Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جدید دور کے جین زی،تحریر: ایس اے شازِم

نقطہ نظر
s a shazim

یہ کیسی نسل ہے جو آنکھ کھولنے سے پہلے ہی روشنیوں کے ہجوم میں گھر گئی؟ جس نے مٹی کے کھلونوں سے زیادہ اسکرین کی چمک دیکھی، جس کی سماعتوں میں لوری کے ساتھ ساتھ نوٹیفکیشن کی آواز بھی گھلی ہوئی ہے۔ یہ گلیوں میں پتنگ اڑانے والی نسل تو ہے مگر اس کی پتنگ کی ڈور اب ڈیٹا کیبل سے بندھی ہے۔ یہی وہ نسل ہے جسے دنیا جین زی (Gen-Z) کے نام سے پکارتی ہے۔

یہ وہ بچے ہیں جن کے بچپن کی البم میں دو طرح کی تصویریں ہیں۔ ایک طرف عید کی صبح نئے کپڑوں میں محلے کی مسکراہٹیں ہیں، تو دوسری طرف اسی شام موبائل کے کیمرے سے بنائی گئی سیلفیاں۔ ان کی یادداشت میں اماں کی کہانیوں کے ساتھ ساتھ یوٹیوب کی کہانیاں بھی ہیں، اور ابا کی نصیحتوں کے ساتھ گوگل کی تجاویز بھی۔

پاکستان میں اس نسل کا چہرہ بہت اپنا اور بہت شناسا ہے۔ یہ سکھر کی ایک تنگ گلی سے نکل کر لاہور کی کسی یونیورسٹی کی آن لائن کلاس میں بیٹھا ہوا طالب علم ہے۔ یہ کراچی کی کسی بس میں سفر کرتے ہوئے اپنے موبائل پر دنیا بھر کی خبریں پڑھتا ہوا نوجوان ہے۔ یہ خیرپور کے کسی چھوٹے سے کمرے میں بیٹھا ہوا لڑکا ہے جو اپنی بنائی ہوئی ایک پندرہ سیکنڈ کی ویڈیو سے لاکھوں دلوں تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔ یہ فاصلے سمیٹ رہی ہے، دنیا کو مٹھی میں بند کر رہی ہے۔

اگر ماضی کے نوجوان کے لیے کامیابی کا مطلب سرکاری نوکری کا حصول تھا، تو آج کے نوجوان نے کامیابی کی تعریف ہی بدل دی ہے۔ اس کے لیے دفتر کی چار دیواری ضروری نہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی سالانہ رپورٹ بتاتی ہے کہ ملک میں 130 ملین سے زائد براڈ بینڈ صارفین موجود ہیں اور ان میں سب سے بڑا حصہ 15 سے 30 سال کے نوجوانوں کا ہے۔ یہ اعداد و شمار صرف ایک تعداد نہیں، ایک سوچ کی تبدیلی کا اعلان ہیں۔

آج ایک نوجوان گھر کی چاردیواری میں بیٹھ کر گرافک ڈیزائننگ سیکھ رہا ہے، کوئی ویڈیو ایڈیٹنگ سے اپنا نام بنا رہا ہے۔ کوئی فری لانسنگ کے ذریعے ڈالروں میں کما رہا ہے، تو کوئی اپنے ہاتھ سے بنے کپڑے انسٹاگرام پر بیچ کر اپنا کاروبار چلا رہی ہے۔ یہ خود انحصاری کی وہ ادبی داستان ہے جو کسی دفتر کے رجسٹر میں نہیں بلکہ لیپ ٹاپ کی اسکرین پر لکھی جا رہی ہے۔

مگر ہر روشن تصویر کا ایک سایہ بھی ہوتا ہے، اور اس دور کا سایہ بہت گہرا ہے۔

ہم نے گھروں کو تو پکا کر لیا مگر ان گھروں کے اندر بیٹھے دل کچے ہو گئے ہیں۔ شام کا دسترخوان سجتا ہے۔ سب افراد موجود ہوتے ہیں مگر ہر شخص تنہا ہے۔ باپ کے ہاتھ میں اخبار کی جگہ موبائل ہے تو ماں ویڈیو کال پر مصروف ہے اور اولاد اپنے اپنے کمروں میں ایک الگ دنیا آباد کیے ہوئے ہے۔ ہم ایک چھت تلے رہتے ہوئے بھی کئی صدیوں کے فاصلے پر کھڑے ہیں۔ دل میں ایک سوال اٹھتا ہے کہ "یہ کیسا اجتماع ہے جس میں تنہائی کا شور سب سے بلند ہے؟"

یہی تنہائی ہماری خوشیوں میں بھی در آئی ہے۔ کبھی شادیوں میں دل ملتے تھے، گلے ملتے تھے، دیر تک باتیں ہوتی تھیں۔ اب شادیوں میں کیمرے زیادہ اور دل کم ملتے ہیں۔ ہر شخص بہترین زاویے سے تصویر بنانے میں مصروف ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم لمحے کو جینے سے پہلے اسے محفوظ کرنے کی فکر میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ ہم نے یادوں کو کیمرے میں قید کر لیا ہے مگر دل میں محفوظ کرنا بھول گئے ہیں۔ ایک ہمارا دور تھا جس میں نہ موبائل تھا، نہ کوئی ویڈیو کیمرہ تھا۔ بس ایک سادہ کیمرہ ہوتا تھا۔ جس میں ایک رول ڈال کر 30 ،35 تصویریں بنا لیتے تھے۔

تعلیم کے میدان میں اس نسل نے ایک عجیب تضاد دیکھا۔ کورونا کے دنوں میں جب اسکولوں کے دروازے بند ہوئے تو اسی اسکرین نے تعلیم کو زندہ رکھا۔ مگر اسی اسکرین نے یہ بھی بتا دیا کہ روشنی سب تک یکساں نہیں پہنچتی۔ یونیسف کی ایک رپورٹ کے مطابق اس دور میں جنوبی ایشیا کے لاکھوں بچے صرف اس لیے تعلیم سے محروم رہ گئے کہ ان کے پاس انٹرنیٹ، بجلی یا ایک چھوٹا سا موبائل بھی نہیں تھا۔ پاکستان کے کئی دیہاتوں میں آج بھی ایک موبائل پورے خاندان کا سہارا ہے۔ یہ جدید دور کی تقسیم صرف ٹیکنالوجی کا مسئلہ نہیں، یہ طبقاتی خلیج کا نیا نام ہے۔

سوشل میڈیا اس نسل کے لیے ایک دو دھاری تلوار ہے۔ ایک طرف یہ اظہار کا وہ مینار ہے جو پہلے کبھی کسی نوجوان کو میسر نہ تھا۔ ایک عام سا طالب علم اپنی غزل سنا سکتا ہے، ایک مظلوم اپنے علاقے کی کہانی دنیا کو سنا سکتا ہے۔ مگر دوسری طرف اسی مینار سے جھوٹ، افواہ، بہتان اور نفرت بھی پھیلتی ہے۔ یہاں ہر چمکتی چیز سونا نہیں، ہر وائرل سچ نہیں، اور ہر مسکراتا چہرہ خوش نہیں۔

اس لیے آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم اس نسل کو کوسیں، اسے طعنے دیں کہ تم ہر وقت موبائل میں گھسے رہتے ہو۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم انہیں فرق سکھائیں۔ انہیں بتائیں کہ معلومات اور علم میں کیا فرق ہے؟ رابطے اور تعلق میں کیا فرق ہے؟ اور دیکھنے اور محسوس کرنے میں کیا فرق ہے؟

ہمیں اپنے تعلیمی اداروں میں جدید تربیت کو اخلاقی تربیت کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ انہیں سکھانا ہوگا کہ ٹیکنالوجی کو غلام بنانا ہے، آقا نہیں۔

دیکھا جائے تو جین زی بگڑی ہوئی نسل نہیں، یہ جاگی ہوئی نسل ہے۔ اس کے ہاتھ میں اگر موبائل ہے تو اسی ہاتھ میں قلم بھی دیا جا سکتا ہے۔ اس کی آنکھ میں اگر اسکرین کی چمک ہے تو اسی آنکھ میں اپنے ملک کا خواب بھی بسایا جا سکتا ہے۔ یہ نسل سوال کرتی ہے، جواب مانگتی ہے، اور یہی اس کا سب سے بڑا حسن ہے۔

آنے والا پاکستان کسی اسمبلی یا دفتر میں نہیں بن رہا، وہ اسی نوجوان کے کمرے میں بن رہا ہے جو آج رات دیر تک جاگ کر کوئی نیا ہنر سیکھ رہا ہے۔ وہ پاکستان اس کے فیصلوں سے بنے گا، اس کی سوچ سے بنے گا اور اس کے اسی موبائل سے بنے گا جسے ہم آج صرف ایک تفریح سمجھ رہے ہیں۔۔۔!!

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL