Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

نظم و ضبط ،کامیاب معاشرے کی بنیاد،تحریر: مبراء عبدالقیوم

نقطہ نظر
mubarra qayoum

نظم و ضبط بظاہر دو چھوٹے سے الفاظ ہیں مگر غور کیا جائے تو ایک کامیاب فرد، مضبوط خاندان اور پُرامن معاشرے کی بنیاد انہی دو الفاظ پر قائم ہوتی ہے۔ نظم و ضبط کا مطلب صرف وقت کی پابندی یا قطار میں کھڑا ہونا نہیں ہے۔ بلکہ زندگی کے ہر معاملے میں اصول، ذمہ داری، اعتدال اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا ہے۔ اسلام نے ہمیں عبادات سے لے کر معاملات تک زندگی کے ہر شعبے میں نظم و ترتیب کی تعلیم دی ہے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ"

ترجمہ: بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔

(سورۃ الصف: 4)

اس آیت میں صف بندی کی مثال کے ذریعے اتحاد، ترتیب اور اجتماعی نظم کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ جب افراد اپنی اپنی جگہ ذمہ داری کے ساتھ کھڑے ہوں تو ایک مضبوط نظام وجود میں آتا ہے، لیکن جب ہر شخص اپنی مرضی کو اصول پر ترجیح دینے لگے تو انتشار جنم لیتا ہے۔

اسلام کی پانچ وقت کی نماز بھی نظم و ضبط کا بہترین عملی نمونہ ہے۔ دن کے مختلف اوقات میں اذان ہمیں اپنے معمولات سے نکال کر اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے کی یاد دلاتی ہے۔ امیر ہو یا غریب، بڑا ہو یا چھوٹا، سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنی حیثیت کی بنیاد پر صف میں آگے نکل جائے۔ یوں نماز ہمیں وقت کی پابندی، مساوات، صف بندی اور اجتماعی نظم کا عملی سبق دیتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے بھی ذمہ داری اور حقوق کی ادائیگی پر زور دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

"كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ"

ترجمہ: تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ نظم و ضبط صرف حکمرانوں یا اداروں کی ذمہ داری نہیں ہے۔ والدین اپنی اولاد کے ذمہ دار ہیں، استاد اپنے شاگردوں کا، سربراہ اپنے ماتحتوں کا اور ہر شہری اپنے معاشرے کے حوالے سے ذمہ دار ہے۔

آج ہم اپنے اردگرد نظر ڈالیں تو بے نظمی کے کئی مظاہر دکھائی دیتے ہیں۔ سڑکوں پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، قطار میں اپنی باری کا انتظار نہ کرنا، راستوں پر کچرا پھینکنا، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا، دوسروں کے وقت کی قدر نہ کرنا اور سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے خبریں پھیلانا—یہ سب صرف معمولی کوتاہیاں نہیں بلکہ اجتماعی نظم کو متاثر کرنے والے رویے ہیں۔

ہم اکثر بڑے مسائل کا ذمہ دار حکومت، اداروں یا دوسروں کو قرار دیتے ہیں، مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ معاشرے کا حصہ ہونے کی حیثیت سے ہماری اپنی ذمہ داری کیا ہے۔ اگر ایک شخص سرخ بتی پر رکنے کے بجائے یہ سوچے کہ "میرے رکنے سے کیا فرق پڑے گا؟" تو یہی سوچ ہزاروں لوگوں کے رویے میں شامل ہو کر ایک بڑے مسئلے کو جنم دیتی ہے۔ اسی طرح اگر ہر شخص قطار توڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کرے تو وہاں موجود چند منٹ کی بے ترتیبی، جھگڑے اور تلخی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

موجودہ دور میں نظم و ضبط کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ کسی حادثے، ہنگامی صورتِ حال یا قدرتی آفت کے وقت اگر لوگ گھبراہٹ کے بجائے نظم و ترتیب کا مظاہرہ کریں تو جانی و مالی نقصان کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ امدادی سرگرمیوں میں بھی اگر ہر شخص اپنی مرضی کرنے کے بجائے ذمہ دار اداروں اور رضاکاروں کے ساتھ تعاون کرے تو ضرورت مندوں تک مدد زیادہ مؤثر انداز میں پہنچ سکتی ہے۔

نظم و ضبط کا تعلق صرف سڑکوں اور عوامی مقامات سے نہیں، ہمارے گھروں سے بھی ہے۔ ایک گھر میں اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری سمجھ لے تو بہت سے مسائل پیدا ہی نہیں ہوتے۔ والدین بچوں کو وقت کی پابندی اور ذمہ داری سکھائیں، بچے والدین کے وقت اور آرام کا خیال رکھیں، گھر کے کام باہمی تعاون سے کیے جائیں اور گفتگو میں بھی ایک دوسرے کے حقوق کا لحاظ رکھا جائے تو گھر کا ماحول پُرسکون رہتا ہے۔

طلبہ کے لیے نظم و ضبط کامیابی کی بنیادی شرط ہے۔ وقت پر اٹھنا، نماز کی پابندی، اسکول یا کالج کے کام کو وقت پر مکمل کرنا، امتحان کی تیاری آخری وقت پر چھوڑنے کے بجائے روزانہ تھوڑا تھوڑا پڑھنا اور موبائل فون کے استعمال میں اعتدال رکھنا—یہ چھوٹی چھوٹی عادتیں مستقبل میں بڑے نتائج پیدا کرتی ہیں۔ صرف ذہانت انسان کو کامیاب نہیں بناتی؛ مستقل مزاجی اور اپنے وقت و صلاحیت کو منظم طریقے سے استعمال کرنا بھی ضروری ہے۔

اسی طرح سوشل میڈیا نے ہمارے سامنے نظم و ضبط کی ایک نئی ذمہ داری بھی رکھی ہے۔ ہر خبر کو فوراً آگے بھیج دینا، بغیر تحقیق کسی شخص کے بارے میں بات پھیلانا یا غصے میں ایسا تبصرہ کر دینا جس سے کسی کی عزت مجروح ہو، ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ قرآنِ کریم ہمیں خبر کے معاملے میں تحقیق کا حکم دیتا ہے:

"فَتَبَيَّنُوا"

یعنی خوب تحقیق کر لیا کرو۔

(سورۃ الحجرات: 6)

اگر ہم اس قرآنی اصول کو اپنی سوشل میڈیا زندگی میں اپنا لیں تو جھوٹی خبروں، افواہوں اور غیر ضروری تنازعات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ نظم و ضبط باہر سے مسلط کیا جانے والا بوجھ نہیں، بلکہ اندر سے پیدا ہونے والی ذمہ داری کا نام ہے۔ جب انسان خود کو اصول کا پابند بنا لیتا ہے تو اسے ہر قدم پر کسی نگران کی ضرورت نہیں رہتی۔ وہ اکیلا بھی وہی کام کرتا ہے جو اسے درست معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اس کے اندر جواب دہی کا احساس پیدا ہو چکا ہوتا ہے۔

ہم ایک بہتر معاشرے کا خواب تو دیکھتے ہیں، مگر بہتر معاشرہ صرف تقریروں سے وجود میں نہیں آتا۔ اس کے لیے ہر فرد کو اپنی ذات سے آغاز کرنا ہوگا۔ وقت کی پابندی، قانون کا احترام، صفائی کا خیال، دوسروں کے حقوق کی پاسداری، وعدے کی تکمیل، سوشل میڈیا پر ذمہ داری اور اجتماعی معاملات میں نظم—یہ سب ایک مہذب معاشرے کی نشانیاں ہیں۔

نظم و ضبط دراصل زندگی کو پابندیوں میں جکڑنے کا نام نہیں، بلکہ زندگی کو بکھرنے سے بچانے کا نام ہے۔ جس طرح موتیوں کو ایک دھاگہ ترتیب دے کر خوبصورت ہار بنا دیتا ہے، اسی طرح اصول اور نظم انسانوں کی صلاحیتوں کو یکجا کرکے ایک مضبوط معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گھر پُرسکون، ہمارے ادارے مضبوط اور ہمارا معاشرہ محفوظ ہو تو تبدیلی کا آغاز دوسروں سے نہیں، اپنی ذات سے کرنا ہوگا۔ کیونکہ ایک منظم انسان ایک منظم گھر بناتا ہے، منظم گھر ایک بہتر نسل تیار کرتا ہے، اور بہتر نسل ہی ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL