بائنانس نے چوری ہونے والے ڈیجیٹل اثاثوں کا 90 فیصد نقصان پورا کرلیا

دنیا کی بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس نے سائبر حملے میں چوری ہونے والے ڈیجیٹل اثاثوں میں سے 90 فیصد کی جگہ نئے ٹوکن خرید کر پوری کردی ہے۔
غیر ملکی میڈیا اور خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 30 اکتوبر کو ہونے والے سائبر حملے میں تقریباً 6.3 ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثا ثے متاثر ہوئے تھے بائنانس کے شریک چیف ایگزیکٹو رچرڈ ٹینگ نے بتایا کہ کمپنی نے چوری شدہ اثاثوں کا 90 فیصد دوبارہ حاصل کر نے کے لیے نئے ٹوکن خرید لیے ہیں باقی 10 فیصد ایسے ٹوکنز پر مشتمل ہے جن کی مارکیٹ میں دستیابی اور خرید و فروخت نسبتاً محد ود ہے، اس لیے انہیں حاصل کرنے میں مزید وقت لگ سکتا ہےصارفین کو اس واقعے کے باعث مالی نقصان نہیں اٹھانا پڑے گا-
کمپنی نے نقصان پورا کرنے کے لیے اپنے کارپوریٹ خزانے، فیوچرز انشورنس فنڈ اور صارفین کے تحفظ کے لیے قائم سیف فنڈ کے وسائل استعمال کیے ہیں۔ بائنانس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ باقی ماندہ نقصان بھی صارفین پر منتقل نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے سائبر حملے کا ذمہ دار شمالی کوریا سے منسلک ہیکنگ گروپ ’ٹریڈر ٹریٹر‘ کو قرار دیا ہے۔ ادارے نے دیگر کرپٹو ایکسچینجز اور متعلقہ کمپنیوں کو چوری شدہ اثاثوں سے منسلک لین دین روکنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
حملے کے بعد بائنانس نے صارفین کی رقوم کی منتقلی عارضی طور پر روک دی تھی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ یکم نومبر سے رقم نکلوانے کی سہولت بحال کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں


