Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جنسی جنون اور انسانیت کے زوال کا سائنسی محاکمہ،تحریر: نعیم خان

نقطہ نظر
naeem khan blog

معاشرے کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اکثر سنگین ترین سائنسی ، طبی اور نفسیاتی مسائل کو صرف جذبات ، لمحاتی غصے یا محض کوسنے دینے کی حد تک محدود کر دیتے ہیں۔ جب جب کسی معصوم بچے ، سال یا ڈیڑھ سال کی شیر خوار بچی پر وحشیانہ جنسی تشدد اور قتل کے خبریں سامنے آتی ہیں یا جب پشاور کے بڈھ بیر ، کراچی ، گوجرہ اور اوکاڑہ جیسے علاقوں سے قبروں سے لاشیں نکال کر ان کی بے حرمتی کے ہولناک واقعات منظرِ عام پر آتے ہیں تو ہمارا ردِعمل صرف چند دن کا شور اور پھر گہری خاموشی پر ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر ہم سائنسی ، طبی اور مجرمانہ علوم یعنی کریمنل سائنس کی کسوٹی پر اس تلخ حقیقت کو پرکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض چند افراد کا دیوانہ پن نہیں بلکہ ایک انتہائی پیچیدہ اور عمیق نفسیاتی بگاڑ کا نتیجہ ہے۔

طبی اور نفسیاتی سائنس کی دنیا میں مردہ اجسام کی طرف جنسی کشش یا ان کے ساتھ ناپاک افعال میں ملوث ہونے کے عارضے کو نیکروفیلیا کہا جاتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات اس بات پر متفق ہیں کہ یہ کوئی عام ذہنی بیماری نہیں بلکہ ایک انتہائی سنگین نفسیاتی بگاڑ ہے۔ اس بیماری کے پیچھے سب سے بڑا محرک اپنے اندر کا شدید احساسِ کمتری اور مطلق کنٹرول یعنی طاقت و اقتدار حاصل کرنے کی بیمارانہ خواہش ہوتی ہے۔ ایک زندہ انسان کے ساتھ تعلقات میں کسی شخص کو رد کیے جانے ، تنقید یا ناکامی کا خوف رہتا ہے لیکن ایک مردہ جسم یا ایک بالکل معصوم اور بے بس بچہ نہ تو انکار کر سکتا ہے اور نہ ہی مقابلہ۔ مجرم اس بے بسی کا فائدہ اٹھا کر اپنے اندر کے باطل اور خوفناک اقتدار کی تسکین کرتا ہے۔ جب یہی شخص بچوں کی طرف ناپاک کشش رکھتا ہے تو اسے طبی سائنس میں پیڈوفیلیا اور ان دونوں کے بھیانک امتزاج کو پیڈوفیلک نیکروفیلیا کہا جاتا ہے۔

اگر ہم گزشتہ چند سالوں کے واقعات کا جائزہ لیں جن میں جاوید اقبال جیسے سیریل کلر سے لے کر قصور کے واقعات زينب انصاری ، مروہ ، عاصمہ اور بڈھ بیر پشاور کا حالیہ واقعہ شامل ہے تو ایک پریشان کن حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان جرائم میں ملوث بیشتر مجرمان نوخیز یا پندرہ سے بیس سال کے نوجوان ہیں۔ نیورو سائنس اس عمر کے لڑکوں کے بارے میں بتاتی ہے کہ انسانی دماغ کا وہ حصہ جو منطق ، نتائج اور ضبطِ نفس کو کنٹرول کرتا ہے وہ پچیس سال کی عمر تک مکمل طور پر بیدار نہیں ہوتا۔ موجودہ دور میں سمارٹ فونز کے ذریعے فحش ، پرتشدد اور خوفناک حد تک انحراف شدہ مواد تک بلا روک ٹوک رسائی نے ان نوجوانوں کی اخلاقی حس کو مفلوج کر دیا ہے۔ وہ جنسی تشدد اور جابرانہ رویوں کو معمول کی بات سمجھنے لگتے ہیں۔

یہاں ایک بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا انسان طبی لحاظ سے مریض ہونے کی وجہ سے قابلِ رحم ہے یا پھر اپنے افعال کی وجہ سے قابلِ نفرت؟ اس کا جواب عدل اور انسانیت کی کسوٹی پر بالکل روشن ہے۔ طبی سائنس اسے یقیناً ایک شدید نفسیاتی بیمار وجود تسلیم کرتی ہے لیکن اخلاقی اور قانونی سائنس کا حتمی فیصلہ یہ ہے کہ مریض ہونا کسی کو معصوموں کی زندگی تباہ کرنے یا لاشوں کی بے حرمتی کا جواز فراہم نہیں کرتا۔ 15 سے 20 سال کا نوجوان اچھے اور برے کا شعور رکھتا ہے۔ جب وہ کسی معصوم کو نقصان پہنچانے کے بعد ثبوت مٹانے کے لیے اس کا قتل کرتا ہے تو یہ اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ وہ اپنے جرم اور اس کی سزا کے نتائج سے اچھی طرح واقف ہے۔ اس لیے ایسا شخص نہ صرف سخت ترین قانونی سزا کا مستحق ہے بلکہ اس کا معاشرے سے ہمیشہ کے لیے الگ تھلگ رہنا ہی انسانیت کے بقا کی ضمانت ہے۔

اگر ہم نے بطور معاشرہ اب بھی اس مسئلے کو سائنسی اور اخلاقی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش نہ کی ، اپنے بچوں کی حفاظت پر سخت نظر نہ رکھی اور انٹرنیٹ پر موجود اس زہریلے مواد کی روک تھام اور اپنے نوجوانوں کی ذہنی تربیت نہ کی تو ہم صرف لاشوں پر ماتم ہی کرتے رہیں گے۔ اس بھیانک بیماری کا علاج صرف جذباتیت میں نہیں بلکہ سخت قانونی عملداری ، فوری انصاف اور گہری معاشرتی و نفسیاتی اصلاح میں پنہاں ہے

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL