Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

فور ایل کا سوال ضلعی انتظامیہ اوکاڑہ سے ،تحریر:۔ملک ظفر اقبال بھوہڑ

نقطہ نظر
Malik-Zafar-300x206.jpeg

ضلع اوکاڑہ میں سینکڑوں کلومیٹر کا روڈ نیٹ ورک اور سینکڑوں دیہات ہیں، اس لیے دیہی سڑکوں کی بروقت دیکھ بھال محض سفری سہولت نہیں بلکہ زرعی معیشت اور عوامی رسائی سے بھی جڑی ہوئی ہے۔

آئیں زمینی حقائق پر نظر ڈالیں

21 فور ایل تا ملگدا چوک روڈ

31 فور ایل تا غیاث چوک روڈ

طبروق تا 36 فور ایل روڑ

شاہبھور نہر روڑ

سڑکوں کی موجودہ خرابی، مٹی نہ ڈالنے اور انتظامیہ کی عدم دلچسپی جیسے نکات کو میں عوامی مشاہدے کے طور پر پیش کر رہا ہوں،

ضلعی انتظامیہ کسی بھی ضلع میں ریاست اور عوام کے درمیان وہ پل ہوتی ہے جس کے ذریعے حکومتی پالیسی، ترقیاتی منصوبے اور بنیادی سہولیات عام شہری تک پہنچتی ہیں۔ ایک فعال ضلعی انتظامیہ صرف بڑے شہروں، مرکزی شاہراہوں اور نمایاں علاقوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ دور دراز دیہات اور پسماندہ علاقوں کے مسائل کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کرتی ہے۔

اوکاڑہ ضلع کی سرکاری معلومات کے مطابق یہاں سینکڑوں دیہات اور تقریباً 860 کلومیٹر کا روڈ نیٹ ورک موجود ہے۔ ایسے ضلع میں دیہی سڑکوں کی حالت دراصل پورے مقامی نظامِ زندگی کا آئینہ ہوتی ہے، کیونکہ کسان کی فصل، طالب علم کا اسکول، مریض کا ہسپتال اور عام آدمی کی روزمرہ ضرورتیں انہی سڑکوں سے جڑی ہوتی ہیں۔

مگر سوال یہ ہے کہ فور ایل کے دیہات آخر کب تک بنیادی سہولیات کے انتظار میں رہیں گے؟

یہ وہی فور ایل علاقہ ہے جس کا ذکر انتخابی موسم میں بڑے جوش و خروش سے کیا جاتا ہے۔ ووٹر اپنے نمائندگان کا انتخاب کرتے ہیں، اعتماد کا اظہار کرتے ہیں اور اپنے ووٹ کے ذریعے یہ پیغام دیتے ہیں کہ انہیں اپنے علاقے کی ترقی، سڑکوں، صحت، تعلیم، نکاسی آب اور دیگر بنیادی سہولیات کی ضرورت ہے۔

سرکاری دستاویز میں موجودہ انتخابی نمائندگی کے حوالے سے NA-136 میں چوہدری ریاضں الحق جج اور PP-190 میں میاں یاور زمان کے نام درج ہیں۔

یہاں ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے:

اگر عوام ووٹ دینے میں اپنا فرض ادا کر چکے ہیں تو کیا ترقیاتی سہولیات کی فراہمی بھی اسی سنجیدگی سے نہیں ہونی چاہیے؟

فور ایل کی متعدد سڑکوں کے بارے میں اہل علاقہ کی شکایت ہے کہ سڑکوں کے دونوں اطراف گہرے کھڈے پڑ چکے ہیں۔ بظاہر معاملہ صرف چند فٹ مٹی کا ہے، لیکن اگر بروقت توجہ نہ دی جائے تو یہی چھوٹے کھڈے سڑک کے کناروں کو کھانا شروع کرتے ہیں، پھر کنارہ ٹوٹتا ہے، پھر سڑک کی تہہ متاثر ہوتی ہے اور آخرکار وہ سڑک جس پر سرکاری خزانے سے خطیر رقم خرچ ہوئی ہو، دوبارہ مرمت یا تعمیر کی محتاج بن جاتی ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہماری ترقیاتی سوچ بعض اوقات ایسی ہے جیسے گھر کی چھت سے پانی ٹپک رہا ہو اور ہم نیچے برتن رکھنے کے بجائے پانی ختم ہونے کا انتظار کریں۔

سوال یہ نہیں کہ سڑک آج کتنی خراب ہے؛ سوال یہ ہے کہ اسے خراب ہونے سے پہلے بچانے کے لیے کیا کیا گیا؟

یہ بھی اہل علاقہ کے لیے ایک عجیب اتفاق ہے کہ سڑکوں کی تعمیر و دیکھ بھال سے متعلق محکمہ کے سربراہ کا تعلق بھی اسی فور ایل سے بتایا جاتا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر سوال اور بھی اہم ہوجاتا ہے کہ اپنے علاقے کی سڑکوں کی یہ حالت متعلقہ ذمہ داران کی نظروں سے کیسے اوجھل رہ سکتی ہے؟

یہاں کسی فرد کو موردِ الزام ٹھہرانا مقصود نہیں۔ اصل سوال ذمہ داری، نگرانی اور بروقت کارروائی کا ہے۔

فور ایل کے دیہات میں سڑکیں صرف اینٹ، بجری، تارکول اور مٹی کا نام نہیں۔ یہ کسان کے لیے منڈی تک پہنچنے کا راستہ ہیں۔ یہ بچوں کے لیے اسکول پہنچنے کا ذریعہ ہیں۔ یہ مریض کے لیے ہسپتال تک رسائی ہیں۔ یہ مزدور کے لیے روزگار تک پہنچنے کا وسیلہ ہیں۔ بارش کے موسم میں یہی سڑکیں کئی خاندانوں کے لیے آزمائش بن جاتی ہیں۔

اور اگر سڑک کے دونوں اطراف گہرے کھڈے موجود ہوں تو بارش کا پانی بھی اپنا راستہ خود بناتا ہے۔ پانی کناروں کو مزید کمزور کرتا ہے اور پھر سڑک کی خرابی ایک ایسے سلسلے میں تبدیل ہوجاتی ہے جسے بعد میں روکنے کے لیے کہیں زیادہ سرکاری رقم درکار ہوتی ہے۔

تو پھر کیوں نہ آج ہی چند ٹرالیاں مٹی کی منگوا کر سڑک کے خطرناک کناروں کو محفوظ کردیا جائے؟

یہ سوال شاید بہت سادہ ہے، مگر اس کا جواب عوام کے لیے بہت اہم ہے۔

حکومتیں بڑے منصوبوں کا اعلان کرتی ہیں، ترقیاتی پروگرام بنتے ہیں، اربوں روپے کے منصوبوں کی منظوری ہوتی ہے۔ حالیہ برسوں میں پنجاب میں بڑے روڈ منصوبوں اور اوکاڑہ سے متعلق ترقیاتی اسکیموں پر بھی سرکاری سطح پر پیش رفت سامنے آئی ہے۔اوکاڈہ شہر کے لئے اربوں روپے کی اسکیمیں بھی منظور کی گئیں ۔

لیکن ترقی کا اصل امتحان صرف بڑے منصوبوں میں نہیں ہوتا۔

اصل امتحان یہ ہے کہ ایک چھوٹے سے گاؤں کا عام آدمی اپنی گلی اور سڑک پر حکومت کی موجودگی محسوس کرتا ہے یا نہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ضلعی انتظامیہ کا کردار اہم ہوجاتا ہے۔


ضلعی انتظامیہ اور سیاست دانوں سے اہل فور ایل کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں کر رہے۔ ان کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ جن سڑکوں کے کنارے گہرے کھڈے پڑ چکے ہیں، ان کا فوری سروے کروایا جائے، متعلقہ محکمہ کو ہدایت دی جائے اور جہاں ضرورت ہو وہاں مٹی ڈال کر سڑک کے کناروں کو محفوظ کیا جائے۔

اگر سڑک ابھی قابلِ استعمال ہے تو اسے خراب ہونے سے پہلے بچانا دانش مندی ہے۔

ورنہ کل یہی معمولی مسئلہ ایک بڑے ترقیاتی منصوبے کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔جو کہ ہوتا ہے کیونکہ یہ مسلئہ آج کا نہیں کئی سالوں سے مسلسل زیر التوا ہے وجہ محکمانہ عدم دلچسپی ۔

ہم اکثر کہتے ہیں کہ سرکاری خزانہ عوام کا خزانہ ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہر سڑک، ہر پل، ہر عمارت اور ہر ترقیاتی منصوبے کی حفاظت بھی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہونی چاہیے۔

سوال عوام کی طرف سے نہیں بلکہ شاید خود سڑکیں پوچھ رہی ہیں:

"مجھے ٹوٹنے سے پہلے کون بچائے گا؟"

فور ایل کے عوام اس سوال کا جواب چاہتے ہیں۔متعلقہ انتظامیہ سے ۔

امید ہے ضلعی انتظامیہ اوکاڑہ اس مسئلے کو سیاسی نظر سے نہیں بلکہ عوامی سہولت، سرکاری اثاثوں کے تحفظ اور انتظامی ذمہ داری کے نقطۂ نظر سے دیکھیں گے اور متعلقہ محکمے کو موقع پر معائنہ کرکے ضروری کارروائی کی ہدایت جاری کریں گے۔

کیونکہ اچھی حکمرانی کا مطلب صرف نئی سڑک بنانا نہیں،

پہلے سے موجود سڑک کو وقت پر بچانا بھی اچھی حکمرانی ہے۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL