مریم نواز کا 3 سالوں میں 10 لاکھ نوجوانوں کو ہنر سکھانے کا اعلان

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اگلے تین سالوں کے دوران مجموعی طور پر 10 لاکھ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کابڑا ہدف مقرر کیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت سکل ڈویلپمنٹ اور پروفیشنل ٹریننگ کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا،اجلاس میں صوبے کے نوجوانوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ہنر مند بنانے اور روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرنے کے لیے کئی تاریخی فیصلوں کی منظوری دی گئی ہے۔
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز نے اگلے تین سالوں میں مجموعی طور پر 10 لاکھ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ٹیکنیکل ٹریننگ اور امتحانات کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں آن لائن رجسٹریشن پورٹل، ڈیجیٹل امتحانی پرچے اور کیو آر کوڈ کا نظام شامل ہوگا۔
اس ڈیجیٹل ایگزامینیشن سسٹم کے نفاذ سے امتحانات دینے والے امیدواروں کی صلاحیت 2 لاکھ سے بڑھ کر 6 لاکھ تک ہو جائے گی۔ علاوہ ازیں، پنجاب کے ٹیکنیکل کالج سے تربیت یافتہ ایک الیکٹریشن نے شان دار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سطح پر ’48 ویں ورلڈ اسکل شنگھائی مقابلوں’ میں چوتھی پوزیشن حاصل کر کے ملک کا نام روشن کیا ہے۔
پنجاب میں ہنر کی ترویج کے لیے صوبے کا پہلا ماڈرن ’وڈ ورکنگ سینٹر آف ایکسی لینس‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ الیکٹریکل، وہیکل اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے شعبوں کے لیے بھی خصوصی سینٹرز آف ایکسی لینس بنائے جائیں گے۔ ایگریکلچر اور ہیوی مشینری آپریٹر سرٹیفکیشن پروگرام شروع کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔
تاریخ میں پہلی بار ’سی ایم لینگویج لرننگ پروگرام‘ کے تحت نوجوانوں کو 13 مختلف زبانوں کے کورسز کروائے جائیں گے۔ ساتھ ہی پنجاب کی پہلی ’کلیننگ اینڈ کلینر اکیڈمی‘ قائم کرنے کی منظوری بھی دی گئی ہے، جہاں پاکستان کلیننگ اینڈ کلیننگ ایسوسی ایشن کے تحت کلیننگ سپورٹ، ہیلتھ کیئر، ہاسپٹلٹی اور ڈومسٹک ہیلپ سمیت دیگر شعبوں میں تربیت فراہم کی جائے گی۔
مزید برآں، اداروں کی بہتری کے لیے 15,065 اساتذہ اور سٹاف کو انڈسٹری، مینجمنٹ اور سکلز اپ گریڈیشن کی تربیت دی گئی ہے، جبکہ 220 کمپیوٹر لیبز، 100 انڈسٹریل سٹچنگ لیبز، 70 سولر لیبز، 27 ہیلتھ کیئر لیبز کے ساتھ ساتھ وی آر ویلڈنگ اور الیکٹرک وہیکل لیبز کو بھی اپ گریڈ کر دیا گیا ہے۔
لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور ملتان کے صنعتی کلسٹرز میں 25 ہزار نوجوانوں کی تربیت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ بی پی او سیکٹر میں 25 ہزار نوجوانوں کو تربیت دی جائے گی۔ 7500 نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی میں بین الاقوامی سرٹیفیکیشن دی جائے گی۔ 2.6 ارب روپے کی لاگت سے زراعت اور گرین انوائرمنٹ میں 20 ہزار نوجوانوں کی تربیت کی جائے گی۔
پہچان اینڈ اُمید پروگرام کے تحت 2,474 خواجہ سراؤں کی ٹریننگ مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ ’اُمید‘ پروگرام کے تحت 10 ہزار خصوصی افراد کو تربیت دی جائے گی ٹیوٹا کے 69 اداروں میں یورپی کوالیفیکیشن فریم ورک کے مطابق سالانہ 45,700 نوجوانوں کو تربیت فراہم کی جائے گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پنجاب میں اب تک 4 لاکھ نوجوانوں کی سکل ٹریننگ مکمل کی جا چکی ہے، جن میں سے 45 فیصد سے زائد نوجوان برسرِ روزگار ہیں جبکہ بیشتر نے اپنی تعلیم جاری رکھنے کو ترجیح دی ہے اسکل ڈویلپمنٹ اینڈ انٹرپرینیورشپ ڈیپارٹمنٹ کے تحت ٹریننگ مکمل کرنے والے پونے 2 لاکھ (175,000) نوجوان باعزت روزگار کما رہے ہیں، جن میں سے 38 ہزار سے زائد بیرونِ ملک ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
مجموعی طور پر ٹریننگ حاصل کرنے والے 90,029 نوجوان مقامی انڈسٹری میں، 53,509 سیلف ایمپلائمنٹ (خود روزگار)، 38,557 بیرونِ ملک اور 39,325 نے تعلیم جاری رکھی ہے مینوفیکچرنگ سیکٹر میں 1,13,333 (50 ہزار سے زائد فوری برسرِ روزگار)، آئی ٹی سیکٹر میں 1,11,607 (49,588 برسرِ روزگار)، انرجی سیکٹر میں 35,227 (15,651 برسرِ روزگار)، کنسٹرکشن میں 27,069 (12,026 برسرِ روزگار)، ہاسپٹلٹی اینڈ ٹورازم میں 15,319 (6,807 برسرِ روزگار)، ایگریکلچر اور لائیو سٹاک میں 23,269 (10,033 برسرِ روزگار) نوجوانوں نے روزگار حاصل کیا۔
دیہات میں خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے ’ایمپاورنگ وومن بذریعہ انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ پروگرام کے تحت 3 ہزار خواتین گھر بیٹھے روزگار کما رہی ہیں-
مزید پڑھیں





