سب کے تعارف پڑھے، بہت اچھا لگا۔ لوگوں کی کہانیاں جاننا، ان کی کامیابیوں اور جدوجہد کے بارے میں پڑھنا ہمیشہ سے مجھے کچھ بہتر کرنے، آگے بڑھنے اور اپنی ایک پہچان بنانے کی تحریک دیتا رہا ہے۔ شاید یہی جذبہ مجھے آج باغی ٹی وی کے ادبی و تخلیقی حلقے کا حصہ بننے پر بھی آمادہ کر رہا ہے۔
ناچیز کو مریم ڈار کہتے ہیں۔ میرا تعلق گوجرانوالہ سے ہے، جہاں میری پیدائش ہوئی۔بچپن سے ہی میری شخصیت میں کچھ کرنے اور اپنی پہچان بنانے کی خواہش موجود تھی۔ اسکول کے زمانے میں ہمیشہ ایکسٹرا کریکولر ایکٹیویٹیز میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھی۔ کشمیری ہونے کے ناتے دل میں ایک ہی خواب تھا کہ بڑی ہو کر کشمیر آزاد کرواؤں گی۔ میری امی بھی اکثر کہا کرتی تھیں کہ میں بڑی ہو کر بے نظیر بنوں گی۔ ان کی نظر میں شاید میرے اندر وہ حوصلہ اور خود اعتمادی تھی جو مجھے کچھ بڑا کرنے کے لیے اکساتی تھی۔
لیکن زندگی نے اپنے راستے خود چنے، کشمیر کی آزادی اور بے نظیر بننے کے خواب تو پورے نہ ہوئے، مگر کچھ کرنے، اپنی شناخت بنانے اور اپنی بات لوگوں تک پہنچانے کی خواہش کہیں نہ کہیں میرے اندر زندہ رہی۔ شاید آج وہی خواہش قلم کے ذریعے اپنا راستہ تلاش کر رہی ہے۔اور کبھی کبھی سوچتی ہوں، امی کی پیش گوئی بالکل غلط بھی تو نہیں تھی، بس میرا راستہ بدل گیا ! گریجویشن کے بعد کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور آئی اور پھر یہیں شادی ہو گئی۔ شادی کے بعد دبئی منتقل ہو گئی،
دبئی میں قیام میرے لیے محض ایک ملک میں رہنے کا تجربہ نہیں تھا بلکہ مجھے ایک نئی دنیا سے متعارف ہونے کا موقع بھی تھا۔ وہاں عرب، انڈین، امریکی، فلپائنی، مصری، افریقی، ملائیشین، انڈونیشین، بنگالی اور نہ جانے کتنی قومیتوں کے لوگوں کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ ان کے رہن سہن، طرزِ زندگی، معاشرتی رویوں، خوبیوں اور خامیوں کا مشاہدہ کیا۔ امیر اور غریب کے درمیان فرق دیکھا، مختلف معاشروں کا موازنہ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ پاکستانی معاشرہ کن پہلوؤں میں دوسروں سے پیچھے ہے اور کن حوالوں سے اپنی ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔
شاید انہی تجربات اور مشاہدات نے میرے اندر کہانیوں کا ایک وسیع ذخیرہ جمع کر دیا۔ میرے ذہن میں ہمیشہ نت نئے خیالات اور کہانیوں کے خاکے بنتے رہے۔زندگی کی مصروفیات میں کچھ فرصت میسر آئی تو سوچا کہ اپنے اندر موجود اس تخلیقی صلاحیت کو بھی کوئی راستہ دینا چاہیے۔ اسی دوران فیس بک پر اجوکا تھیٹر کی جانب سے داخلوں کا اشتہار دیکھا۔ زیادہ سوچ بچار کیے بغیر اپلائی کیا اور 2024 میں داخلہ مل گیا۔ یوں میرے باقاعدہ ادبی اور ڈرامہ نگاری کے سفر کا آغاز ہوا۔میرے خاندان میں مجھ سے پہلے کسی کا تعلق ادب یا لکھنے لکھانے سے نہیں رہا، اس لیے یہ راستہ میرے لیے بالکل نیا تھا۔ البتہ زندگی کے تجربات، لوگوں کا مشاہدہ اور معاشرے کو سمجھنے کی خواہش ہمیشہ میری رہنمائی کرتی رہی۔
اب ناچیز ایک اسکرپٹ رائٹر، ناول نگار، کالم و تجزیہ نگار، اسٹوری ریڈر ہے۔ اسٹوری ریڈر اس لیے کہ مجھے اپنا اندازِ بیاں بہت پسند ہے،اجوکا تھیٹر سے اسکرپٹ اور ڈرامہ رائٹنگ میں ایڈوانس سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔اسکرپٹ **"نور آگیا ہے"لکھا ، الحمرا کے ریڈنگ اسٹیج تک پہنچا، جہاں اسے بھرپور پذیرائی ملی۔ " آتما" لکھا الحمرا میں ہی سر شاہد ندیم اور فریال گوہر سے سرٹیفیکیٹ لیا بعد ازاں جرمن کلچرل سینٹر لاہور میں کیٹرن ملہانن کی ورکشاپ کے لیے منتخب ہوئی، جہاں نیٹ فلکس کے لیے ایک تخلیقی تصور پر کام کرنے کا موقع ملا۔
"ادھورے لمس کی سرگوشیاں " انتھولوجی میں افسانے چھپے۔اخباروں کے لیئے کالمز لکھے ،بائنینس جیسے پلیٹ فارم کے لیے آرٹیکلز لکھے اور ان سے خوب انعامات بھی وصول کیے ۔آج کل باغی ٹی وی کے لیے "آج کا ڈرامہ, مجھ سے نہ بچ پائے گا" اور کرپٹو کی تازہ صورتحال کے لیے آرٹیکلز لکھ رہی ہوں.پریلیپتی پلیٹ فارم پر اپنی کہانیاں پبلش کروائی۔
میری تحریروں میں ہمارے معاشرے کے مثبت اور منفی رویے، انسانی نفسیات، رشتوں کی پیچیدگیاں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ کہانی محض تفریح نہ ہو بلکہ اپنے اندر کوئی سوال، کوئی احساس یا کوئی پیغام بھی رکھتی ہو۔
میں سمجھتی ہوں کہ لکھنے کے لیے صرف الفاظ پر دسترس کافی نہیں، زندگی کو دیکھنا، لوگوں کو سمجھنا اور ان کے رویوں کو محسوس کرنا بھی ضروری ہے۔
حال ہی میں مبشر لقمان صاحب سے ملاقات ہوئی ان سے مل کے لگا *ابھی یہ سفر شروع ہوا ہے، ابھی کئی منزلیں باقی ہیں*
مزید پڑھیں






