جمعرات، 5 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا تعارف، مہوش اختر

نقطہ نظر

ابھی تو میں طفل مکتب ہو، یوں سمجھ لیجئے کہ حرف سے حرف ملانا نہیں آتا، اور لفظ سے لفظ جدا کرتی ہوں۔ مگر میں نے اپنی اس خامی، اس تلاش، اس کوشش کو کمزوری نہیں، اپنی پہچان بنا لیا ہے۔ سیکھنے کی اس راہ میں ہر روز ایک نیا حرف مجھ سے جڑتا ہے اور ہر نیا لفظ مجھے آگے بڑھنا سکھاتا ہے۔

یہ بے نام سا، بے نشان سا تعارف ہے میرا، نام مہوش اختر ہے، تعلق سیالکوٹ سے ہے۔ میں بی ایس اردو کے پہلے سمسٹر کی طالبہ ہوں اور اسی کے ساتھ قرآن پاک کا ترجمہ و تفسیر، درس نظامی (عالمہ کورس) عالیہ سال اول اور تجوید القرآن کی طالبہ بھی ہوں، اس کے ساتھ ہی اور بھی مختلف شارٹ دینی و دنیاوی کورسز زیر تعلیم ہیں۔ قلم اور کتابوں سے تعلق میرے بچپن کی عطا ہے، یہی شوق آگے بڑھ کر میرے ادبی سفر کی بنیاد بنا۔ وقت کے ساتھ پڑھنے کا ذوق لکھنے کی طرف مڑ گیا اور لفظ میری شناخت اور میرا سرمایہ بن گئے۔ میں شاعری، افسانہ، کہانی، کالم، مضمون اور منظر نگاری کے ذریعے احساسات، انسانی رویوں اور معاشرتی حقیقتوں کو قلم کی روشنائی میں ڈھالتی ہوں۔ میری تخلیقات مختلف انتھالوجی جن میں خواہشوں کے درمیان، جستجو حرف، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، فریب حیات اور سکوت حیات شامل ہیں جبکہ میری تحریریں متعدد مشہور مجلات و اخبارات جیسے صنف آہن ڈائجسٹ، نوائے قلب، ارمغان سحر، گوہر نایاب، امید سحر، نوائے قلب، سرائے سخن انٹرنیشنل، بدست، ادب کی دنیا، ماہنامہ میرا پاکستان، روزنامہ راہ نما، ندائے وطن، گریٹ پاکستان، صدائے وطن، میرا پاکستان، داستان پبلشر، پہچان پاکستان، اخبار نیوز، روز نامہ سیاچن، روز نامہ آذاد ریاست، روز نامہ طاقت، روزنامہ پولیس، روز نامہ صدائے ہمالیہ، روزنامہ قائد، بھکر ٹائمر، آغاز صحافت، آواز خلق، نوائے خبریں، نوائے وقت، سچ بات، روز نامہ جنگ آذادی،ایکسپریس، دنیا نیوز اور روہی وغیرہ وغیرہ ان میں بھی شائع ہوتی رہی ہیں۔ اس کے علاؤہ مختلف ویب سائٹس پر بھی متعدد تحاریر شائع ہو چکی ہیں۔

ادبی و تنظیمی میدان میں بھی میں متحرک کردار ادا کر رہی ہوں۔ پنجابی ادبی تنظیم "چاننی" (ساہیوال) میں نائب صدر شعبہ خواتین و گرافکس انچارج، دارالادب اکیڈمی میں بھی نائب صدر، بزم فہم پاکستان، ماہنامہ محفل سخن میگزین اور امید سحر میگزین میں بطور انچارج اپنی خدمات سر انجام دی ہیں اس کے ساتھ ہی میں معراج قلم (صنف نازک کی آواز) ادارے کی صدر ہو، اس علاؤہ میں اپنے اک اسلامی ناول پر کام کررہی ہو، ابھی حال ہی میں بطور مرتبین میں اپنی ایک کتاب 'نقاب نور " پر کام کیا ہے جس نے آتے ہیں دنیا ادب میں اپنا نام بنایا کیا ہے جس کی اشاعت کی خبریں دنیا بھر کے اخبارات اور ٹی وی کی سرخیوں میں رہی ہیں۔

میں چند اداروں میں بطور گرافکس ڈیزائننر بھی کام ہوا ہے کیوں کہ گرافکس ڈیزائننگ میری دیگر مہارتوں میں شامل ہے، جبکہ اسلامی، اصلاحی و تاریخی کتب کا مطالعہ، پینٹنگ، کوکنگ، ڈیزائننگ، سلائی کڑھائی اور تخلیقی سرگرمیوں میں حصہ لینا میرے پسندیدہ مشاغل ہیں۔ اللہ کے فضل و کرم سے میں نے مختلف قومی و آن لائن ادبی مقابلوں میں کئی پوزیشنز، سرٹیفکیٹس اور بے شمار انعامات میرے قلم کا مقدر بنے اور میری ان ادبی خدمات کے اعتراف میں مجھے اب تک کئی ایوارڈ سے نوازا جاچکا یے جن میں الوکیل رائٹر ایوارڈ، کہانی رائٹر اینڈ ڈارمہ کلب ایوارڈ اور بابا طالب جتوئی ایوارڈ قابل ذکر ہیں جو میری محنت اور لگن کا ثبوت ہیں۔

میرے نزدیک تحریر صرف ایک اظہار نہیں، یہ ایک ذمہ داری اور امانت ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ میرا قلم دلوں کے درمیان فاصلوں کو کم کرے، امید کی شمع روشن کرے اور معاشرے کے ہر اندھیرے میں روشنی بن جائے۔ میرا خواب ہے کہ میں ایک دن بہترین لکھاری بنوں، اور میرا قلم دین کی خدمت اور اردو ادب کی ترقی کا ذریعہ بن سکے۔ (ان شاءاللہ عزوجل)

میرا یہ سفر ہمیشہ جاری رہے گا کیونکہ میں سیکھنے، سمجھنے اور آگے بڑھنے کے ہر مرحلے کو اپنی ادبی تربیت کا حصہ سمجھتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ میرا قلم نہ صرف پڑھا جائے بلکہ محسوس بھی کیا جائے۔ میرے نزدیک ادب وہ آئینہ ہے جس میں معاشرہ اپنا عکس دیکھ سکتا ہے، اور میں اس آئینے کو مزید صاف و شفاف، روشن اور مؤثر بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہوں۔ میری خواہش ہے کہ آنے والے وقت میں میری تحریریں قارئین کے دلوں تک اسی طرح پہنچیں جس طرح ایک دعا آسمان تک جاتی ہے، خلوص سے، خاموشی سے، قبولیت کی امید کے ساتھ۔ مجھے یقین ہے کہ اگر نیت سچی ہو اور محنت مسلسل، تو اللہ راستے خود روشن کر دیتا ہے۔ یہی یقین میرے قلم کی طاقت ہے، یہی میری پہچان ہے