میرا نام اقصیٰ وحید ہے اور میں لاہور سے تعلق رکھتی ہوں۔ مجھے بچپن سے ہی لفظوں سے گہری دوستی رہی ہے۔ لکھنا، پڑھنا اور سیکھنا میری زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ میں نئی باتیں جاننے اور انہیں دوسروں تک پہنچانے میں خوشی محسوس کرتی ہوں۔ میرا مقصد یہ ہے کہ اپنی تعلیم اور محنت کے ذریعے ایک بہتر انسان بنوں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکوں۔
میں فی الوقت انڈرگریجویٹ طالبہ ہوں اور بی ایس زوالوجی کی تعلیم حاصل کر رہی ہوں۔ علم کی پیاس اور سیکھنے کا شوق میری شخصیت کا نمایاں پہلو ہےـ
میں بچپن سے لکھتی تو ضرور تھی اور اپنی تحریروں کو محفوظ کر لیتی تھی لیکن میرے ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز پچھلے سال سے ہوا۔ اس وقت سے میں نے مسلسل اور باقاعدگی سے لکھنا شروع کیا اور اپنی تحریروں کو مختلف پلیٹ فارمز پر شائع کروانا بھی شروع کر دیا۔
پچھلے سال سے اب تک میں نے مختلف اخبارات میں اپنی تحریریں شائع کروائی ہیں
متعدد ادبی مقابلوں میں حصہ لیا ہےـ مختلف مقابلوں میں اعلیٰ پوزیشنز حاصل کی ہیں۔ انعامات سے بھی نوازی گئی ہوں۔
یہ ابتدائی کامیابیاں میرے لیے بے حد حوصلہ افزا ہیں اور مجھے مزید محنت کرنے کی تحریک دیتی ہیں۔
میں نے اللہ کے فضل سے چار انتھالوجی کتابوں میں اپنی تحاریر شامل کروائی ہیں، جو اشاعت کے مراحل میں ہیں:
1. خواب آنکھیں
2. میرے قلم کی دھنک
3. اردو زبان کی جنگ
4. سرگزشتہ سکوت
5۔ صحرا میں پھول
6۔ میری زندگی کا ہیرو
7۔ اللّہ کے نام خط
8۔ نامکمل داستان
9۔ انت الحیات
اس کے علاوہ ایک مزید انتھالوجی میں میری تحریر قابلِ اشاعت قرار پائی ہے اور ان شاء اللہ جلد کتابی صورت میں شائع ہو جائے گی۔
میں متعدد معروف ادبی گروپس، فورمز اور میگزینز کی فعال رکن ہوں۔ ان پلیٹ فارمز پر باقاعدگی سے مقابلہ جات منعقد ہوتے رہتے ہیں، جن میں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہوں اور اکثر اعلیٰ پوزیشنز حاصل کرتی رہتی ہوں۔
سرائے سخن انٹرنیشنل، گریٹ پاکستان، ارمغانِ سحر، تجلی رائٹر ہب، میرا پاکستان، رہنما، ایف جی اکیڈمی، اسکلز سیو اکیڈمی، بزمِ فہم، دارالادب، لکھت لکھاری گروپ، دشتِ آرزو میگزین، سخن آباد، ادب دنیا رائٹر کلب، کاروانِ قلم رائٹر فورم پاکستان، خواب نگر اور وجودِ مسلم انٹرنیشنل میگزین
ان تمام پلیٹ فارمز پر مسلسل مقابلہ جات کا انعقاد ہوتا رہتا ہے۔ میں ان مقابلوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتی ہوں اور اپنی محنت اور لگن کی بدولت مختلف پوزیشنز اور انعامات حاصل کرتی رہتی ہوں۔ یہ کامیابیاں میرے ادبی سفر کا قیمتی حصہ ہیں اور مجھے مزید بہتر لکھنے کی ترغیب دیتی رہتی ہیں۔
اگرچہ میرے ادبی سفر کو ابھی ایک سال ہی ہوا ہے، لیکن میں اسے مسلسل آگے بڑھانا چاہتی ہوں۔ میں اپنی تحریروں کے ذریعے لوگوں کے دلوں تک پہنچنا چاہتی ہوں۔ میرا خواب ہے کہ میں اپنی تخلیقات سے معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکوں اور اردو ادب کی خدمت کرتی رہوں۔ اپنی تعلیم اور تحریر، دونوں میدانوں میں کامیابی حاصل کرنا میرا مقصد ہے۔
اقصیٰ وحید
مصنفہ و شاعرہ
طالبہ بی ایس زوالوجی، لاہور
مزید پڑھیں






