دیہات کو ڈیجیٹل معیشت کیسے بنائیں ،تحریر: ندیم یعقوب گوہر
نقطہ نظر
پاکستان کی معاشی ترقی کا سفر ایک عجیب تضاد کا شکار رہا ہے۔ ایک طرف ہم اسلام آباد، کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں جدید بینکاری، فائیو جی انٹرنیٹ اور تیز رفتار ڈیجیٹل سروسز کے خواب دیکھ رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف ملک کی ساٹھ فیصد سے زائد آبادی آج بھی ان دیہاتوں میں آباد ہے جہاں معیشت کا سارا پہیہ پرانے، فرسودہ اور نقد لین دین کے سہارے گھوم رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں "کیش لیس اکانومی" پر ہونے والی سیر حاصل بحثوں نے ایک بات روزِ روشن کی طرح واضح کر دی ہے کہ جب تک پاکستان کے دیہات قومی معیشت کے مرکزی دھارے کا حصہ نہیں بنتے، تب تک پائیدار ترقی محض ایک خوش فہم خواب ہی رہے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ ملکی معیشت کی نبض شہروں کی چمک دمک میں نہیں بلکہ دیہاتوں کی پگڈنڈیوں میں دھڑکتی ہے، اور اگر ہم نے اس نبض کو سنبھالنا ہے تو ہمیں دیہی معاشرت کو ڈیجیٹل معیشت کی طرف لانا ہی ہوگا۔
دیہی آبادی کو ڈیجیٹل دھارے میں لانے کے لیے سب سے پہلے ہمیں یہ بنیادی نکتہ سمجھنا ہوگا کہ شہری ماڈل دیہات پر جوں کا توں لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ گاؤں کے ایک عام کاشتکار یا چھوٹے کریانہ اسٹور کے مالک کے پاس نہ تو ہر وقت جدید ترین اسمارٹ فون دستیاب ہوتا ہے اور نہ ہی وہ تیز رفتار انٹرنیٹ کا متحمل ہو سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں سب سے پہلا قدم متبادل اور سادہ ٹیکنالوجی کا فروغ ہے۔ ہمیں اپنے مالیاتی ڈھانچے کو بغیر انٹرنیٹ کے کام کرنے والے سادہ موبائل کوڈز یعنی یو ایس ایس ڈی ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ہوگا۔ جب ایک کسان اپنے پرانے بٹنوں والے فون سے محض ایک سادہ کوڈ ڈائل کر کے کھاد، بیج یا ڈیزل کی ادائیگی کرنے کے قابل ہوگا، تب جا کر وہ اس نظام کو اپنائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کی بندش کے دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے دیہی علاقوں میں موجود مواصلاتی ٹاورز اور وائی فائی ڈیروں کو لازمی شمسی توانائی پر منتقل کرنا ہوگا تاکہ کسی تکنیکی تعطل کی وجہ سے غریب کسان کا لین دین درمیان میں نہ لٹک جائے۔
دوسرا اور سب سے اہم ستون ہماری زرعی ویلیو چین کا ڈیجیٹل انضمام ہے۔ ہمارے دیہاتوں کی معیشت خالصتاً زراعت، غلہ منڈی اور مویشیوں کے گرد گھومتی ہے۔ آج بھی جب کسان اپنی گندم، کپاس، چاول یا گنا لے کر منڈی جاتا ہے تو آڑھتی اسے نقد نوٹوں کی صورت میں ادائیگی کرتا ہے، جس میں کٹوتی، فراڈ اور چوری کا شدید خطرہ موجود ہوتا ہے۔ حکومت اور اسٹیٹ بینک کو قانون سازی کے ذریعے یہ لازمی قرار دینا ہوگا کہ تمام شوگر ملز، رائس ملز اور بڑی غلہ منڈیاں فصل کی قیمت براہِ راست کسان کے موبائل والٹ یا "راست" اکاؤنٹ میں منتقل کریں۔ جب ایک کسان کے پاس اس کی محنت کی کمائی براہِ راست اس کے فون میں آئے گی، تو وہ مجبوری میں نہیں بلکہ اپنی سہولت کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا استعمال شروع کرے گا۔ اسی طرح کھاد، بیج اور بجلی پر دی جانے والی تمام زرعی سبسڈیز کو کسان کارڈ اور ڈیجیٹل واؤچرز سے مشروط کر دیا جائے تاکہ بیچ میں کھانے والے منافع خوروں کا خاتمہ ہو اور پیسہ سیدھا مستحق کاشتکار کے ہاتھ میں پہنچے۔
اس نظام کو کامیابی سے چلانے کے لیے تیسری ضرورت مقامی سطح پر ایک فعال اور بااعتماد نیٹ ورک کا قیام ہے۔ گاؤں کے عام آدمی کا سب سے بڑا خوف یہ ہوتا ہے کہ اگر اس کے پیسے موبائل میں آ گئے تو وہ اسے روزمرہ خریداری کے لیے کہاں خرچ کرے گا یا بوقتِ ضرورت نقد رقم کیسے حاصل کرے گا۔ بینکوں کے لیے ہر گاؤں میں اے ٹی ایم مشینیں لگانا ممکن نہیں، لہٰذا ہمیں گاؤں کے کریانہ اسٹورز، کھاد کے ڈیلرز اور مقامی ڈاکخانوں کو تصدیق شدہ ڈیجیٹل ایجنٹس بنانا ہوگا۔ اگر ہر کریانہ اسٹور پر زیرو فیس کے ساتھ ایک ایسا کیو آر کوڈ لگا ہو جس پر کسی بھی ایپ سے اسکین ہو سکے، اور دکاندار کو یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ ڈیجیٹل ادائیگی قبول کرنے پر اس کی دکان پر نہ تو سیلز ٹیکس کا چھاپہ پڑے گا اور نہ ہی اس سے کوئی اضافی کٹوتی ہوگی، تو وہ ہنسی خوشی نقد کے بجائے ڈیجیٹل کوڈ کو ترجیح دے گا۔ اس کے علاوہ بوڑھے کاشتکاروں اور کھیت مزدوروں کے لیے، جن کے ہاتھ کے انگوٹھے محنت مشقت کی وجہ سے بائیو میٹرک مشینوں پر کام نہیں کرتے، چہرے کی شناخت یا آنکھ کی پتلی کے اسکین کی سہولت فراہم کرنا ناگزیر ہے۔
عوام کے رویوں میں تبدیلی لانا ہمیشہ سے ایک صبر آزما عمل رہا ہے، اور دیہی علاقوں میں یہ کام زبردستی کے بجائے فائدے کی ترغیب سے ہی ممکن ہے۔ دیہاتی فرد کو جب تک یہ واضح نظر نہیں آئے گا کہ فون سے ادائیگی کرنے پر اس کی کچھ بچت ہو رہی ہے، وہ اپنے روایتی بٹوے سے نقد نکالنا بند نہیں کرے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ پٹوار خانے کی فرد کے حصول، زمین کے انتقال، یونین کونسل کے سرٹیفکیٹس اور نہری پانی کے آبیانے کی نقد وصولی سختی سے بند کر دے اور اسے موبائل اکاؤنٹ کی ادائیگی پر معمولی رعایت کے ساتھ جوڑ دے۔ دوسری جانب، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے فلاحی منصوبوں کی رقوم کو ایجنٹس کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے خواتین کے ذاتی موبائل والٹس میں منتقل کیا جائے تاکہ دیہی خواتین بھی معاشی طور پر بااختیار بنیں اور اپنے گھر کے اخراجات خود ڈیجیٹل طریقے سے چلا سکیں۔
اس کے ساتھ ساتھ مقامی زبانوں کی اہمیت کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے ہاں بینکنگ ایپس انگریزی یا مشکل اردو میں بنائی جاتی ہیں جو ایک عام ناخواندہ دیہاتی کی سمجھ سے بالاتر ہوتی ہیں۔ اگر یہی ایپس پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی اور سرائیکی زبانوں میں صوتی رہنمائی فراہم کریں، یعنی موبائل بول کر کسان کو بتائے کہ اس کے اکاؤنٹ میں کتنے پیسے آئے اور کس کو بھیجے گئے، تو اس سے اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔ گاؤں کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو "ڈیجیٹل ایمبیسیڈر" بنا کر بزرگوں اور کسانوں کی رہنمائی پر مامور کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کی معاشی بقا اور ایک مستحکم، دستاویزی کیش لیس اکانومی کا خواب اس وقت تک تشنۂ تکمیل رہے گا جب تک ہم اپنے کسان، چرواہے اور دیہی کاریگر کو مالیاتی خود مختاری نہیں دیتے۔ دیہی علاقوں کو ڈیجیٹل بنانا محض کمپیوٹر اور وائی فائی فراہم کرنا نہیں بلکہ ایک مظلوم، غیر دستاویزی اور پسے ہوئے طبقے کو باوقار قومی معاشی نظام کا حصہ بنانا ہے۔ اگر ریاست نے اب بھی یہ انقلابی اقدامات نہ اٹھائے تو ہم عالمی دوڑ میں مزید پیچھے رہ جائیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم لفظی دعووں سے نکل کر ہر گاؤں کو ایک خود کفیل ڈیجیٹل یونٹ میں تبدیل کریں، کیونکہ جب پاکستان کا دیہات معاشی طور پر جڑے گا اور توانا ہوگا، تب ہی ملک حقیقی خوشحالی کی شاہراہ پر دوڑے گا۔





