جونیجو سے آج تک کیا تاریخ ایک بار پھر سیاسی موڑ لینے جا رہی ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی
نقطہ نظراقتدار کے سفر میں اٹک سے پہلے کیا بدل جائے گا؟ تاریخ کے سائے گہرے ہونے لگے

جب وزیراعظم واپس آیا تو وزیراعظم نہ رہا کیا کے پی کے کی سیاست بھی کسی بڑے موڑ پر ہے؟
تجزیہ شہزاد قریشی
تاریخ کے آئینے میں آج کا منظرنامہ
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں 29 مئی 1988 ایک غیر معمولی دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ محمد خان جونیجو بطور وزیرِاعظم چین، جنوبی کوریا اور فلپائن کے سرکاری دورے سے وطن واپس لوٹے تھے۔ ابھی ان کے طیارے کے پہیے اسلام آباد کی سرزمین کو چھوئے ہی تھے کہ سیاسی فضا بدل چکی تھی۔ جنرل ضیاء الحق نے ان کی حکومت برطرف کر دی، قومی اسمبلی تحلیل کر دی اور اقتدار کا پورا نقشہ تبدیل ہو گیا۔ جونیجو صاحب بیرونِ ملک گئے تو وزیراعظم تھے، لیکن وطن واپس پہنچے تو وزیراعظم نہیں رہے تھے۔ آج جب خیبر پختونخوا کے سیاسی حالات، وفاق اور صوبے کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، اور گورنر راج کی بحث کو دیکھا جاتا ہے تو تاریخ کا وہ باب ذہن میں تازہ ہو جاتا ہے۔ تاریخ خود کو دہراتی نہیں، لیکن بعض اوقات اس کے سائے حال پر ضرور پڑتے ہیں۔ میرا تاثر یہ ہے کہ سیاسی درجۂ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ حالات جس سمت جا رہے ہیں، وہاں یہ سوال اہم نہیں کہ کون جیتے گا اور کون ہارے گا، بلکہ یہ ہے کہ کیا سیاسی قوتیں تصادم سے بچ سکیں گی؟
اقتدار کے ایوانوں میں فیصلے اکثر سڑکوں پر ہونے والے نعروں سے پہلے ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے بعض اوقات منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی سیاسی نقشے بدل جاتے ہیں۔ جونیجو کے دور کا سبق یہی ہے کہ سیاست میں کوئی عہدہ مستقل نہیں، کوئی طاقت دائمی نہیں اور کوئی منظر نامہ آخری نہیں ہوتا۔ آج کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہی محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے دن پاکستان کی سیاست کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ گورنر راج ہو یا نہ ہو، کوئی آئینی تبدیلی آئے یا نہ آئے، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ سیاسی کشیدگی ملک کے مفاد میں نہیں۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو سیاسی استحکام عطا فرمائے، تمام سیاسی قوتوں کو تحمل، بصیرت اور مکالمے کی راہ دکھائے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب سیاست دان ایک دوسرے کو شکست دینے میں مصروف ہو جاتے ہیں تو نقصان صرف سیاست کا نہیں، پورے ملک کا ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں





