بدھ، 14 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

محسن نقوی سے روسی ہم منصب کی ملاقات


روس کے وزیر داخلہ ولادیمیر کولاکولتسیف نےوفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے اہم ملاقات کی، جبکہ دونوں رہنماؤں کے درمیان وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات بھی ہوئے۔


ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے وزرائے داخلہ نے مشترکہ مفادات کے تمام شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے پختہ عزم کا اعادہ کیاجبکہ دونوں ممالک کی وزارتِ داخلہ کے ورکنگ گروپس جلد ایک دوسرے کے ملک کے دورے کریں گے-


ملاقات کے دوران پاکستان اور روس کے درمیان منظم جرائم کی روک تھام، معلومات کے تبادلے، مجرمان کے تبادلے  اور ری ایڈمیشن معاہدے پر جلد عملدرآمد کو حتمی شکل دینے پر اتفاق ہوا۔ علاوہ ازیں، سائبر کرائم کی روک تھام، اینٹی نارکوٹکس فورس اور دونوں ممالک کی پولیس اکیڈمیز کے مابین اشتراک کار بڑھانے پر بھی مکمل ہم آہنگی ظاہر کی گئی۔


مذاکرات میں پاکستان سے روس ہنر مند افرادی قوت بھیجنے کے ساتھ ساتھ سیاحوں اور بزنس کمیونٹی کے لیے ویزا کے حصول کو آسان بنانے پر بھی سیر حاصل تبادلہ خیال کیا گیا۔


اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ’منظم جرائم کی روک تھام کا معاہدہ باہمی تعاون کے فروغ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا ویزا رجیم میں آسانی سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط مزید مضبوط ہوں گے پاکستان بالخصوص سائبر کرائم کے سدباب کے لیے روس کے تجربات اور جدید تکنیک سے استفادہ کرنا چاہتا ہے اس وقت 1,300 کے قریب پاکستانی طلباء روس میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اور ہماری خواہش ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے مزید پاکستانی طلباء روس جائیں۔


روس کے وزیر داخلہ ولادیمیر کولاکولتسیف نے مشترکہ اقدامات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’دہشتگردی، منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی مائیگریشن جیسے سنگین مسائل اور تمام منظم جرائم کی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔ روس نے موثر اور جامع اقدامات کے ذریعے اپنے ملک میں سائبر کرائم کی شرح میں 33 فیصد تک کمی حاصل کی ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔


اس اہم ملاقات اور وفود کی سطح کے مذاکرات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، پاکستان میں روس کے سفیر، اسپیشل و ایڈیشنل سیکرٹریز داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے، کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی، آئی جی ایف سی، ڈی جی نیشنل فرانزک ایجنسی، ڈی جی این سی سی آئی اے، ڈی جی پاسپورٹ، چیف کمشنر، آئی جی اسلام آباد پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔