اتوار، 1 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بھارت میں انتخابی فہرستوں میں دھاندلیوں کیخلاف احتجاج،چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کامطالبہ زور پکڑ گیا


بھارت میں انتخابی فہرستوں میں دھاندلیوں کے خلاف اپوزیشن اتحاد کی جانب سے جمہوریت بچاؤ احتجاجی مارچ کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ 


بھارتی میڈیا کے مطابق اپوزیشن جماعتیں انتخابی فہرستوں میں دھاندلیوں کے خلاف کانگریس رہنما راہول گاندھی کی قیادت میں نئی دہلی میں احتجاجی مارچ کررہی ہیں احتجاجی ریلی نئی دہلی کے وسطی علاقے سے رام لیلا میدان پہنچے گی جبکہ ریلی میں اپوزیشن جماعتیں، طلبہ تنظیمیں اور نوجوانوں شریک ہوں گےاپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ احتجاجی ریلی میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے، ریلی پہنچنے کے بعد رام لیلا میدان میں اپوزیشن کا جلسہ ہوگا۔


بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں اتوار کے روز اپوزیشن جماعتوں کی قیادت میں ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیامظاہرین نے ووٹر فہرستوں میں تبدیلی کے عمل کو متنازع قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس سے حکمران جماعت کو غیر منصفانہ فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔


دوسری جانب اپوزیشن کے احتجاج سے قبل نئی دہلی میں سکیورٹی سخت کر دی گئی، لاٹھیوں اور ڈھالوں سے لیس بڑی تعداد میں بھارتی سکیورٹی اہلکار رام لیلا میدان کے اطراف تعینات کر دیے گئے, ریلی میں بھارتی چیف الیکشن کمشنر گنیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا جائے گا۔


بھارتی الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ووٹر فہرستوں کو درست اور شفاف بنانے کے لیے یہ اقدام ضروری ہے، تاہم اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ اس عمل کو وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حق میں استعمال کیا جا رہا ہے۔


دوسری جانب الیکشن کمیشن اور بی جے پی دونوں نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔


بھارت میں ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے نتیجے میں 13 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ افراد کے نام انتخابی فہرستوں سے نکال دیے گئے ہیں,بھارتی میڈیا کے رپورٹ کردہ اعداد و شمار اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں بھی ان اعداد و شمار کا حوالہ دیا گیا ہے۔


ناقدین کا کہنا ہے کہ ناموں کے اخراج سے اقلیتیں، خصوصاً مسلمان، غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے ہیں بی جے پی کے ہندو قوم پرست ارکان طویل عرصے سے الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ پڑوسی ملک بنگلہ دیش سے بڑی تعداد میں غیر دستاویزی مسلمان تارکین وطن غیر قانونی طور پر بھارت کی ووٹر فہرستوں میں شامل ہوئے ہیں۔


تاہم انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ نظرثانی کا مقصد ووٹر فہرستوں سے دوہرے اندراجات، وفات پا جانے والے افراد اور جعلی اندراجات کو ختم کرنا تھا۔ حکام کے مطابق اہل ووٹرز اب بھی اپنا نام فہرست میں شامل کرانے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔


انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے ووٹر فہرستوں سے ناموں کے اخراج کے عمل کو من مانا اور سنگین خامیوں پر مبنی قرار دیا ہےتنظیم نے رواں ہفتے جاری بیان میں کہا کہ حکام کو ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کا یہ عمل فوری طور پر ختم کر دینا چاہیے، جس کے با عث بھارت کے سب سے زیادہ محروم طبقات کو ووٹ کے حق اور دیگر سرکاری خدمات سے محروم کیا گیا ہے۔


آن لائن نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی احتجاجی تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے بھی ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے خلاف مہم میں بھرپور حصہ لیا ہےگزشتہ ماہ ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران اس تحریک کے متعدد رہنماؤں کو پولیس نے عارضی طور پر حر است میں بھی لیا تھا مئی میں قائم ہونے والی اس تحریک نے سوشل میڈیا پر لاکھوں فالوورز حاصل کر لیے ہیں۔


اس سے قبل جولائی میں امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف کاکروچ تحریک کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا تھا، جو مودی حکومت کی جانب سے ایک غیر معمولی پسپائی قرار دی گئی۔