھانے پر غور کیا جانا چاہیے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز سے بھی توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اس حساس مسئلے کو بچوں کے تحفظ کے وسیع تر فریم ورک میں شامل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں اور علما کے ساتھ مشاورت کریں۔
ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ مسجد صرف عبادت کی جگہ نہیں، اعتماد کی جگہ بھی ہے۔اور اعتماد وہیں قائم رہتا ہے جہاں تقدس کے ساتھ اہلیت، کردار اور جواب دہی بھی موجود ہو۔استاد کی ڈگری ضروری ہے، تو دینی معلم کی اہلیت بھی ضروری ہونی چاہیے۔استاد کی تربیت ضروری ، تو دینی معلم کی تربیت بھی ضروری ہونی چاہیے۔
اسکول میں بچے کی حفاظت ضروری ہے، تو مسجد میں بھی بچے کی حفاظت اتنی ہی ضروری ہے۔یہ کسی مذہب، مسلک یا طبقے کے خلاف آواز نہیں۔یہ ہمارے بچوں کے حق میں آواز ہے۔اور اگر کسی بچے کی معصومیت کو بچانے کے لیے ہمیں اپنے نظام پر سوال اٹھانا پڑے تو سوال ضرور اٹھنا چاہیے، کیونکہ خاموشی کبھی بھی اصلاح کا راستہ نہیں بنتی۔
اللہ تعالیٰ ہمارے بچوں کو ہر شر سے محفوظ رکھے، مساجد کے تقدس کی حفاظت فرمائے اور ہمیں ایسا معاشرہ بنانے کی توفیق دے جہاں دین بھی محفوظ ہو، بچے بھی محفوظ ہوں اور اعتماد بھی محفوظ ہو۔آمین۔
مزید پڑھیں





