پیٹرول کی قیمتوں میں رد وبدل کا طریقہ کار پھر تبدیل! نیا طریقہ کار سامنے آگیا

ایران امریکا کشیدگی کے تناظر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار پھر تبدیل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایران امریکا کشیدگی کے تناظر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار پھر تبدیل کر دیا گیا ہے اور کابینہ کی منظوری کے بعد پیٹرولیم ڈویژن نے ریفائنریز کو نیا فارمولا جاری کر دیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اب پیٹرول کی درآمدی قیمت کا تعین پی ایس او کے اصل درآمدی کارگو کی لاگت پر ہوگا۔ لاگت دستیاب نہ ہونے پر آخری کارگو کا پریمیم، اضافی اخراجات کے استعمال کی اجازت ہوگی اور ریفائنریز آئندہ 30 روز تک پیٹرول کی قیمت 7 مارچ 2026 کی سطح پر مقرر کر سکیں گی۔ ریفائنریز کو پریمیم، اضافی اخراجات اور کسٹمز ڈیوٹی 7 مارچ کی سطح پر رکھنے کی اجازت ہوگی جب کہ درآمدی اور ایکس ریفائنری قیمت کا فرق ریفائنریز کو پیٹرولیم لیوی کی مد میں جمع کرانا ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پٹرولیم لیوی میں رد و بدل کا فائدہ صرف پیٹرول صارفین کو منتقل کیا جائے گا، جو پٹرول کی قیمت میں کمی کی صورت میں ملے گا۔
اس سلسلے میں پیٹرولیم ڈویژن نے تمام آئل ریفائنریز کو باضابطہ خطوط ارسال کر دیے ہیں جس میں ریفائنریز کو پٹرول کی روزانہ فروخت کی تفصیلات پیٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کو فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ یومیہ بنیاد پر فروخت کی رپورٹس کے ساتھ سی پی آرز اور چالان بھی جمع کرانا ہوں گے۔ اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن اضافی لیوی کی ادائیگیوں اور حسابات کی تصدیق کریں گے۔
واضح رہے کہ ایران جنگ سے قبل پاکستان میں 15 روز بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد وبدل کا نظام رائج تھا، جو 28 فروری کو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد ہفتہ وار شیڈول میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔
بعد ازاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد وبدل کا نظام یومیہ بنیاد پر کیا جانے لگا، جو تاحال رائج ہے۔
مزید پڑھیں





