میرا نام شہزاد خان ہے اور میرا تعلق صادق آباد، ضلع رحیم یار خان، پنجاب سے ہے۔ میں ایک ایسے شخص کے طور پر اپنی شناخت رکھتا ہوں جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ادب، تخلیق اور فنونِ لطیفہ سے بھی گہری دلچسپی رکھتا ہے۔ ملازمت میری عملی زندگی کا اہم حصہ ہے، لیکن ادب میری شخصیت کا وہ خوبصورت حوالہ ہے جس سے میرا قلبی اور تخلیقی تعلق ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ زندگی صرف روزمرہ کی مصروفیات اور ذمہ داریوں کا نام نہیں بلکہ اپنے اندر چھپی صلاحیتوں کو دریافت کرنے، انہیں نکھارنے اور اپنے فن کے ذریعے دوسروں تک پہنچانے کا نام بھی ہے۔
میں بنیادی طور پر ہارر فکشن رائٹر ہوں اور اردو ادب میں خوف، دہشت، سسپنس اور پراسراریت پر مبنی کہانیاں لکھنا میری خصوصی دلچسپی ہے۔ میرے تخیل کی دنیا میں ویران حویلیاں، سنسان جنگلات، پراسرار قبرستان، قدیم کھنڈرات، تاریک راستے، آسیب زدہ مقامات، چڑیلیں، بھوت، جنات اور مافوق الفطرت مخلوقات جیسے موضوعات خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ مجھے سفلی علوم، کالا جادو، پراسرار عملیات، انسانی نفسیات، نامعلوم قوتوں اور ان دیکھے جہانوں سے متعلق موضوعات کو کہانی کا حصہ بنانا پسند ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ ہر کہانی میں خوف کے ساتھ تجسس، واقعات کی مضبوط ترتیب، کرداروں کی نفسیاتی کیفیت اور سسپنس کی ایسی فضا قائم ہو جو قاری کو آخری سطر تک اپنے سحر میں جکڑے رکھے۔ میری تحریرکردہ شائع شدہ کہانیوں کے چھ مجموعے پبلش ہوچکے ہیں۔ اورابھی مزیدپندرہ مجموعے بھی ان شاء اللہ بہت جلد پبلش ہوجائیں گے۔
میرے نزدیک ہارر فکشن محض ڈرانے یا خوفزدہ کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ انسانی ذہن، اس کے وسوسوں، نامعلوم خدشات اور تخیل کی پوشیدہ دنیا کو الفاظ میں ڈھالنے کا ایک منفرد فن ہے۔ میں اپنی تحریروں میں روایتی انداز سے ہٹ کر نئے موضوعات، منفرد پلاٹ، غیر متوقع موڑ اور چونکا دینے والے اختتام کو اہمیت دیتا ہوں۔ میری خواہش ہوتی ہے کہ قارئین جب میری کوئی کہانی پڑھیں تو وہ خود کو اس کے واقعات کا حصہ محسوس کریں اور کہانی ختم ہونے کے بعد بھی اس کے کردار اور واقعات ان کے ذہنوں میں دیر تک زندہ رہیں۔
ہارر فکشن کے علاوہ مجھے ایڈونچر، جاسوسی، سائنسی فکشن، خلائی مخلوقات، مستقبل کی دنیا، مصنوعی ذہانت، معاشرتی مسائل اور اصلاحی موضوعات پر لکھنے میں بھی دلچسپی ہے۔ میں بچوں کے ادب کو بھی خصوصی اہمیت دیتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ بچوں کے لیے لکھی جانے والی کہانیاں محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ان کی ذہنی، اخلاقی اور تخلیقی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اسی لیے میری کوشش رہتی ہے کہ موضوع کی مناسبت سے تحریر میں دلچسپی، معلومات، مثبت پیغام اور تخلیقی انداز کو یکجا کیا جائے۔
میری تحریریں مختلف ادبی و ڈائجسٹ رسائل میں شائع ہو چکی ہیں، جن میں ماہنامہ ڈر ڈائجسٹ کراچی، ماہنامہ نئے افق ڈائجسٹ کراچی، سہ ماہی بچوں کا پرستان لاہور اور سہ ماہی قلم کہانیاں لاہور شامل ہیں۔ ان رسائل سے وابستگی میرے ادبی سفر کا ایک اہم سرمایہ ہے۔ ڈر ڈائجسٹ کراچی اور نئے افق ڈائجسٹ کراچی جیسے رسائل میں اپنی تحریروں کی اشاعت کو میں اپنے لیے حوصلہ افزائی اور اعزاز سمجھتا ہوں۔ میری شائع شدہ کہانیوں میں ادھورے جنازے، پینک اٹیک اور بارہ بجے کی ٹرین قابلِ ذکر ہیں۔ اسی طرح میرا افسانہ سوچ کے جراثیم پاکیزہ ڈائجسٹ میں بھی شائع ہو چکا ہے۔
تحریر و تصنیف کے ساتھ ساتھ مجھے گرافک ڈیزائننگ اور خصوصاً کتابوں، ناولوں اور ڈائجسٹ رسائل کے سرورق تیار کرنے سے بھی خصوصی دلچسپی ہے۔ میرے نزدیک کسی کتاب یا رسالے کا سرورق اس کی پہچان اور قاری کی توجہ حاصل کرنے کا پہلا ذریعہ ہوتا ہے۔ ایک اچھا سرورق نہ صرف تحریر کے موضوع کی عکاسی کرتا ہے بلکہ قاری کے ذہن میں کہانی کے بارے میں تجسس بھی پیدا کرتا ہے۔ اسی سوچ کے تحت میں سرورق سازی میں موضوع، رنگوں، منظر کشی، عنوان کی ترتیب اور بصری تاثر کو خصوصی اہمیت دیتا ہوں۔ مجھے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ میں سہ ماہی قلم کہانیاں لاہور کے لیے بطور آرٹ ایڈیٹر اپنی خدمات انجام دے رہا ہوں۔ بچوں کے مقبول رسالے بچوں کا پرستان سے بھی میری تخلیقی اور ادبی وابستگی رہی ہے۔
ادبی حلقوں، رائٹرز فورمز اور سوشل میڈیا پر اہلِ قلم، مدیران، مصنفین اور قارئین سے رابطہ میرے لیے خوشی کا باعث ہے۔ میں نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی، معیاری ادب کے فروغ اور مثبت ادبی سرگرمیوں کو اہم سمجھتا ہوں۔ میرے نزدیک ادب ایک ایسا خوبصورت رشتہ ہے جو مختلف سوچ رکھنے والے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔ کسی مصنف کے لیے قارئین کی محبت، مدیران کی حوصلہ افزائی اور اہلِ قلم کی پذیرائی کسی بڑے انعام سے کم نہیں ہوتی۔
میری زندگی کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ انسان کو اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ اپنے شوق اور صلاحیتوں کو بھی زندہ رکھنا چاہیے۔ ملازمت کی مصروفیات ہوں یا روزمرہ زندگی کے تقاضے، میں اپنی تخلیقی سرگرمیوں کے لیے وقت نکالنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں ابھی اپنے ادبی سفر کو ایک مسلسل ارتقائی عمل سمجھتا ہوں اور ہر نئی تحریر کے ساتھ خود کو پہلے سے بہتر بنانے کا خواہش مند ہوں۔
میری خواہش ہے کہ اردو فکشن میں ایسے موضوعات پر لکھوں جو قارئین کے لیے دلچسپی، تجسس اور حیرت کا باعث بنیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میری تحریریں صرف وقت گزاری کا ذریعہ نہ ہوں بلکہ اپنی ایک الگ پہچان، منفرد انداز اور دیرپا تاثر بھی قائم کریں۔ میری نظر میں اصل کامیابی یہی ہے کہ قاری کسی تحریر کو پڑھنے کے بعد اس کے مصنف کو یاد رکھے۔
میں شہزاد خان ہوں۔ ملازمت میری پیشہ ورانہ پہچان ہے، تحریر میری تخلیقی شناخت اور ادب سے وابستگی میری زندگی کا ایک خوبصورت حوالہ ہے۔ میرا قلم خوف و دہشت کی پراسرار دنیا سے لے کر انسانی احساسات اور معاشرتی زندگی کے مختلف رنگوں تک سفر کرتا ہے۔ میری کوشش ہے کہ یہ ادبی سفر خلوص، محنت اور تخلیقی جدت کے ساتھ جاری رہے۔






