بدھ، 4 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکنز کو شکست، ایرانی سفارتخانے کی ٹرمپ پر طنزیہ میم وائرل


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ری پبلکن جماعت کو 2026ء کے وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد بھارت میں ایرانی سفارت خانے نے بھی ان پر طنزیہ میم شئیر کر دی-


ایرانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک طنزیہ میم شیئر کی ہے اے آئی ویڈیو پر مبنی میم میں 4 افراد ڈونلڈ ٹرمپ کو اٹھا کر ایک کوڑے دان میں پھینکتے دکھائی دے رہے ہیں، جس پر ’خطر نا ک فضلہ‘ کے الفاظ درج ہیں۔


https://www.instagram.com/reels/DfT4CNvSiUY/


سفارت خانے نے تصویر کے ساتھ کیپشن میں صرف ’امریکی وسط مدتی انتخابات‘ لکھا ہے، جسے ٹرمپ اور ان کی جماعت کی انتخابی ناکامی پر طنز قرار دیا جا رہا ہے۔


یہ طنزیہ پوسٹ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد سامنے آئی ہے، جن میں ڈیموکریٹک پارٹی نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔


ایرانی سفارتخانے کے علاوہ بھی  سوشل میڈیا پر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق میمز وائرل ہو رہی ہیں جس میں انہیں کہیں ستو کا شربت بناتے دیکھا جا سکتا ہے تو کہیں لفیاں بیچتے۔


ایک ویڈیو میں ان کو سبزی بیچتے دیکھا گیا اور کہیں شکست کے بعد انہیں وائٹ ہاؤس سے نکال کر کوڑ ے دان میں پھینکنے کی ویڈیو سامنے آئی،ایک سوشل میڈیا صارف کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں ٹرمپ کو سڑک کنارے ستو کا شربت تیار کرتے اور اسے ’ٹرمپ ستو کا شربت‘ کے نام سے فروخت کرتے دکھایا گیا ہے۔


https://x.com/Garima/status/2117811672026894678?a=LNQZ8ynv78mkxUY-hWI&s=20


مصنوعی ذہانت اور ویڈیو ایڈیٹنگ کی مدد سے تیار کردہ اس مزاحیہ کلپ میں ٹرمپ کو کاروباری مقابلے پر گفتگو کرتے اور اپنی زندگی سے خوش دکھایا گیا ہے۔


ایک اور مزاحیہ ویڈیو میں ڈونلڈ ٹرمپ کو گلیوں میں قلفی فروخت کرتے دکھایا گیا ہے، جہاں وہ روایتی خوانچہ فروش کے انداز میں آوازیں لگاتے ہوئے لوگوں کو متوجہ کر رہے ہیں کہ ’کھوئے والی قلفی لے لو، کھوئے والی قلفی!‘ ویڈیو میں ٹرمپ کا یہ دیسی روپ سوشل میڈیا صارفین کے لیے دلچسپی اور تفریح کا باعث بن رہا ہے۔


https://x.com/Being_Humor/status/2117815554862207197?a=mtat2frsgo5pfAuCb9k&s=20


واضح رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹس نے سینیٹ کی 6 ری پبلکن نشستیں حاصل کرکے ایوان میں اکثریت حاصل کی، جبکہ ایوانِ نمائندگان میں بھی کم از کم 8 نشستیں ری پبلکنز سے چھین لیں۔

انتخابات میں ری پبلکنز کی شکست کے بعد انتخابی نتائج قبول کرنے اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔