Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

امریکی معاشی دباؤ:ایران سے بغداد اور مسقط جانے والی پروازیں منسوخ


امریکا کی جانب سے معاشی دباؤ میں شدید اضافے اور پابندیوں کے اعلان کے بعد خطے کے ہوائی اڈوں نے ایرانی ایئرلائنز پر پابندیاں عائد کرنا شروع کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں ایران نے تہران سے بغدا د اور مسقط کے لیے اپنی تمام پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔


ایرانی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے تصدیق کی ہے کہ بدھ کے روز مقامی وقت کے مطابق رات12بجے سے عراق کے دارالحکومت بغداد اور عمان کے دارالحکومت مسقط کے لیے تمام پروازیں معطل کی جا رہی ہیں۔


اس بحران کے حل کے لیے ایرانی حکام متبادل کے طور پر بغداد جانے والی پروازوں کو نجف کی طرف موڑنے کے لیے عراقی حکام سے مسلسل رابطے کر رہے ہیں تاہم استنبول سمیت دیگر بین الاقوامی پروا زیں فلائٹ شیڈول کے مطابق جاری رہیں گی۔


ایرانی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے ترجمان مجید اخوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صورتحال کی سنگینی کی تصدیق کی اور بتایا کہ مسقط ایئرپورٹ اب ایرانی مسافروں کو قبول نہیں کرے گا جس پر تہران حکومت عمانی حکام کے ساتھ ان پابندیوں اور پیدا ہونے والی سفارتی رکاوٹوں پر بات چیت کر رہی ہے۔


عراق کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق عراقی حکومت نے حکام کو بغداد کے لیے ایرانی پروازیں معطل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔


عراق ایرانی زائرین کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے جہاں ہر سال لاکھوں ایرانی شہری بالخصوص اربعین اور دیگر مذہبی ایام کے موقع پر نجف اور کربلا کے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے سفر کرتے ہیں، جس سے ان سفری پابندیوں کے شدید اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔


ایران کی ہوائی کمپنیوں کے خلاف یہ اقدامات امریکی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی اس سخت مہم کا براہ راست نتیجہ ہیں جس کا مقصد ایرانی ایئرلائنز کو بین الاقوامی پروازوں سے مکمل طور پر کاٹنا ہے۔


امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے حال ہی میں خبردار کرتے ہوئےکہا تھا کہ 23 ستمبر سے ایرانی ایئر لائنز عالمی سطح پر عملی طور پر معطل ہو جائیں گی۔


امریکی وزیر خزانہ نے دنیا بھر کے ہوائی اڈوں، ایندھن فراہم کرنے والی کمپنیوں اور گراؤنڈ ہینڈلنگ فر موں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کسی نے بھی پابندیوں کی زد میں آئی ایرانی ایئرلائنز کو خدمات فراہم کیں یا ایندھن دیا تو انہیں شدید امریکی معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور انہیں ڈالر کے نظام سے باہر کر دیا جائے گا۔


اس کے ساتھ ہی ترکش ایئرلائنز نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس نے ایران کے لیے اپنی پروازیں مارچ 2027 تک معطل کر دی ہیں۔


ایران کی فضائی صنعت کئی دہائیوں کی پابندیوں کے باعث پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار رہی ہے, اعداد و شمار کے مطابق ایران کی ایوی ایشن انڈسٹری پرانی اور بوسیدہ ہوائی جہازوں کی فلیٹ اور اسپیئر پارٹس کی شدید عدم دستیابی سے نمٹ رہی ہے۔


ایران اس وقت سرکاری اور نجی ایئرلائنز کو ملا جلا کر کام چلا رہا ہے، ان میں ایران ایئر کے پاس صرف 18 طیارے ایران ایئر ٹور کے پاس 19 ماہان ایئر کے پاس 37، ایران آسمان ایئرلائنز کے پاس 15، قشم ایئر کے پاس 16، کیسپین ایئرلائنز کے پاس نو اور اے ٹی اے ایئرلائنز کے پاس صرف 14 طیاروں کا فلیٹ موجود ہے۔


مشرق وسطیٰ، ایشیا اور یورپ کے روٹس پر چلنے والی ان ایئرلائنز پر اب بین الاقوامی ایئرپورٹس کے دروازے بند ہونے کے بعد ایرانی شہری سفری طور پر مزید تنہائی کا شکار ہو رہے ہیں۔