ویزا سے متعلق الزامات پر ہونسلو جامع مسجد کا اسپانسر لائسنس منسوخ

برطانیہ کی ہوم آفس (Home Office) نے لندن کے علاقے ہونسلو میں واقع ہونسلو جامع مسجد اینڈ اسلامک سینٹر (Hounslow Jamia Masjid and Islamic Centre) کا غیر ملکی ورکرز کو اسپانسر کرنے کا لائسنس منسوخ کر دیا ہے۔
تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ مسجد کی جانب سے "مذہبی مبلغ" (Minister of Religion) کے ویزے پر اسپانسر کیے جانے والے افراد حقیقت میں مسجد میں کام نہیں کر رہے تھے، بلکہ وہ دوسرے مقامات (جیسے کہ ایک اسکول، ایک قانونی فرم، اور ہیسٹن میں ایک قصا ب کی دکان) پر کام کرتے ہوئے پائے گئے-
الزام ہے کہ کچھ افراد نے جھوٹے بہانے سے برطانیہ میں رہائش کا حق حاصل کرنے کی غرض سے "ویزا اسکیم" (جعلی ویزا اسکیم) کے تحت نقد رقم ادا کی تھی۔
مسجد کے سابق ٹرسٹی عبدالمجید نے الزام عائد کیا کہ بعض ٹرسٹیان نے اپنے رشتہ داروں کو تنخواہ پر ظاہر کر کے ویزا کے حصول میں مدد دی۔ اس کے علاوہ چیریٹی کمیشن اور ہونسلو کونسل کی جانب سے £1 ملین سے زائد کے مالی غلط استعمال اور بے ضابطگیوں کی بھی الگ سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ہونسلو جامع مسجد کی انتظامیہ نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے اور حکومت کی جانب سے اسپانسر لائسنس منسوخ کرنے کے فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے-
مالی بدعنوانی کے الگ الگ الزامات کے بعد چیریٹی کمیشن کی جانب سے بھی اس معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں گزشتہ برس 'دی سن' (The Sun) نے انکشاف کیا تھا کہ چیریٹی کمیشن، ہونسلو جامع مسجد اینڈ اسلامک سینٹر میں 10 لاکھ پاؤنڈ سے زائد رقم کے غلط استعمال اور بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کر رہا ہے۔
ہونسلو کونسل کی جانب سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔
مزید پڑھیں




