ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ: یارِ غار و یارِ مزار،تحریر: عائشہ گُل

نقطہ نظر
ayeshagul

وہ جو یارِ غار ہیں وہ جو یارِ مزار ہیں جن کا لقب صدیق اور نام عبداللہ بن عثمان ہے، کنیت ابوبکر اور والد کا نام ابو قحافہ عثمان بن عامر ہے اور والدہ کا نام ام الخیر سلمیٰ بنت صخر ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنو تمیم سے تھا۔ بنو تمیم قریش میں اپنی امانت، فیصلہ سازی اور دیانت کے معاملات میں مشہور تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سلسلہ نسب ساتویں پشت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملتا ہے، آپ دونوں کا جدِ امجد مرہ بن کعب ہے۔


اعلانِ نبوت سے پہلے کی زندگی - پاکیزہ کردار:

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اعلانِ نبوت سے پہلے بھی مکہ کے سب سے پاکیزہ، شریف اور معزز انسان مانے جاتے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیشہ کپڑے کی تجارت تھا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت بڑے تاجر تھے، مالدار ہونے کے باوجود انتہائی نرم دل، خوش اخلاق اور غریبوں کے ہمدرد تھے۔ قریش میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو علمِ الانساب کا سب سے بڑا ماہر مانا جاتا تھا، لوگ اپنا نسب نامہ آپ سے پوچھنے آتے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں بھی کبھی بتوں کو سجدہ نہیں کیا، کبھی شراب کو ہاتھ نہیں لگایا، کبھی کسی فحش محفل میں شرکت نہیں کی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی بتوں کی عبادت نہیں کی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اخلاق اتنا بلند تھا کہ مکہ کے سردار آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس اپنے فیصلے کروانے آتے تھے، اگر کسی کا خون بہہ جاتا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی دیت کا فیصلہ کرتے اور قریش آپ کے فیصلے کو مان لیتے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بچپن سے گہری دوستی تھی، دونوں کی طبیعت میں سچائی، امانت اور حیاء مشترک تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود فرمایا کہ میں نے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جاہلیت میں بھی کبھی شعر گوئی اور فحش گوئی کرتے نہیں دیکھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کی دعوت دی تو بغیر کسی دلیل کے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب سے پہلے تصدیق کی اور مردوں میں سب سے پہلے مسلمان ہونے کا شرف حاصل کیا (سیرت ابن ہشام، طبقات ابن سعد)۔


صداقت کا تاج ـ واقعہ معراج اور لقبِ صدیق:

صداقت کے پیکر کی سب سے بڑی دلیل معراج کا واقعہ ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج کی خبر دی کہ راتوں رات مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ اور وہاں سے آسمانوں کی سیر کر کے آئے ہیں تو کفارِ مکہ نے شور مچایا۔ وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس دوڑے آئے اور کہا تمہارے دوست نے یہ عجیب بات کہی ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا ہے تو سچ کہا ہے، میں تو اس سے بھی بڑی باتوں کی تصدیق کرتا ہوں کہ صبح و شام آسمان سے اللہ کی خبر آتی ہے۔ اسی عظیم تصدیق پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صدیق کا لقب عطا فرمایا (دلائل النبوۃ)۔ یہ لقب قیامت تک آپ کے نام کے ساتھ جڑ گیا۔


ہجرت کا عظیم واقعہ - رفاقت کی انتہا:

وفا کی سب سے بڑی مثال ہجرت کا واقعہ ہے۔ جب کفارِ مکہ نے دار الندوہ میں بیٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہید کرنے کا حتمی منصوبہ بنایا تو اللہ نے ہجرت کا حکم دیا۔ اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوپہر کے وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر تشریف لائے اور فرمایا اللہ نے ہجرت کی اجازت دے دی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا الصحبۃ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم؟ کیا مجھے رفاقت ملے گی؟ فرمایا ہاں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں میں نے پہلی بار دیکھا کہ کوئی خوشی سے روتا ہے (صحیح بخاری 3905)۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو بہترین اونٹنیاں چار ماہ تک ببول کے پتے کھلا کر تیار کر رکھی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اونٹنی کی قیمت ادا کی۔ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی چادر میں سلا دیا اور خود حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ غارِ ثور کی طرف روانہ ہوئے۔


غارِ ثور کا ایمان افروز منظر:

سارا راستہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کبھی آگے کبھی پیچھے چلتے۔ غار پر پہنچ کر پہلے خود اندر گئے، غار کو صاف کیا، سوراخوں کو اپنی چادر سے بند کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اندر بلایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گود میں سو گئے۔ کفار غار کے دہانے تک پہنچ گئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھبرائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا۔ اس منظر کو اللہ نے قرآن میں محفوظ کر دیا:


اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا

ترجمہ: اگر تم نبی کی مدد نہ کرو گے تو بے شک اللہ نے ان کی مدد فرمائی جب کافروں نے ان کو نکالا جب وہ دو میں سے دوسرے تھے جب دونوں غار میں تھے جب وہ اپنے ساتھی سے فرما رہے تھے غم نہ کرو بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

(سورۃ التوبہ، آیت: 40)


سخاوت کا پیکر:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے کسی کے مال نے اتنا فائدہ نہیں دیا جتنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مال نے (ابن ماجہ: 94) آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سمیت سات غلاموں کو آزاد کروایا اور غزوہ تبوک پر سارا مال لا کر فرمایا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ آیا ہوں۔


انکساری اور صبر کا پیکر:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری بیماری میں فرمایا :مُرُوْا اَبَا بَكْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہو نماز پڑھائے (بخاری: 678) اور فرمایا اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بناتا (بخاری: 3656)۔

وصالِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی:


وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ اَفَاِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ

ترجمہ: "اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ایک رسول ہی ہیں ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے تو کیا اگر وہ فوت ہو جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے"۔

(سورۃ آل عمران، آیت: 144 - بخاری: 1241)

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قرآن کو ایک مصحف میں جمع کروایا۔ (بخاری 4986)


اختتامیہ - پیغام اور درس:

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات میرے دل کے بہت قریب ہے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رفاقت ایسی نبھائی کہ وفا کی انتہا کر دی، اسی کا صلہ ہے کہ اللہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں جگہ عطا فرمائی، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یارِ غار سے یارِ مزار بن گئے۔ درس یہ ہے کہ ہم سچائی، وفا، سخاوت، انکساری اور صبر سیکھیں۔ دعا ہے اللہ ہمیں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سچی محبت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل اتباع نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔