جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

محمد نوید مرزا، ایک ممتاز شاعر،تحریر: محمد احسان ثانی

نقطہ نظر

آدمی جس شعبے سے منسلک ہوتا ہے، وہ شعبہ اس کی پہچان بن جاتا ہے۔ نام اور شعبہ اس طرح ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں کہ جب تک شعبے کے ساتھ نام نہ لیا جائے، آدمی کی شناخت مشکل ہو جاتی ہے۔ لیکن بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے نام سے کسی شعبے کی پہچان نہیں ہوتی، بلکہ اس شعبے کی پہچان ان کے نام سے ہوتی ہے۔ ایسا ہی ایک نام محمد نوید مرزا صاحب کا ہے، جن کا تعلق پاکستان ملٹری اکاؤنٹس سے ہے۔ آپ صاحبِ اسلوب شاعر، ادیب اور کالم نگار ہیں۔


محمد نوید مرزا کے والدِ محترم، جناب بشیر رحمانی صاحب بھی اسی شعبے سے منسلک تھے، جو قبل از وقت ریٹائر ہوگئے۔ والدِ محترم کی ریٹائرمنٹ کے بعد محمد نوید مرزا بھی اسی شعبے، یعنی پاکستان ملٹری اکاؤنٹس، سے وابستہ ہوگئے۔ محمد نوید مرزا اس ادارے میں بیس سال کی عمر میں بھرتی ہوئے۔ اس وقت بطور شاعر و ادیب آپ کی پہچان زیادہ نمایاں نہیں تھی، تاہم آپ نے اپنی صلاحیتوں اور محنت کے بل بوتے پر نہ صرف اپنی شناخت قائم کی اور نام پیدا کیا، بلکہ اپنے والدِ بزرگوار کی شعری و ادبی ساکھ کو بھی برقرار رکھا۔


پاکستان ملٹری اکاؤنٹس کا شمار پاکستان کے اہم اور بڑے اداروں میں ہوتا ہے۔


پاکستان ملٹری اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ (PMAD) وزارتِ دفاع کا ایک اہم ذیلی ادارہ ہے، جس کی تاریخ برطانوی دورِ حکومت سے شروع ہوتی ہے۔ اگست ۱۹۴۷ء میں پاکستان کے قیام کے بعد اس ادارے کو باضابطہ طور پر پاکستان ملٹری اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ (PMAD) کی شکل دی گئی۔ یہ ادارہ تینوں مسلح افواج، یعنی پاک فوج، پاک بحریہ اور پاک فضائیہ، دفاعی پیداواری اداروں اور انٹر سروسز آرگنائزیشنز کو تنخواہوں، پنشن اور دیگر مالی امور کی ادائیگی، ریکارڈ کی دیکھ بھال اور مالی مشاورت جیسی خدمات فراہم کرتا ہے۔


یہ ادارہ قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی وجود میں آیا۔ محمد نوید مرزا کی ادبی خدمات کے اعتراف میں اگر انہیں ’’فخرِ پاکستان ملٹری اکاؤنٹس‘‘ کا لقب دیا جائے تو یہ ہرگز مبالغہ نہ ہوگا۔


اس ادارے سے اردو زبان کے کئی شعراء، ادیب اور مصنفین وابستہ رہے ہیں، جنہوں نے دنیائے شعر و ادب میں بڑا نام پیدا کیا۔ انہی اہلِ قلم میں محمد نوید مرزا بھی شامل ہیں، جنہوں نے شعری و نثری، دونوں اصناف میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے ہیں۔


آپ بنیادی طور پر اردو غزل کے شاعر ہیں۔ آپ کی شاعری میں عام انسانی مسائل و مصائب کا کرب نمایاں ہے۔ آپ نے اپنی شاعری میں عوامی سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح تک کے موضوعات کو منفرد انداز میں پیش کیا ہے۔ آپ کی شاعری میں سہلِ ممتنع کا عنصر آپ کو عوام و خواص میں ممتاز کرتا ہے۔ آپ کے اشعار جہاں بحور و اوزان کے پیمانے پر متوازن نظر آتے ہیں، وہیں انسانی جذبات و احساسات کی ترجمانی بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔


پاکستان ملٹری اکاؤنٹس نے کئی مشہور، نامور اور معروف اہلِ قلم پیدا کیے ہیں، جن میں سے چند کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ اس حوالے سے محمد نوید مرزا اپنے کالم ’’روبرو‘‘ میں لکھتے ہیں:


’’عبدالحمید عدم اس محکمے کا حصہ رہے ہیں۔ بعد ازاں جناب بشیر رحمانی، جناب علامہ بشیر رزمی، جناب طارب جمالی، جناب یونس نشاط صدیقی، جناب الیاس شاداں، جناب ڈاکٹر وحید احمد، جناب محمد اظہار الحق، جناب مبارک شاہ، جناب سرور انبالوی، جناب احمد ہاشمی، جناب شکیل جاذب، جناب اشرف سلیم، جناب جہانگیر عمران، جناب ابوذر، جناب امجد علی، جناب ندیم اختر غزالی، جناب عمار یاسر مگسی، جناب علی سانول، جناب فانی عرفان، جناب جاوید اقبال سینئر، جناب عبدالرشید بٹالوی، جناب منیر منتظر، جناب عمار یاسر مگسی اور جناب جاوید اقبال جونیئر بھی اس محکمے سے وابستہ رہے۔‘‘


(محمد نوید مرزا کے کالم ’’روبرو‘‘ سے اقتباس)


بلاشبہ، محمد نوید مرزا صاحب عصرِ حاضر کے نمایاں اور ممتاز ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ نے غزل، نظم، کہانی، ناول، کالم اور تنقید کے میدان میں قابلِ ذکر تخلیقات پیش کی ہیں۔ آپ کی چالیس کے لگ بھگ کتب کی اشاعت اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ آپ ایک سنجیدہ اور پیشہ ور لکھاری ہیں۔


محمد نوید مرزا ادارے سے وابستہ شعراء کی ایک فہرست مرتب کر رہے ہیں، جس میں سینئر شعراء کے ساتھ ساتھ نئے لکھنے والوں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ اس فہرست کو جلد ایک کتاب کی شکل دے کر شائع کیا جائے گا۔ اس ادبی کاوش کا مقصد ادارے سے وابستہ شعراء کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور ان کے نام و کام کو زندہ رکھنا ہے۔


محمد نوید مرزا کی یہ تصنیفی کاوش اپنے ادارے سے وابستہ شعراء و مصنفین سے ان کی محبت اور ان کے فن کے اعتراف کا منہ بولتا ثبوت ہے۔