انگلیوں کی لکیروں میں چھپی کائنات ،تحریر انجینئر شیراز حسین رونگھا
نقطہ نظر
کبھی فرصت کے چند لمحے نکال کر اپنے ہاتھ کی انگلی کو غور سے دیکھیے۔ چند باریک سی لکیریں، کچھ دائرے، کہیں خم، کہیں شاخیں اور کہیں ختم ہوتی ہوئی لکیریں… بظاہر یہ معمولی سی ساخت ہے، مگر یہی لکیریں دنیا کے ہر انسان کو دوسرے انسان سے ممتاز کرنے والی ایک حیرت انگیز شناخت بن جاتی ہیں۔
تصویر میں دکھائی گئی انگلی کی یہ لکیریں محض خوبصورت نقش و نگار نہیں بلکہ انسانی جسم کے ان حیران کن رازوں میں سے ایک ہیں جن پر جدید سائنس نے بھی صدیوں کی تحقیق کے بعد حیرت کا اظہار کیا ہے۔
دنیا میں انسانوں کی تعداد اربوں میں ہے، مگر انگلیوں کے یہ نشانات ہر شخص میں الگ ترتیب رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ جڑواں بچوں کے فنگر پرنٹس بھی ایک جیسے نہیں ہوتے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف جسٹس کے ایک تحقیقی مطالعے میں جڑواں افراد کے فنگر پرنٹس کا جائزہ لیا گیا اور یہ نتیجہ سامنے آیا کہ جڑواں افراد کے نشانات میں مشابہت کے باوجود انہیں انگلیوں کے نشانات کے ذریعے الگ الگ شناخت کیا جا سکتا ہے۔
یہ لکیریں بنتی کب ہیں؟
حیرت کی ایک اور منزل یہ ہے کہ انسان کے دنیا میں آنے سے بہت پہلے اس کی انگلیوں کی شناخت بننا شروع ہو جاتی ہے۔
تحقیقی مطالعات کے مطابق انگلیوں کی باریک ابھری ہوئی لکیروں یعنی friction ridges کی تشکیل رحمِ مادر میں ہوتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق فنگر پرنٹس حمل کے بیسویں ہفتے سے پہلے مستقل طور پر تشکیل پا جاتے ہیں۔ ان کی تشکیل میں جینیاتی عوامل کے ساتھ رحمِ مادر کا ماحول بھی کردار ادا کرتا ہے۔
یعنی دو انسانوں کا جینیاتی ڈھانچہ بہت حد تک ایک جیسا ہو سکتا ہے، مگر رحمِ مادر میں نشوونما کے دوران پیدا ہونے والے معمولی فرق ان کی انگلیوں کی لکیروں کو الگ بنا دیتے ہیں۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ معمولی سی لکیریں اتنی اہم کیوں ہیں؟
ایک انگلی، ایک شناخت
آج فنگر پرنٹ دنیا بھر میں بائیومیٹرک شناخت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ موبائل فون کھولنے سے لے کر بینکنگ، سرکاری ریکارڈ، امیگریشن اور جرائم کی تفتیش تک انگلیوں کے نشانات استعمال ہوتے ہیں۔ امریکی ادارہ NIST فنگر پرنٹس کو دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی بائیومیٹرک خصوصیات میں شمار کرتا ہے۔
جرائم کی تفتیش میں کسی شے پر رہ جانے والا نامکمل یا پوشیدہ فنگر پرنٹ بھی اہم سراغ بن سکتا ہے۔ ماہرین ان لکیروں کے اختتام، شاخوں، خم اور دوسرے امتیازی خدوخال کا موازنہ کرتے ہیں۔ NIST کے مطابق اس عمل میں عموماً Analysis, Comparison, Evaluation and Verification (ACE-V) جیسے مراحل استعمال ہوتے ہیں۔
سوچیے، ایک انسان جرم کی جگہ سے فرار ہو سکتا ہے، اپنا نام چھپا سکتا ہے، چہرہ ڈھانپ سکتا ہے، آواز بدل سکتا ہے، مگر اگر اس کی انگلی کا کوئی نشان رہ جائے تو وہی نشان تفتیش کاروں کو اس تک پہنچنے میں مدد دے سکتا ہے۔
یہ واقعی قدرت کی طرف سے انسان کو دی گئی ایک منفرد شناخت ہے۔
لیکن یہاں ایک علمی احتیاط بھی ضروری ہے
سوشل میڈیا پر اکثر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ دنیا کے ہر اربوں انسانوں میں کوئی دو فنگر پرنٹس کبھی ایک جیسے نہیں ہو سکتے اور اس کی باقاعدہ ریاضیاتی شرح بھی بیان کی جاتی ہے۔
اصل سائنسی تصویر اس سے قدرے زیادہ محتاط ہے۔
سائنس فنگر پرنٹس کو انتہائی انفرادی اور مستقل شناختی خصوصیت تسلیم کرتی ہے، لیکن ہر ممکن انسان کے ہر ممکن فنگر پرنٹ کے بارے میں "صفر امکان" کا قطعی ریاضیاتی دعویٰ کرنا سائنسی طور پر درست نہیں۔ NIST کی تحقیق خود فنگر پرنٹ کی uniqueness اور identification کی شماریاتی بنیادوں اور ممکنہ غیر یقینی صورتوں کا مطالعہ کرتی ہے۔
یہ احتیاط اس حقیقت کی اہمیت کو کم نہیں کرتی؛ بلکہ اسے مزید مضبوط کرتی ہے، کیونکہ اصل حیرت کسی مبالغہ آمیز دعوے میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ انسانی جسم میں ایسی پیچیدہ اور نہایت باریک شناختی ساخت موجود ہے جو عملی دنیا میں انتہائی مؤثر ثابت ہوئی ہے۔
قرآن کا ایک سوال اور انسان کا اپنا وجود
تصویر میں قرآنِ کریم کی سورۃ القیامہ کی آیت 4 کا حوالہ بھی دیا گیا ہے:
﴿بَلَىٰ قَادِرِينَ عَلَىٰ أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُ﴾
یعنی اللہ اس بات پر قادر ہے کہ انسان کی انگلیوں کے پوروں کو بھی درست طور پر دوبارہ بنا دے۔ قرآن یہاں بنیادی طور پر قیامت اور دوبارہ زندہ کیے جانے کی قدرت کو بیان کر رہا ہے۔ کلاسیکی تفاسیر میں "بنان" سے انگلیوں کے پورے مراد لیے گئے ہیں، اور اس نکتے کو انسان کی دوبارہ تخلیق کی قدرت کی مثال کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
یہ کہنا درست نہیں کہ آیت میں جدید اصطلاح "فنگر پرنٹ" صراحتاً بیان ہوئی ہے۔ لیکن یہ ضرور ایک قابلِ غور بات ہے کہ قرآن انسان کے دوبارہ اٹھائے جانے کی قدرت سمجھاتے ہوئے انگلیوں کے پوروں کا ذکر کرتا ہے—وہی جسمانی حصہ جس کی باریک شناختی خصوصیات جدید سائنس آج انتہائی اہم سمجھتی ہے۔
اور اسی قرآن میں ایک اور مقام پر انسان کو اس کے اپنے وجود کی طرف متوجہ کیا گیا:
﴿وَفِي أَنفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ﴾
"اور خود تمہاری ذات میں بھی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں؟"
(الذاریات: 21)
شاید اس آیت کا اصل حسن یہی ہے کہ انسان جس کائنات کے راز تلاش کرنے نکلتا ہے، اس کے اندر بھی ایک پوری کائنات آباد ہے۔
انگلی کی ایک لکیر ہمیں کیا سکھاتی ہے؟
ہم اکثر آسمان کے ستاروں، سمندر کی گہرائیوں، پہاڑوں کی بلندیوں اور کائنات کی وسعتوں میں قدرت کی نشانیاں تلاش کرتے ہیں، مگر اپنے ہاتھ کو دیکھنا بھول جاتے ہیں۔
ہماری انگلیوں پر موجود چند ملی میٹر کی لکیریں ہمیں بتاتی ہیں کہ انفرادیت صرف نام کی نہیں، ساخت کی بھی ہے۔
آپ کی آنکھیں، چہرہ، آواز، DNA اور انگلیوں کے نشانات—یہ سب مل کر آپ کو "آپ" بناتے ہیں۔
آپ کے ہاتھ کی ایک انگلی کسی دوسرے انسان کے ہاتھ سے بظاہر بالکل ملتی جلتی نظر آ سکتی ہے، مگر اس کی باریک لکیروں کا نقش آپ کی اپنی شناخت ہے۔
یہی وجہ ہے کہ فنگر پرنٹ نے انسانی تاریخ میں شناخت کے تصور کو بدل دیا۔ چین میں انگلیوں کے نشانات کو شناخت کے لیے صدیوں پہلے استعمال کیے جانے کے شواہد ملتے ہیں، جبکہ جدید فرانزک نظام میں بیسویں صدی کے آغاز سے ان کا باقاعدہ استعمال تیزی سے بڑھا۔
آخر میں… ذرا اپنا ہاتھ دیکھیے
آج جب آپ یہ تحریر پڑھ کر اپنا انگوٹھا دیکھیں تو اسے صرف ایک انگلی نہ سمجھیں۔
اس میں آپ کی شناخت ہے۔
وہ شناخت جو آپ نے خود نہیں بنائی، جس کا ڈیزائن آپ نے منتخب نہیں کیا، جسے کسی انجینئر نے کمپیوٹر پر تخلیق نہیں کیا۔
آپ دنیا میں آنے سے پہلے ہی ایک ایسی شناخت لے کر آئے تھے جو زندگی بھر آپ کے ساتھ رہی۔
اور شاید اسی لیے انسان کے لیے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ قدرت کی سب سے بڑی نشانیاں ہمیشہ آسمان پر نہیں ہوتیں؛ کبھی کبھی وہ ہماری اپنی انگلیوں کی لکیروں میں لکھی ہوتی ہیں۔
سوال صرف یہ ہے:
ہم کائنات کے راز دیکھنے کے لیے دوربین تو اٹھا لیتے ہیں،
مگر اپنے وجود میں چھپی نشانیوں کو دیکھنے کے لیے کبھی ٹھہرتے بھی ہیں؟ ؟؟
مزید پڑھیں





