جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خادمۃ القرآن - ’’ہماری بے جی‘' ،تحریر: حافظ ثاقب کشمیری

نقطہ نظر

اگر کسی سے پوچھا جائے کہ ایک صدی کیا ہوتی ہے؟ تو تاریخ دان کہے گا کہ سو سال کا عرصہ۔ کوئی کہے گا کہ سو سال میں حکومتیں بدل جاتی ہیں، نسلیں بدل جاتی ہیں، نقشے بدل جاتے ہیں۔ لیکن ’’ہماری بے جی‘‘ سے اگر یہی سوال پوچھا جاتا تو وہ مسکرا کر کہتیں کہ ایک صدی ’’ایک ہی چٹائی پر بیٹھ کر قرآن پڑھانے کا نام ہے‘‘۔


یہ کوئی کہانی نہیں، یہ ہمارے گاؤں واہگہ کی سو سالہ زندہ تاریخ ہے۔ ’’ہماری بے جی‘‘ نے پورے سو سال قرآن مجید کی خدمت کی ہے۔ اس بابرکت اور عظیم خدمت کی شروعات اٹھارہ سو نوے سے ہوتی ہے۔ اٹھارہ سو نوے، جب نہ بجلی تھی، نہ سڑکیں تھیں، نہ کوئی مدرسہ تھا۔ گاؤں میں صرف کچے مکان تھے۔ اس وقت سے لے کر آج تک ایک ہی چراغ جلتا رہا۔


اس چراغ کے پیچھے ایک شوہر کی دعا تھی۔ ہمارے نانا ابو اس گاؤں کے ایک بیوپاری تھے۔ وہ خود قرآن پڑھے ہوئے نہیں تھے۔ ایک دن انہوں نے دل میں درد محسوس کیا۔ انہوں نے اپنی بیوی، یعنی ’’ہماری بے جی‘‘ کو بلایا اور کہا ’’ہمارے گاؤں واہگہ میں کوئی قرآن مجید پڑھا ہوا نہیں، کوئی بچہ قرآن نہیں جانتا، لیکن تم پڑھی ہوئی ہو تو یہ ذمہ داری سنبھالو‘‘۔ یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا، یہ ایک شوہر کا اپنی بیوی پر اعتماد تھا، ایک امانت تھی۔ ’’ہماری بے جی‘‘ نے سر جھکا کر کہا ’’جی، میں سنبھالوں گی‘‘۔ اس ایک ’’جی‘‘ نے سو سال کی تاریخ بنا دی۔


پھر وہی ہوا۔ ’’ہماری بے جی‘‘ نے گھر کے صحن میں ایک چٹائی بچھائی۔ اور اسی چٹائی پر بیٹھ کر قرآن پڑھانا شروع کر دیا۔ تین تین نسلیں اسی ایک ہی چٹائی پر قرآن پڑھ کر نکلی ہیں۔ یقین کریں، دادا نے اسی چٹائی پر قاعدہ پڑھا، پھر بیس سال بعد اسی دادا کا بیٹا اسی چٹائی پر بیٹھ کر قرآن ختم کر رہا ہے اور پڑھانے والی وہی ’’ہماری بے جی‘‘ ہیں۔ پھر اس کے بیس سال بعد اس بیٹے کا بیٹا یعنی پوتا اسی چٹائی پر الف پڑھ رہا ہے۔ اور سب سے حیران کن بات کہ اسی چٹائی پر اس کی بہو نے بھی قرآن پڑھا۔ یعنی ایک ہی چٹائی پر ساس بھی شاگرد، بہو بھی شاگرد، دادا بھی شاگرد اور پوتا بھی شاگرد۔ ایک چٹائی نے تین نسلوں کو جوڑے رکھا۔


وہ دور اخلاص کا دور تھا۔ آج ہم استاد کو تنخواہ پر تولتے ہیں۔ اس دور میں استاد کی دعا کو برکت سمجھا جاتا تھا۔ ہمارے گاؤں کے بڑے آج بھی قسم کھا کر بتاتے ہیں کہ شاگردوں اور کسانوں میں یہ بات مشہور تھی کہ ’’ہماری بے جی اگر ہمارے کھیت سے گزر جائے تو ہمارا کھیت ہرا بھرا ہو جاتا ہے‘‘۔ وہ سمجھتے تھے کہ جس سینے میں ساٹھ ستر سال سے قرآن ہے، اس کے قدم جہاں پڑیں گے وہاں برکت تو آئے گی۔ یہ قرآن کی محبت تھی۔


اور اسی اخلاص کا سب سے بڑا پھل یہ نکلا کہ ایک ہندو خاتون ان کی خدمت سے متاثر ہو کر مسلمان ہو گئی۔ وہ خاتون روز دیکھتی تھی کہ ’’ہماری بے جی‘‘ صبح سے شام تک بغیر کسی لالچ، بغیر کسی تنخواہ کے بچوں کو قرآن پڑھا رہی ہیں۔ دنیا کا کوئی بدلہ نہیں مانگتیں۔ ایک دن اس نے پوچھا کہ تمہیں اس سے کیا ملتا ہے؟ تو ’’ہماری بے جی‘‘ نے کہا ’’مجھے میرا اللہ دے گا، مجھے صرف اللہ کی رضا چاہیے‘‘۔ اس ہندو خاتون کے دل پر یہ بات لگی اور کہنے لگی کہ ’’جس کتاب کی خادمہ اتنی سچی ہے، وہ کتاب خود کتنی سچی ہوگی‘‘ اور اس نے کلمہ پڑھ لیا۔ ایک عورت کے اخلاص سے ایک گھر کو ہدایت مل گئی۔


سو سال تک روزانہ بچوں کو الف، ب، ت سکھانا آسان نہیں۔ سردی، گرمی، بارش، بیماری، ہر حال میں چٹائی بچھتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم کہتے ہیں کہ اس دور میں عزت کا معیار ڈگری نہیں، قرآن تھا۔


اور پھر وہ آخری دن آیا۔ وہ منظر آج بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ جس دن ’’ہماری بے جی‘‘ آخری سانسیں لے رہی تھیں، کمزوری کی انتہا تھی، زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی، اس وقت بھی بیس بچے ہاتھوں میں سپارے لیے ان کے قریب منتظر تھے کہ ’’ہماری بے جی‘‘ ہوش میں آئیں تو ہم انہیں سبق سنائیں گے۔ ایک طرف موت کا فرشتہ اور دوسری طرف قرآن کے طالب۔ ’’ہماری بے جی‘‘ نے آنکھ کھولی، بچوں کو دیکھا، مسکرائیں اور ان کے لبوں سے آخری الفاظ نکلے ’’اللہ حافظ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘۔ زندگی کا آغاز ’’ذمہ داری سنبھالو‘‘ سے ہوا اور اختتام کلمہ طیبہ پر ہوا۔


لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ ابھی بھی ان کا فیض جاری ہے۔


’’ہماری بے جی‘‘ کا فیض صرف ہمارے گاؤں واہگہ تک محدود نہیں رہا۔ یہ فیض اب ملک پاکستان کے طول و بلد میں پھیل چکا ہے۔ ان سے پڑھنے والے بچے بڑے ہوئے۔ کسی نے گوجرانوالہ میں کاروبار شروع کیا، کوئی روزگار کے لیے ادھر چلا گیا، کچھ خاندان ہجرت کر کے چلے گئے تھے۔


آج ان کے شاگردوں میں سے کئی خاندان گوجرانوالہ میں آباد ہیں۔ وہاں وہ اپنے بچوں کو اور محلے کے بچوں کو وہی قرآن پڑھا رہے ہیں جو انہوں نے واہگہ کی چٹائی پر ’’ہماری بے جی‘‘ سے پڑھا تھا۔


اسی طرح کچھ خاندان جو یہاں سے ہجرت کر کے گئے تھے، وہ اب واپس وادی سوات جا چکے ہیں۔ وادی سوات کی خوبصورت وادیوں میں، آج بھی ان گھروں سے قرآن کی آواز آتی ہے۔ وہاں بھی وہی روشنی روشن ہے جو واہگہ سے نکلی تھی۔


سوچیے، واہگہ کی ایک چھوٹی سی چٹائی سے نکلا ہوا نور، آج گوجرانوالہ کے محلوں سے لے کر وادی سوات کی پہاڑیوں تک پھیل چکا ہے۔ نانا ابو نے کہا تھا ایک گاؤں کی ذمہ داری سنبھالو، اللہ نے اس ذمہ داری کے فیض کو پورے ملک میں پھیلا دیا۔ یہی صدقہ جاریہ ہے۔