میرا نام سعید اشرف ناز ہے۔ والدِ محترم کا نام محمد اشرف ناز (مرحوم) جو اے جی افس سے بطور سپرنٹینڈنٹ ریٹائرڈ ایک ڈیڈ آنیسٹ شخصیت تھے. دادا حضور چودھری رحیم بخش برٹش انڈین آرمی سے ریٹایرڈ تھے. اللہ کریم ان کی نیکیوں کو شرفِ قبولیت بخشے اور لغزشوں سے درگزر فرمائے۔ آمین
بنیادی طور پر ہمارا تعلق جالندھری سمراء جاٹ قبیلہ سے ہے. آباؤاجداد جالندھر سے گرے اور لائلپور ( فیصل آباد) میں اٹکے، اکثریت اب بھی وہیں قرب و جوار میں رہائش پذیر ہیں. ویسے اب نادرا آپا نے میرے سرکاری پہچان پتر پر لاہور لکھ دیا ہے، سو سرکار کی نظر میں اب میں لاہوڑی (اندروں لاہور میں "ر" کو 'ڑ" بولتے ہیں اس لئے "لاہوڑی" لکھا) بھی ہوں۔ یوں آبائی نسبت لائلپور سے، جدی پشتی تعلق جالندھر سے, جوانی زیادہ تر چائنا اور سرکاری شناخت لاہور سے ہے۔
ابتدائی تعلیم بچوں کا مدرسہ نامی ایک مڈل اسکول سے حاصل کی، جسے لائلپور کا پہلا سرکاری انگریزی اسکول ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ یہ بھی ایک دلچسپ تاریخی حقیقت ہے کہ اس زمانے میں مڈل اسکول کا امتحان بھی میٹرک کی طرح بورڈ ہی لیا کرتا تھا۔ مزید یہ کہ جسے اس وقت کچی پکی کہا جاتا تھا، آج کل اسی کو نرسری، پریپ یا کنڈرگارٹن کے نام سے پکارا جاتا ہے، وہیں سے ہی انگریزی لازمی مضمون تھا۔ گویا انگریزی سے شناسائی کا سلسلہ خاصا پرانا ہے، البتہ اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ آگے چل کر اسی زبان کے سہارے ڈیڑھ دہائی بیرونِ ملک گزارنی ہے۔
نویں دسویں جماعت کیلئے گورنمنٹ ایم سی ہائی اسکول بلمقابل میئر ہاؤس بیرون چنیوٹ بازار کوتوالی روڈ لائلپور کا انتخاب کیا. یہاں انتخاب کا لفظ اس لئے استعمال کیا کہ بزرگوار نے میری لئے گھر کے قریب ایک سرکاری سکول چنا انکے بہت سے دوست وہاں پڑھاتے تھے شاید ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ایک سائیکل لے دونگا تو خود ہی آنا جانا کر لیا کرے گا. جیسے ہی ہم نے اس اسکول میں قدم رنجہ فرمایا، ہیڈ ماسٹر صاحب سے ملاقات کے بعد ان استادِ محترم سے بھی شرفِ ملاقات حاصل ہوا جنہیں اگلے دو سال کے لیے میری جماعت کا انچارج ہونا تھا۔ انہوں نے مجھ سے سوال کیا:’’بیٹا مڈل کے امتحان میں کتنے نمبر حاصل کر لو گے؟‘‘ میں نے برجستہ جواب دیا کہ کمتی بڑھتی چھ سو.اس وقت ٹوٹل نمبر 850 ہوا کرتے تھے اور 600 نمبر کہیں بھی داخلہ لینے کیلئے خاصے معقول سمجھے جاتے تھے. یہ بات ہے 1990 کی. چھ سو کا سننا تھا کہ استادِ محترم بزرگوار سے گویا ہوئے، بچہ کہہ رہا ہے چھ سو، تو چار اک سو تو کم از کم آ ہی جائیں گے. کوئی بات نہیں آپ اسکو بھیجیں مینیج ہو جائے گا. یہ جملہ میرے لئے الیکشن رزلٹ کی رات جیسا لگا کہ میرے چھ سو نمبروں کو چار سو تک پہنچا دیا گیا تھا! جو مجھے خاصا ناگوار گزرا، کیونکہ میرا حساب بہت نپا تلا تھا اور اپنے بارے میں میرا اندازہ عموماً درست ہی نکلتا تھا۔خیر، نتیجہ آنے سے پہلے ہی کلاسز شروع ہو گئیں۔ چند روز انہوں نے استادی نبھائی اور ہم نے شاگردی۔ پھر نتیجہ آیا تو میرے نمبر تھے 616۔ لو جی! اب کیا تھا، ایک طرف وہ اسکول مجھے پہلے ہی کچھ خاص پسند نہیں تھا، دوسری طرف میرے مڈل اسکول کے تقریباً تمام کلاس فیلوز ایم سی کوتوالی میں داخلہ لے رہے تھے، اور تیسری اور سب سے اہم بات یہ کہ میرے چھ سو نمبروں کے جواب میں چار سو کی پیش گوئی مجھے ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ میرے اندر کہیں گہری چوٹ لگی تھی ، وہ میری انا نہیں تھی میرا خود پھر بھروسہ تھا جسکو ٹھیس پہنچی تھی جسکی وجہ میں نے والد محترم کے گوش گزار کی کہ انکے ساتھ میں دو سال نہیں گزار سکتا، استاد کا مقام بلند رہے تو ہی بہتر ہے. لیکن وہ ایک فقرہ اور اسکے بعد میرا رزلٹ مجھے انسے متنفر کرا گیا. میرا جائز مطالبہ مان لیا گیا اور مجھے ایم سی ہائی سکول داخلہ مل گیا.اس زمانے میں میٹرک کا امتحان ایک ہی ہوا کرتا تھا، آج کل کی طرح نویں اور دسویں کے الگ الگ امتحانات نہیں ہوتے تھے کہ طالب علم پر امتحانی بوجھ کسی قدر آدھا ہو جائے۔ تعلیم کے حوالے سے وہ ایک انتہائی تجرباتی دور تھا، بلکہ اگر اسے مزاحیہ دور قرار دوں تو بے جا نہ ہوگا۔ تقریباً ہر سال امتحانی طریقۂ کار میں تبدیلی آ جاتی۔ کبھی نویں اور دسویں کے امتحانات الگ، کبھی اکٹھے۔ بالخصوص گیارہویں اور بارہویں کے بارے میں تو آخری وقت تک پتا نہیں ہوتا تھا کہ کب، کیا اور کیسے ہونا ہے۔ دسویں کا امتحان بھی اسی اندازے کے ساتھ دیا کہ نتیجہ تقریباً ویسا ہی ہوگا۔ اس بار چھ سو سے چند نمبر کم آئے، مگر اپنے حساب کتاب اور اندازے کی درستی پر اعتماد بدستور قائم رہا۔ اگلے چند سالوں کے لیے پڑاؤ سائنس کالج لائلپور میں مقدر ٹھہرا۔ بچپن ہی سے ہاکی کا شوق تھا، جسے سائنس کالج نے خوب پروان چڑھایا۔ خوب ہاکی کھیلی، البتہ ساتھ پڑھائی بھی جاری رکھی۔ تاہم اس دور کی ایک اور عادت ایسی تھی جو آج تک دامن گیر ہے۔ اسکول یا کالج جاتے ہوئے گھر سے پیسے مانگنے کی کبھی عادت نہیں رہی۔ جو گھر سے جیسے اور جب بھی مل گئے، وہ لے لیے اور چل دیے۔ کچھ نہ ملتا تو چاہے ہفتہ بیت جاتا، مجال ہے جو مانگ لیتا۔ اپنے ہی والدین سے پیسے مانگنا بھی میرے لیے ایک مشکل مرحلہ تھا۔ یہاں تک کہ اس بات پر ڈانٹ پڑتی کہ پیسے نہیں ہوتے تو مانگ لیا کرو۔ لیکن یہ مجھ سے کبھی نہ ہو پایا۔ شاید ایک آدھ مرتبہ چماٹ بھی رسید ہوئی، مگر ہمارا موقف بدستور اٹل رہا۔ عرض کیا کرتا تھا کہ حساب تو آپ نے رکھنا ہے کہ کب کتنے دینے ہیں۔ آپ میری جیب چیک کر لیا کریں، خالی ملے تو کچھ ڈال دیا کریں، مگر میں نہیں مانگ سکتا۔ یہ عادت آج بھی جوں کی توں برقرار ہے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ والدِ محترم نے اسی زمانے میں چین کی ایک سائیکل منگوا کر دی، جس پر لائٹ بھی لگی ہوتی تھی۔ ہمارے جیسی مڈل کلاس فیملی کے لیے وہ محض سائیکل نہیں، گویا شاہی سواری تھی۔ ہاہاہا! اس سواری کا ایک کاروباری استعمال بھی میرے ذہن میں آ گیا اور میں نے خودمختاری کی جانب پہلا قدم اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔ گھر سے ملنے والے پیسے جمع کیے، کچھ عرصہ انتظار کیا اور محدود سرمائے سے اپنا پہلا کاروبار شروع کر دیا۔ کاروبار کی نوعیت بھی خاصی دلچسپ تھی۔ صبح سویرے سیر کے بہانے گھر سے نکلنا، بازار سے چند اخبار خریدنا اور پھر شہر کے مختلف علاقوں میں سائیکل دوڑاتے ہوئے انہیں فروخت کرنا۔ جیسے ہی اخبارات بک جاتے، ہم بھی گھر واپس پہنچ جاتے۔ تھوڑی سی محنت، محدود سرمایہ کاری اور مناسب وقت کے نتیجے میں اچھا خاصا جیب خرچ نکل آتا تھا۔ البتہ اس کاروباری سرگرمی سے میرے گھر والے آج تک بے خبر ہیں۔ گویا میری پہلی کاروباری کامیابی بھی خفیہ رہی اور اس کا آڈٹ بھی آج تک نہیں ہوا!
یہ وہی دور تھا جب لائلپور میں حلقۂ اربابِ ذوق خوب آباد تھا۔ یہ ادبی محفل چنیوٹ بازار کے کسی پلازہ میں منعقد ہوا کرتی تھی۔ آج کل اس کا کیا حال ہے، اس سے لا علم ہوں۔ وہاں بہت سے معروف لکھاری بیٹھتے تھے، بلکہ ملک کے مختلف حصوں سے نامور اہلِ قلم بھی تقریباً ہر محفل میں گاہے بگاہے بطور مہمانِ خصوصی تشریف لایا کرتے تھے۔ یوں کالج کے زمانے ہی میں ادبی فضا سے شناسائی کا موقع ملا۔ سیاست کا شوق بھی اسی زمانے میں انگڑائی لینے لگا۔ جی ہاں، کالج میں داخل ہوئے تو خیال آیا کہ اس میدان کا ذائقہ بھی چکھنا چاہیے۔ اتفاق سے جمیعت کی تنظیم سازی ہو رہی تھی، سو ہم بھی اس قافلے کے ہم سفر ہو لیے۔ پھر کیا تھا، سینے پر جمیعت کا بیج سجائے کلاسوں میں آنا جانا شروع ہو گیا۔ جلد ہی اندازہ ہوا کہ یہ کوئی معمولی تنظیم نہیں بلکہ ایک خاصا طاقتور نظام ہے۔ پنجاب کی حد تک تو مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس زمانے میں جمعیت کا طوطی بولتا تھا اور پورا تعلیمی نظام اس کی ہیبت سے مرعوب رہتا تھا۔ بہرحال، اس کی طاقت اور اثرورسوخ کا ساتھ خاصے عرصے تک میسر رہا۔ دماغ میں ہمیشہ سے الٹے سیدھے سوالات اٹھانے کی بیماری لاحق تھی۔ ایک روز اسی مرض نے ایک مرکزی اجلاس میں سر اٹھایا، جہاں اس وقت کے امیر صاحب بھی تشریف فرما تھے۔ سوال و جواب کی نشست میں ایک ایسا سوال داغ دیا جسے شاید گستاخانہ تصور کیا گیا۔ نتیجتاً ہمیں ایک لات رسید فرمائی گئی، اور اس کے بعد ہم نے سوالات کے بجائے صرف پڑھائی فرمانے ہی میں عافیت جانی! اللہ اللہ کرکے چار سال پورے کیے اور پھر اگلے جہاں جا نکلے۔ یہاں اگلے جہاں سے مراد پنجاب یونیورسٹی لاہور ہے، جو آج بھی اپنے اندر ایک الگ ہی وکھرا جہاں رکھتی ہے۔ ایم اے اردو والا دور دراصل آوارہ گردی کا دور تھا۔ زیادہ تر وقت سفر ہی میں گزرتا۔ کبھی انارکلی کا سفر، کبھی لائلپور سے لاہور اور کبھی لاہور سے لائلپور۔ طالب علم کم اور بس کنڈکٹر کی فیلنگز زیادہ آتی تھیں۔ یوں لگتا تھا جیسے ڈگری سے زیادہ سفری تجربات جمع کیے جا رہے ہوں۔ پھر ہاتھ ذرا کھل گیا تو ایم اے انگلش کو بھی ہاتھ ڈال دیا۔ بظاہر اردو اور انگریزی دو مختلف سمتیں دکھائی دیتی ہیں، لیکن مجھے زبانوں اور لہجوں سے شغف اور ان پر کسی حد تک عبور بچپن ہی سے رہا ہے۔ اس ذوق کا ادراک بھی مجھے خاصی کم عمری میں ہو گیا تھا۔ اسی اثناء میں پاکستان سے ایکسپورٹ ہو گیا۔ کچھ تعلیم و ہنر وہاں سے سمیٹے اور پھر چین، ہانگ کانگ اور ملائیشیا میں کوئی ڈیڑھ دھائی تک انگریزی پڑھائی۔ اس عرصے کا بیشتر حصہ چین اور ہانگ کانگ میں گزرا، جہاں رہتے رہتے چائینیز زبان بھی جذب کرلی۔ یعنی ایک زبان پڑھائی اور ایک خود بھی سیکھ لی۔ تنخواہ و مراعات الگ سے، الحمدللہ! گویا علم و ہنر کے ساتھ کچھ مالی منفعت بھی ہاتھ آتی رہی۔ بعد ازاں پچھلی دہائی کے اواخر میں YHJ ایجوکیشن سسٹم، چائنا ہانگ کانگ سے بطور وائس پرنسپل رخصت لی اور بالآخر پاکستان آن ٹپکا۔
لکھنے لکھانے سے شغف ہمیشہ رہا، مگر پڑھنے سے جان جاتی تھی۔ شکریہ سوشل میڈیا کا کہ جس نے میری یہ مشکل بھی سہل فرما دی؛ اب مجھے پڑھنا نہیں پڑتا، سن لیتا ہوں۔ ردیف و قافیہ سے بھی کھیل لیتا ہوں، وہ مائنڈ نہیں فرماتے... یہ ان کی زرہ نوازی ہے۔ کالج کے زمانے سے لکھنا شروع کیا جو ابتدائی طور پر کالج میگزینز اور پھر اس وقت کے مشھور زمانہ اخبار جہاں میں کچھ جگہ پا لیا کرتا تھا. لیکن بعد ازاں حالات نے پلٹا کھایا تو بیرون ملک دنیا ہی بدل گئی، اس تبدیلی کے نتیجے میں لکھنے کا سلسلہ اس تسلسل سے جاری نہ رہ سکا جس انداز سے شروع ہوا تھا۔ ہاں، اب وطن واپسی ہوئی ہے تو قلم نے بھی وہیں سے دوبارہ اپنا سفر شروع کر دیا ہے۔ بیرون ملک ٹی وی اور فلم میں کام کرنے کے مواقع بھی ملے اسی سلسلے کو پاکستان میں بھی جاری رکھنے کا عزم تھا سو یہ موقع بھی ہاتھ لگ گیا خیر سے اب تک بطور ایکٹر کچھ شارٹ موویز کی ہیں اور کچھ میوزک ویڈیوز کا حصہ بھی ہوں، اور چند منصوبے ابھی زیرِ تکمیل ہیں۔ مستقبل قریب میں ذاتی پروڈکشن ہاؤس کی خبر بھی لیک ہو سکتی ہے؛ سو اہلِ خبر گوش بر آواز رہیں۔ زندگی میں ایک مقام ایسا بھی آیا جب محسوس ہوا کہ جو کچھ کہنا اور لکھنا چاہتا ہوں، اسے محض ردیف و قافیہ کی مالا میں پرونا ممکن نہیں۔ شاعری اپنی جگہ، مگر خیالات کا ایک پورا انبار ایسا بھی تھا جسے دو مصرعوں میں مقید کرنا تقریباً ممکن نہیں لگتا تھا۔ چنانچہ رہنمائی ملی کہ کالم نگاری اس اظہار کے لیے بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی سوچ نے مجھے کالم نویسی کے اکھاڑے میں اتار دیا، اور یوں جنم ہوا ’’نازنامہ‘‘ کا۔
علاوہ ازیں، گھر داری کے اخراجات میں دست گیری کے لیے آج کل آن لائن کاسمیٹکس کے کاروبار سے بھی وابستہ ہوں۔ اسی اثنا میں خود کے ایک اسکن کیئر برانڈ پر بھی کام کیا جو تیاری کے آخری مراحل میں ہے۔ فی الحال ویب سائٹ کا کچھ کام باقی ہے، البتہ برانڈ رجسٹریشن اور مصنوعات کی تیاری کے مراحل الحمدللہ خوش اسلوبی سے پایۂ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں۔ امید ہے کہ جلد ہی یہ منصوبہ بھی باقاعدہ اپنی شناخت کے ساتھ سامنے ہوگا۔ باقی کھوپڑیا میں جو کچھ کاٹھ کباڑ، خیالات، سوالات، مشاہدات اور خیالی پلاؤ پک رہے ہیں، وہ ’’نازنامہ‘‘ میں رفتہ رفتہ آشکار ہوتے رہیں گے۔ آخر انسان کی زندگی ہے بھی کیا. چند تجربات، کچھ مشاہدات، تھوڑے سے اعترافات اور بہت سے انکشافات! سو یہ تھا میرا مختصر سا تعارف، جو طوالت کے باعث مختصر ہونے سے رہ گیا۔ باقی ملاقات رہے گی، کبھی کسی شعر میں، کبھی کسی کالم میں اور کبھی کسی نئے قصے میں۔
مزید پڑھیں






