جمعرات، 5 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا تعارف،ساجدہ عارف

نقطہ نظر

ساجدہ عارف کا تعلق پاکستان کے شہر بھکر سے ہے۔ انہوں نے اُردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ ادب سے ان کی وابستگی کسی عارضی شوق یا وقتی دلچسپی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے نقوش ان کی شخصیت میں بچپن ہی سے موجود ہیں۔ کم عمری سے ہی مطالعے اور تحریر سے شغف رکھنے والی ساجدہ عارف نے وقت کے ساتھ اپنے اس ذوق کو ایک سنجیدہ تخلیقی سرگرمی میں تبدیل کیا۔ لفظوں سے ان کا رشتہ محض اظہار کی خواہش تک محدود نہیں رہا بلکہ مطالعے، مشاہدے، تجربے اور احساس کی مسلسل تربیت کے ذریعے ان کے ادبی شعور نے بتدریج ارتقائی مراحل طے کیے۔


ان کی تخلیقی دلچسپیوں کا بنیادی میدان نثر ہے۔ انہوں نے اپنی ادبی شناخت بالخصوص نثری ادب کے حوالے سے قائم کی ہے۔ نثری نظم ان کے اظہار کا ایک اہم وسیلہ ہے، تاہم ان کی تخلیقی جہتیں صرف نثری نظم تک محدود نہیں۔ وہ ادبی مضامین، افسانے، افسانچے اور کہانیاں بھی تحریر کرتی ہیں۔ ان کی تحریروں میں انسانی نفسیات، معاشرتی رویّوں، رشتوں کی پیچیدگیوں، احساسات کی نزاکتوں اور زندگی کے مختلف تجربات کو موضوع بنایا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک ادب محض خوب صورت الفاظ اور دل کش جملوں کی ترتیب کا نام نہیں بلکہ زندگی کو اس کی تمام تر پیچیدگیوں، تضادات اور معنویت کے ساتھ سمجھنے اور بیان کرنے کا ایک تخلیقی عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نثر کے مختلف پیرایوں میں اپنے خیالات اور احساسات کو پیش کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔


ادبی تخلیق کے ساتھ ساتھ ساجدہ عارف کو صحافت، ادارتی امور اور اشاعتی شعبے میں بھی خاصا عملی تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے مختلف اخباری صفحات کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور صحافتی میدان کے متعدد شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ خواتین کے صفحے پر انہوں نے بطور انچارج خدمات انجام دیں۔ اس ذمہ داری کے دوران خواتین سے متعلق موضوعات، ان کے مسائل، سماجی حیثیت، حقوق، صلاحیتوں اور معاشرتی کردار سے متعلق مواد کی ترتیب و تدوین اور صفحے کی مجموعی پیش کش جیسے امور سے وابستہ رہیں۔ خواتین کے موضوعات کو مناسب جگہ اور مؤثر انداز میں قارئین تک پہنچانے کا تجربہ ان کی صحافتی وابستگی کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔


اسی طرح انہیں انٹرویو کے صفحے پر کام کرنے کا بھی تجربہ حاصل ہے۔ اس شعبے میں ان کی دلچسپی بالخصوص اہلِ قلم، معروف ادبی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے انٹرویوز کے حوالے سے رہی۔ کسی شخصیت کے فکری پس منظر، تخلیقی سفر، تجربات، نظریات اور ادبی خدمات کو سوالات کے ذریعے اجاگر کرنا ایک خاص صلاحیت کا متقاضی ہوتا ہے۔ اس کام میں شخصیت کے مزاج اور موضوع کی مناسبت سے سوالات کی ترتیب، گفتگو کے اہم نکات کا انتخاب اور انٹرویو کو ایک مربوط تحریری صورت میں پیش کرنے جیسے مراحل شامل ہوتے ہیں، جن سے انہیں عملی طور پر کام کرنے کا موقع ملا۔


بچوں کے صفحے کے لیے بھی وہ اپنی خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔ اس شعبے میں بچوں کی ذہنی سطح، دلچسپیوں اور فہم کو مدنظر رکھتے ہوئے تحریری مواد کی ترتیب، انتخاب اور پیش کش کے مختلف پہلوؤں سے واقفیت حاصل کی۔ بچوں کے لیے تحریر اور مواد کی تیاری ایک الگ نوعیت کا کام ہے، جس میں زبان کی سادگی، موضوع کی دلچسپی، تربیتی پہلو اور تخلیقی انداز کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ اس تجربے نے انہیں ادب اور صحافت کے ایک ایسے شعبے سے متعارف کرایا جہاں تخلیقی صلاحیت کے ساتھ ساتھ عمر اور ذہنی سطح کی مناسبت سے اظہار کی اہمیت بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔


ادارتی شعبے میں بھی ان کا تجربہ قابلِ ذکر ہے۔ انہوں نے تقریباً دو سے تین سال تک ادارتی صفحے کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ اس دوران تحریروں کی ترتیب، مواد کی مناسبت، زبان و بیان کی درستی، موضوعات کے انتخاب اور صفحے کی مجموعی ترتیب جیسے امور سے وابستہ رہیں۔ کسی بھی ادارتی صفحے کی تیاری محض مواد جمع کرنے کا نام نہیں بلکہ اس کے لیے تحریری معیار، موضوعاتی ربط، زبان کی صحت اور اشاعت کے تقاضوں کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ اس شعبے میں کام کرنے سے انہیں تحریروں کو ایک بہتر اور مربوط صورت میں پیش کرنے کا عملی تجربہ حاصل ہوا۔


پروف ریڈنگ کے شعبے میں بھی انہوں نے تقریباً تین سے چار سال تک کام کیا۔ اس دوران تحریروں کی املا، قواعد، جملوں کی ساخت، رموزِ اوقاف اور زبان و بیان کی اغلاط کی اصلاح جیسے امور پر کام کرتی رہیں۔ پروف ریڈنگ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں زبان پر عبور، باریک بینی، توجہ اور تحریر کے مجموعی مفہوم کو سمجھنے کی صلاحیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اس طویل عملی تجربے نے ان کی لسانی و تحریری صلاحیتوں کو مزید نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ انہیں سوشل میڈیا ایڈمنسٹریشن کے شعبے میں بھی کام کرنے کا تجربہ حاصل ہے، جہاں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے انتظامی امور اور سوشل میڈیا سے متعلق سرگرمیوں کے ساتھ وابستگی رہی ہے۔


تنظیمی اور ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی ساجدہ عارف متحرک کردار ادا کر رہی ہیں۔ وہ گزشتہ پانچ برس سے ادبی تنظیم "روز نامہ طالبِ نظر رائٹرز فورم"سے وابستہ ہیں اور اس وقت بطور چیئرپرسن اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔ اس منصب کے ذریعے ادبی سرگرمیوں، تنظیمی امور اور تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ سے متعلق مختلف ذمہ داریوں میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ ادبی تنظیم سے طویل وابستگی ان کے ادب سے عملی تعلق اور ادبی سرگرمیوں میں دلچسپی کی عکاس ہے۔ ان کے نزدیک ادبی پلیٹ فارمز کی اہمیت صرف تخلیقات کی اشاعت یا تعارف تک محدود نہیں بلکہ یہ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی، اہلِ قلم کے درمیان رابطے اور مثبت ادبی مکالمے کے فروغ کا بھی ذریعہ ہوتے ہیں۔


ادبی حلقوں میں ان کی سرگرم شرکت کے باعث انہیں مختلف ادبی تنظیموں اور فورمز کی جانب سے بطور مہمانِ خصوصی (Chief Guest) بھی مدعو کیا جاتا رہا ہے۔ وہ ان تقریبات میں شرکت کے ساتھ اپنے ادبی و فکری خیالات کا اظہار بھی کرتی ہیں۔ مختلف ادبی پلیٹ فارمز پر بحیثیت مہمانِ خصوصی اظہارِ خیال کے مواقع ان کی ادبی وابستگی، فکری دلچسپی اور اہلِ قلم کے درمیان ان کے فعال کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔


اپنے ادبی و تخلیقی سفر کے دوران وہ مختلف ادبی مقابلوں میں حصہ لیتی رہی ہیں اور متعدد مواقع پر نمایاں کامیابیاں حاصل کر چکی ہیں۔ ان کی تخلیقی اور تنظیمی سرگرمیوں کے اعتراف میں انہیں مختلف اعزازی اسناد، تعریفی اسناد اور شیلڈز سے نوازا گیا۔ ان اعزازات میں حسنِ کارکردگی، بہترین مصنفہ (Best Writer) اور بہترین ٹیم مینجمنٹ (Best Team Management) کے اعزازات بھی شامل ہیں۔ یہ اعزازات ان کی تحریری صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ تنظیمی وابستگی، ذمہ داریوں کی ادائیگی اور اجتماعی کام میں دلچسپی کا اعتراف بھی ہیں۔


ساجدہ عارف کا مجموعی ادبی و صحافتی سفر تخلیقی اظہار، عملی تجربے، تنظیمی وابستگی اور مسلسل سیکھنے کے عمل سے عبارت ہے۔ نثری ادب سے گہری دلچسپی، صحافتی و ادارتی شعبوں میں مختلف ذمہ داریوں کا تجربہ اور ادبی سرگرمیوں میں فعال کردار ان کی شخصیت کے نمایاں پہلو ہیں۔ وہ ادب کو محض اپنی ذات کے اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ فکر و احساس کی ترسیل، انسانی رویّوں کے مطالعے اور معاشرتی شعور کی بیداری کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھتی ہیں۔ ان کا تخلیقی سفر اسی جستجو کے ساتھ جاری ہے کہ لفظوں کے ذریعے زندگی کے ان گوشوں کو بھی بیان کیا جا سکے جو اکثر خاموش رہتے ہیں، مگر اپنے اندر ایک پوری کہانی رکھتے ہیں۔